مغرب اور جمہوریت کا ”مودی ماڈل”

علامہ اقبال نے جس مغربی جمہوریت کو جمہوری تماشاکہا تھا لگتا ہے اب اپنے کرتب وکمالات سمیت طبی عمر پوری کر چکا ہے۔ مغربی جمہوریت کا حسن اس کی حریت فکر اور عمل اس کا پلورل ازم اور احترام انسانیت تھا۔ ہر تہذیب کی کچھ بنیادیں ہوتی ہیں اور یہ عمارت ان بنیادوں کے کمزور ہونے پر لرزنے لگتی ہے۔ مغربی تہذیب اور جمہوریت کی عمارت اپنی بنیادوںپر جب تک کھڑی رہی اس کا ڈنکا بجتا رہا۔ سرد جنگ کے سخت دور کے باوجود یہ اپنا وجود منوانے میں کامیاب رہی۔ مغربی جمہوریت نائن الیون کا چرکہ بھی کامیابی سے سہہ گئی۔ نائن الیون نے مغرب کا ایک نقصان تو جڑواں میناروں کی تباہی اور چند ہزار افراد کی ہلاکت کی صورت میں کیا۔یہ ایسا نقصان تھا جو دکھائی بھی دیا اور اسے محسوس بھی کیا گیا، اس کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی مگر یہ واقعہ مغرب کے اعصاب پر کچھ اس انداز سے سوار ہوگیا کہ مغرب کی طاقت اور ثقافت کی علامت امریکہ نے اپنی تمام پالیسیاں اس واقعے کے تناظر میں ترتیب دینا شروع کیں۔ امیگریشن کے قوانین بدل دئیے گئے، سرحدوں پر کڑی پابندیاں عائد کی گئیں، خطرے کے پیشگی حملے کے نام پر مسلمان ملکوں کے سول سٹرکچر ادھیڑ کر رکھ دئیے گئے اور اس دوران ابوغریب اور گونتا ناموبے جیسے شرمناک افسانے تحریر کئے گئے کہ مدتوںانسانیت شرمسار اور نادم رہے گی۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے آزادیوں کو محدود کرنے کیلئے سخت فیصلے کئے گئے۔ پہلے میڈیا کو اپنے ٹینکوں پر بٹھا کر عراق کے اقتدار اعلیٰ کو تاراج کرنے کی عکس بندی اور رپورٹنگ کی نئی طرح ڈالی گئی، بعد میں اس میڈیا کو دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر جیب میں ڈال دیا گیا۔ باہر سے آنے والوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی جو خوبی مغربی ملکوں اور جمہوریتوں کی پہچان تھی نائن الیون کے بعد ردعمل کی زد میں آتی چلی گئی اور یوں مغربی جمہوریتوں کے اس ردعمل نے باہر سے آنے والوں بالخصوص مسلمانوں کیخلاف ایک سخت گیر سفید فام ذہنیت پیدا کر دی۔ ایک دور میں بھارت میں ہندوتوا محض معاشرے کے ایک طبقے کی سوچ تھی اور ساٹھ وستر کی دہائیوں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتاتھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہ سوچ بھارتی ریاست کااجتماعی نظریہ اور حکمت عملی کی کلید بن چکی ہو گی۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد سفید فام نسل پرستانہ سوچ کے اثرات مغربی جمہوریت اور پلورل ازم کو بہت آہستہ روی کیساتھ متاثر کررہے ہیں۔ نائن الیون کے بعدمغربی ملکوں نے جو سخت گیر پالیسیاں اختیار کیں اس نے مغرب کو اپنی پرکشش بنیادوں سے محروم کرنا شروع کیا۔ نیوزی لینڈ کا واقعہ سفید فام ''مودی ازم ''کی راہ کا ایک اہم پڑائو تھا۔ نائن الیون کے بعد کورونا وائرس کا بحران اب اس سخت گیری کے سفر کو مزید تیز تر کردیگا۔ اس طرح حفاظت اور خطرات سے بچائو کے نام پر بننے والے سخت گیر قوانین، سماج میں اُبھرنے والی تقسیم اور تفریق کی نئی لکیر، آزادی اظہار اور اطلاع اور ابلاغ پر کنٹرول کی کوشش کے باعث مغربی ملکوں کی جمہوریت کچھ ایسی ہو کر رہ جائے گی کہ اس کی شناخت ہی ممکن نہیں رہے گی گویا کہ فریم جمہوری ہوگا تصویر آمرانہ ہوگی، بوتل جمہوریت ہوگی تو اس میں موجود مشروب آمریت ہوگا۔ یہ جمہوریت زیادہ کھل کر سفید فام اکثریت کے مفادات کی اسیر ہو کر رہ جائے گی۔ مغرب کے سامنے اب جمہوریت کا ''مودی ماڈل'' آگیا ہے۔ شعوری طور پر مغرب اب اسی ماڈل کی طرف لڑھکتا جا رہا ہے۔ اس ماڈل میں مسلمانوں کا مقام اور مرتبہ کیا ہے زیادہ محتاج وضاحت نہیں۔ اچھی بھلی پرسکون زندگی گزارنے والے بھارتی مسلمانوں کو جمہوریت کے اس انداز نے پریشاں حال کرکے سڑکوں پر لاکھڑ ا کیا۔ مسلمان پارلیمنٹ اور عدلیہ سے مایوس ہو کر اپنی گزری ہوئی نسلوں کی ازسرنو شناخت کرانے کی ناروا عمل پر سراپا احتجاج اور سراپا سوال ہیں کہ آخر صدیوں بعد اس تحقیق کی ضرورت کیا تھی۔ مغرب میں تو مسلمانوں کی دوسری اور تیسری نسل رہ رہی ہے مگر بھارت میں تو یہ صدیوں کے تاریخی عمل کا حصہ اور صدیوں کے عروج وزوال کے ہر سفر کے ہم راہی ہیں۔ جمہوریت کے مودی ماڈل نے مسلمان عورتوں کو کچن سے اُٹھا کر دہلی کے شاہین باغ دھرنے میں لابٹھایا، جوں جوں مغربی جمہوریت اس راہ پر چلے پڑے گی مغربی ملکوں میں موجود مسلمان آبادیوں کی مشکلات بڑھتی جائیں گی۔ مغرب میں صفوں کی ترتیب اور تنظیم کا کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کیئر سٹارمر کا مسئلہ کشمیرکو پاکستان اور بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینا دنیا کی جمہوریتوں کی ماں برطانیہ کی صدیوں پرانی جماعت لیبر پارٹی کے موقف کی ترتیب نو کا اشارہ ہے،
لیبر پارٹی نے اگر انتخابی، سیاسی اور تجارتی فائدے کیلئے دوہاتھ آگے بڑھنے کی کوشش پیہم کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ'' جمہوریت کی ماں'' کہلانے والا برطانیہ بھی غیرسفید فاموں بالخصوص مسلمانوں کیلئے سوتیلی ماں ہو کر ہ جائے گی۔اپنی اصل بنیاد سے ہٹنا مغربی جمہوریت کو آخر کار انجام تک پہنچا دے گا پھر اس نظام میں پارلیمنٹ بھی ہوگی الیکشن بھی ہوں گے جلسے جلوس بھی ہوں گے کابینہ اور جمہوریت کے دوسرے لوازم بھی بظاہر موجودہوں گے مگر اس نظام میں جمہوریت نہیں ہوگی اور یہ منظر ہم آج بھارت میں دیکھ رہے ہیں ۔جہاں پارلیمانی اور مغربی جمہوریت کا ہر تقاضا پورا ہے مگر جمہوریت کی روح کہیں غائب ہے اور یہی جمہوریت اور فسطائیت کے درمیان باریک سا فرق ہوتا ہے۔