ٹی ایم اوز کی بدعنوانی، نجی سکولز اور بی آرٹی

بعض محکمے بدعنوانی کیلئے خاص طور پر مشہور ہیں جن میں بلدیات کے محکمے کا بھی نام آتا ہے، اسی محکمے کے ایک دردمند آڈٹ آفیسر نے برقی پیغام میں لوکل گورنمنٹ میں گریڈ سولہ کے تحصیل میونسپل آفیسرز کی کمیشن خوری اور مختلف مصارف اور اخراجات میں بے تحاشہ کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔ نشاندہی کا لفظ اس لئے شاید مناسب نہیں کہ یہ نوشتہ دیوار اور عام بات ہے ہر کسی کو علم ہے کہ لوکل گورنمنٹ کے دفاتر میں کیا چلتا ہے، بہرحال موصوف آڈٹ آفیسر ہیں اسلئے ان کی گواہی اور نشاندہی مصدقہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بطور آڈٹ آفیسر یہ سب کچھ ہوتے دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی او ایل، ٹی اے ڈی اے میں دل کھول کر ہیر پھیر ہوتی ہے۔ ٹینڈر، ورک آرڈر اور ہر بل میں آٹھ فیصد کمیشن طے ہے، اس کے بغیر کام ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ انہوں نے بڑی مثبت بات یہ کی ہے اور اس کرپشن کا راستہ روکنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے کہ محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے ٹی ایم ایز کیلئے اکاؤنٹ نمبر پانچ اور نیبر ہوڈ کونسلز اور وی سیز کیلئے اکاؤنٹ نمبر چھ متعارف کرایا ہے لیکن اس کی راہ میں روڑے اٹکا کر اس طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس طریقہ کار پر عمل درآمد سے حکومتی محاصل اور وسائل ان اکاؤنٹس میں جمع ہوں گے اور بلدیاتی اداروں کو مقررہ ملے گی جس سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ نہیں تو اس میں کمی ضرور آئے گی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اکاؤنٹ پانچ اور چھ پر جلد سے جلد عمل درآمد کر کے محکمہ خزانہ بدعنوانی کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کی دانست میں اس طریقہ کار سے نوے فیصد کی مالیاتی بہتری ممکن ہے۔ مسئلے کی نشاندہی بھی ہوگئی محکہ خزانہ وضع کردہ طریقہ کار کا بھی ذکر ہوا، اب وزیرخزانہ خیبر پختونخوا اور سیکرٹری خزانہ وبلدیات اس امر کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھائیں اور بس۔ اکثر وبیشتر اور عام طور پر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ سارے نجی سکول مالکان کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوگا لیکن ایک فیصد مالکان ہی اس پر پورا اُترتے ہیں اگر دوسرے دس فیصد کو بھی شامل کریں تو کل گیارہ فیصد نجی سکولز درجہ بندی کے لحاظ سے نہایت منافع بخش کاروبار ہے جسے تعلیم کی تجارت کا نام دیا جائے یا تعلیمی مافیا کا کم ازکم ایک عام آدمی یہی سوچتا اور سمجھتا اور ان سکولوں کے حوالے سے لوگوں کے یہی جذبات ہیں۔ نجی سکولز مالکان کا اثر ورسوخ ہر حکومت میں ان کا حصہ اور عدالت تک میں ان کی حیثیت اپنی جگہ، آج ملنے والے برقی پیغام سے نوے فیصد سکول مالکان کے عمومی مسائل اور خاص طور پر یہ کاروبار شروع کرنے والوں کے ابتدائی مسائل کی نشادہی ہوئی ہے۔ خیبر ایجنسی سے نجی سکول کے مالک عمران مائل کا برقی پیغام بلاتبصرہ شامل کالم ہے، اس جامع پیغام سے صورتحال واضح ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے، گاؤں کے ایک چھوٹے نجی سکول کا مالک ہوں، سکول کھولے دوسرا سال ہے اور سکول مکمل خسارے میں ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں، عمارت کا کرایہ اور ساتھ ساتھ پی ایس آر اے کے جاری مالی سال اور بورڈ رینول کے اخراجات کی عدم استطاعت پریشانی کا باعث ہے، حکومت اگر اس قسم کے سکولوں کی رینول فیس ہی کم ازکم معاف کرے اور چند سالوں کیلئے رعایت دے تو چھوٹے سکول بند ہونے سے بچ جائیں گے۔ حکومت نے چھوٹے کاروبار کیلئے جو امدادی رقم وقرضے دینے کا اعلان کیا ہے اس میں اس طرح کے حقیقی ضرورتمندوں کو سہولت اور مواقع میسر آجانے چاہیئں۔ بی آر ٹی پر میڈیا کی سخت تنقید کے باوجود اس میں کام کرنے والے ایک محنت کش کو شکایت ہے کہ میڈیا کے رپورٹرز کی بی آر ٹی والوں سے ملی بھگت ہے اور وہ صرف اس کے شروع نہ ہونے کا سیاسی پروپیگنڈہ تو کرتے ہیں مگر اس کے کارکنوں پر کیا بیت رہی ہوتی ہے اس پر کسی نے ایک لفظ تک نہیں لکھا۔ بہرحال ان کی شکایت یہ ہے کہ بی آرٹی کے محنت کشوں کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، اس کے باوجود وہ کورونا اور رمضان کی مشکلات میں بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔ کھانا، بجلی، پانی کی سہولت نہیں اور رہائش کا مسئلہ ہے۔ ٹھیکیدار کو کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کا محکمہ محنت وافرادی قوت کو نوٹس لینا چاہئے، ہر ٹھیکیدار کا محنت کشوں سے یہی رویہ اور یہی سلوک ہوتا ہے۔ نجی اداروں میں لیبر لاز کی پابندی کرنے اور پابندی کرانے والا کوئی نہیں۔ اس شکایت کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور اربوں روپے کمانے والی کمپنیوں کے مالکان اور انتظامیہ کو ادائیگی کرتے ہوئے حکومتی ادارے کم ازکم اتنا تو خیال کریں کہ اربوں میں سینکڑوں ان محنت کشوں کے حصے میں بھی آئے جو دن رات خون پسینہ ایک کر کے منصوبہ پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر حکومتی امداد کے حوالے سے برقی پیغام ہے یہ پیغام عمومی شکایات سے ہٹ کر ایک سوال ہے جو واقعی قابل غور اور لائق ہمدردی ہے۔ ایک معمر جوڑے نے سوال کیا ہے کہ اگر کسی کے ایک دو بیٹے بیرون ملک روزگار پر ہوں لیکن وہ اپنے سترسال سے زائد عمر کے والدین کی مالی مدد نہ کرتے ہوں تو کیا حکومت کو ان کی کفالت اور دستگیری نہیں کرنی چاہئے؟ بالکل کرنی چاہئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس گھرانے کے افراد باہر ہوں، حکومت سمجھتی ہے ان اولاد کو والدین کی کفالت کرنی چاہئے، یہ ان کا فرض ہے۔ حکومت جس نظام کے تحت لوگوں کا وظیفہ مقرر کرتی ہے اس معیار پر اس قسم کے والدین اور اہل خاندان پورا نہیں اُترتے، مشکل یہ ہے کہ حکومت کیسے معلوم کرے کہ بچے والدین کی کفالت سے انکاری ہیں، بہرحال متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے مشکل سے آگاہ کیا جائے تو کوئی صورت نکل آئے گی جو اولاد والدین سے اس قسم کا سلوک کرتے ہیں ان کو اس دنیا میں ہی اس کا سامنا اور جواب دینا پڑے گا، آخرت کی جوابدہی سے تو بچنا ویسے بھی نا ممکن ہے۔ اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کریں۔