طالبان امریکہ امن معاہدہ کی پاسداری کریں

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے سے افغانستان میں قیام امن اور اس پیچیدہ مسئلے کے حل کی جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں فریقین اور کابل حکومت وطالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاملات پر اختلافات اور طالبان کے مسلسل جاری تابڑ توڑ حملوں کے باعث امن عمل خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ امریکہ نے طالبان پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دے کر دبائو ڈالنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن یہ دبائو کارگر ہوتا تو امریکہ وطالبان کے درمیان بات چیت اور امن معاہدہ کی نوبت ہی نہ آتی، بہتر صورت یہ ہے کہ معاملے کے تینوں فریق براہ راست مذاکرات کے ذریعے امن معاہدے کی پاسداری میں مشکلات اور ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں طالبان اب جبکہ کابل حکومت کیساتھ قیدیوں کے تبادلے اور رہائی کی حد تک معاملات شروع کر چکے ہیں تو ان کیساتھ مذاکرات میں بیٹھنے میں بھی حرج نہیں طالبان کی جانب سے مسلسل حملوں کے ذریعے کابل فتح کرنے کی حکمت عملی خونریز اور ناقابل عمل منصوبہ ہے جس کی کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی، یہی صورتحال رہی تو افغانستان میں استحکام اور امن کی بحالی کی راہ کٹھن ہو جائے گی۔ امریکہ کو بھی دھمکی آمیز لب ولہجہ اختیار کرنے کی بجائے تحفظات دور کرنے کیلئے طالبان سے بات چیت کا طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے، طاقت کے استعمال کی پالیسی کا حشر امریکہ سے بڑھ کر کسے علم ہوگا؟ ایک ممتاز امریکی اخبار گزشتہ دنوں سرکاری دستاویزات کی روشنی میں انکشاف کر چکا ہے کہ امریکہ بہت پہلے یہ جنگ ہار چکا تھا لیکن قیادت یہ چھپا رہی تھی اور اٹھارہ سال بعد امریکہ نے طالبان سے معاہدہ کر کے اپنی افواج کی افغانستان سے محفوظ واپسی کا راستہ تلاش کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان سے مقررہ مہینوں کے اندر اپنی افواج کی واپسی کو یقینی بنانا ہے،جس کی پاسداری ہی بہتر راستہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر افغانستان میں جنگ وجدل کی بجائے افغانستان میں پائیدار امن کیلئے افغان گروپوں میں مفاہمت اور اشتراک عمل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔طالبان نے معاہدے کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا جس کی پابندی ان پر لازم ہے، افغانوں کو خونریزی اور باہم تصادم سے پیدا ہونے والے سنگین حالات کی غلطی اب نہیں دہرانی چاہئے، یہ طالبان سمیت تمام افغان گروپوں کا امتحان ہے کہ وہ اپنے اختلافات کے باوجود ایک متفقہ سیاسی نظام تشکیل دیں اور قومی تعمیر نو کیلئے متحد ہو کر کام کریں۔
علمائے کرام سے دردمندانہ گزارش
پشاور کی اہل تشیع برادری کی جانب سے ماتمی جلوس اور مجالس کے انعقاد کا اعلان نظرثانی کا حامل امر ہے، واضح رہے کہ سندھ کی حکومت جلوس اور مجالس پر پابندی عائد کر چکی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں حکومت نے ابھی اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا، اس کے باوجود عزاداری جلوس اور مجالس پر پابندی قبول نہ کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔ کورونا وائرس کے پھیلائو میں ابتدائی دنوں ہی میں مذہبی طبقے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا رہا جس سے اتفاق ضروری نہیں البتہ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ایران سے واپس آنے والے زائرین اور تبلیغی اجتماع سے ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچنے والوں میں کورونا وائرس کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ بہرحال اس سے قطع نظر خوش آئند امر یہ ہے کہ ملک بھر کے علماء نے عمر، صحت اور حفاظتی اقدامات کی شرائط کیساتھ باجماعت نماز کی ادائیگی کرنے پر اتفاق کیا۔ ایران اور سعودی عرب میں حکومتی پابندیوں اور اقدامات کا پورا پورا احترام کیا گیا جس کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان میں بھی عوام حکومتی پابندیوں کا احترام کریں مگر عام مشاہدہ ہے کہ پاکستانی عوام نے لاک ڈائون کی پابندیوں کی کسی طور پر واہ نہیں کی، عوام کے اس طرزعمل کی توقع علمائے کرام اور مذہبی ودینی طبقات سے نہیں کی جا سکتی، باشعور لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ حکومت کی پابندیاں کسی سخت گیری کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی حکومتوں کے کوئی فرقہ وارانہ اور سیاسی عزائم ہیں بلکہ حکومت عوام کے تحفظ کی ذمہ داری کے طور پر کوشاں ہے کہ وباء شدت نہ اختیار کر جائے۔ حکومت پر یہ اعتراض بہرحال بجا ہے کہ حکومت صرف مساجد اور امام بارگاہوں ہی میں جسمانی فاصلے اور حفاظتی اقدامات پر زور دے رہی ہے باقی پابندیاںاور احتیاط کہیں نظر نہیں آتا۔ اس بجا اعتراض کے باوجود ہم اہل تشیع علمائے کرام اور بھائیوں سے یہی گزارش کریں گے کہ وہ یوم علی کے موقع پر اگر اپنے اجتماعات اور جلسے جلوس جتنا محدود کرسکتے ہیں ضرور کریں۔جلسے جلوس اور اجتماعات میں فاصلہ رکھنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کی پابندی کافی مشکل امر ہے، رمضان المبارک کی ان ساعتوں میں حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی سخت دبائو کا شکار ہے جن سے تعاون کا تقاضا یہ ہے کہ اس اعلان پر نظرثانی کی جائے اور تعاون کا مظاہر ہ کیا جائے۔ صوبائی حکومت کو علمائے کرام سے رابطہ کر کے ان سے گزارش کی جانی چاہئے کہ وہ جتنا محدود اور کم سے کم اجتماعات کر سکتے ہیں حفاظتی اقدامات کی رعایت کیساتھ ضرور کریں اور تعاون کریں۔