کرکٹ میچز کی معطلی کا معاملہ صرف انگلینڈ کو 380 ملین پاؤنڈز کا نقصان

ویب ڈسک : کورونا سے جہاں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی ہے وہاں کرکٹ میچز کی معطلی سے کرکٹ بوردز کو بھی شدید نقصانات ملے ہیں،

کرونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر کرکٹ میچز کی معطلی سے کرکٹ بورڈز پریشان ہیں۔ صرف انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو موسم گرما میں میچز نہ ہونے کی وجہ سے 380 ملین پاؤنڈز کا خسارہ ہو گا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال مقامی کلبس اور کرکٹ بورڈ کے لیے بدترین ہے۔ اگر مسلسل 800 دن تک کرکٹ کھیلی جائے تو ہی یہ نقصان پورا ہو سکے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ہیریسن نے برطانوی حکومت کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس کمیٹی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کرکٹ سیزن دو اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب جولائی کے آغاز تک کوئی میچ نہیں کھیلا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی ماہ سے کھیلوں کا کوئی ایک مقابلہ بھی نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔

ہیریسن نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انگلش کرکٹ بورڈ کو سب سے بڑے معاشی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹام ہیریسن نے اسپورٹس کے ایک نئے مقابلے ‘دی ہنڈریڈ’ کو منافع بخش قرار دیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ پہلے سال اس مقابلے سے 11 ملین پاؤنڈز کی آمدنی ہونا تھی تاہم کووڈ 19 کے سبب اسے بھی ملتوی کیا جا چکا ہے۔

ہ انگلینڈ کی فرنچائز ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا انعقاد رواں برس موسم گرما میں ہونا تھا جسے ‘دی ہنڈریڈ’ کا نام دیا گیا تھا۔

کرونا وائرس کی وجہ سے انگلینڈ کی ویسٹ انڈیز کے ساتھ جون میں ہونے والی تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز بھی موسم گرما کے آخر تک ملتوی کی جاچکی ہے۔

انگلینڈ کو جولائی میں آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ میچوں کی سیریز کے علاوہ جولائی، اگست میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنا ہے۔

ہیریسن کو اب بھی توقع ہے کہ کچھ ٹیسٹ میچ بغیر تماشائیوں کے کھیلے جائیں گے تاہم اس میں بھی بورڈ کو تقریباً ایک کروڑ پاؤنڈز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اُن کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنے والے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی پیچیدگیوں کے سبب ٹیموں کو رضامند کرنا، حکومتی ہدایات پر عمل اور کھلاڑیوں کی رضا مندی میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔

اس تمام صورتِ حال کے باوجود انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ موسم گرما میں قابل ذکر تعداد میں ٹیسٹ میچز کھیلے جاسکیں گے جو اس مالی خسارے کو دور کرنے میں مدد دے گا جس کا اس وقت انہیں سامنا ہے۔