یکساں کورونا پالیسی کا معاملہ

عدالت عظمیٰ میں کورونا وباء سے متعلق معاملات کی ازخود نوٹس سماعت کے دوران دوسری مرتبہ عدالت کی جانب سے جو ریمارکس دئیے گئے ہیں حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا اور اصلاح احوال پر مزید توجہ دینا ہی اس کے مفاد میں ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان عدم تعاون اور ملک میں ایک کورونا پالیسی نہ ہونا یقیناً قابل غور امر ہے، صرف یہی نہیں لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کے بیانات اور حکومتی فیصلوں کا برعکس ہونا وزیراعظم کی ایلیٹ کو حالات کا ذمہ دار قرار دینا جیسے امور ملک میں مستحکم حکومت اور حکومتی فیصلوں کے کمزور اور اس پر اثراندازی کا واضح اظہار ہیں جو حکومت ملک اور عوام کسی کیلئے بھی نیک شگون نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وقت محاذ آرائی اور شکوہ وجواب شکوہ کا نہیں اور نہ ہی مداخلت کی گنجائش ہے، حکومت کو یکسوئی کیساتھ فیصلے کرنے چاہئیں۔ کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قائم کردہ قومی رابطہ کونسل ایک موزوں ادارہ ہے جس کے فیصلوں کی پابندی ہونی چاہئے، پوری طرح بحث مباحثہ کے بعد جب کسی فیصلے کا اعلان ہو تو پھر اس کی مخالفت یا اس پر تنقید اور شکوہ شکایات مناسب نہیں، اس طرح کے طرزعمل سے سوائے غلط فہمیاں بڑھنے اور مایوسی میں اضافہ کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ حکومت کو حالات کا بغور جائزہ لینے باہم مشاورت اور صوبوں کیساتھ پوری طرح مشاورت کے بعد ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے فیصلہ کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، کسی صوبے کا الگ فیصلہ اس کا حق ضرور ہے البتہ اگر صوبے اتفاق رائے کیساتھ فیصلہ کرنے اور فیصلے پر عملدرآمد میں تعاون کریں تو یہ ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہوگا، جہاں تک کورونا کا معاملہ ہے چونکہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں اور نہ ہی اس سے مفادات وابستہ ہیں یہ پورے ملک کا اور قومی مسئلہ ہے اس ضمن میں ماہرین کی رائے کو مقدم رکھا جانا ہی مصلحت ہوگی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر ایک ہفتے کے اندر یکساں کورونا پالیسی تشکیل دے گی اور ملک میں یکساں نظام لاگو ہوگا۔ چیف جسٹس کے شفافیت کے فقدان، سارے کام کاغذوں میں ہونے اور آڈٹ ہوگا تو پتہ چلے گا کہ اصل میں کیا ہوا؟ نہایت سنجیدہ قسم کے بروقت سوالات اور تبصرہ ہے، اس عہدے پر متمکن عہدیدار سے کسی غیرسنجیدہ ریمارکس کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی۔ علاوہ ازیں امدادی معاملات کبھی شفاف نہیں نکلتے، صورتحال کی نشاندہی کے باوجود اگر حکومت نے سنجیدگی سے معاملات کو صاف وشفاف بنانے پر توجہ نہیں دی تو بعد کے حالات کی جوابدہی حکومت کیلئے آساں امر نہ ہوگا۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال یا کورونا کی نرسری
ہسپتالوں کے عملے کا بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کا شکار ہونا اور ڈاکٹروں وطبی عملے کی شہادت کے واقعات صحت اور ہسپتالوں کے نظام کیلئے بڑا دھچکہ اور نہایت خطرناک صورتحال ہے، صرف خیبر پختونخوا نہیں ملک بھر کے ڈاکٹروں کی ایک عام شکایت مناسب حفاظتی سامان کی کمی اور نہ ہونے کی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر سمیت چالیس کے لگ بھگ میڈیکل آفیسرز کے کورونا سے متاثر ہونے کی لیبارٹری رپورٹ میں تصدیق اس امر کا ثبوت ہے کہ خودمختار لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے حفاظتی سامان اور صفائی ستھرائی اور وارڈوں کو جراثیم سے پاک کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی، اس غیرذمہ داری کا حکومت کو سخت نوٹس لینا چاہئے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ سب سے زیادہ خطرے اور مشکل حالات کا شکار ہیں، یہ لوگ ویسے بھی نہایت قیمتی اور قابل قدر لوگ ہیں، موجودہ حالات میں ان کی قدر وقیمت کا اب تو مزید اندازہ ہونا چاہئے۔ بہتر ہوگا کہ ایک اعلیٰ سطحی ٹیم لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں حفاظتی اقدامات اور حفاظتی سامان کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لے اور جتنا جلد ممکن ہوسکے ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں جو ضروری ہوں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کا بالخصوص اور دیگر ہسپتالوں میں مسلسل خدمات انجام دینے والوں کا بالعموم ٹیسٹ کروائے جائیں ان کے تحفظ کے جو بھی ممکنہ اقدامات ضروری ہوں ان میں تاخیر نہ کی جائے۔