کورونا، فیصلے جذبات پر نہیں حالات کی روشنی میں کیجئے

این سی اوسی کے بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں لاک ڈائون میں مزید ریلیف دینے کے حوالے سے دی گئی تجاویز میں سے بیشتر پر سندھ ،پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے تحفظات ظاہر کئے ہیں۔ تینوں صوبے ریل اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کیخلاف ہیں۔ تجارتی مراکز کو ایس او پیز کے تحت محدود وقت کیلئے کھولنے پر آمادہ پالیسی سازوں کے پیش نظر غالباً یہ بات نہیں ہے کہ لاک ڈائون میں قبل ازیں کی گئی نرمی کے دوران عوام نے جس لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اس کی وجہ سے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد24ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد564 تک پہنچ چکی۔لاک ڈائون سے پیدا شدہ مسائل پر دو آراء نہیں مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کے حل تلاش کرنا اہمیت رکھتا ہے یا شہریوں کو اجتماعی خودکشی کی طرف دکھیلنے والی پالیسی؟۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ پچھلی مرتبہ لاک ڈائون میں کی گئی نرمی سے عام شہریوں، دکانداروںاور کھولی گئی صنعتوں کے مالکان نے ایس او پیز پر عمل کیا؟سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر عمل کیا گیا ہوتا تو لگ بھگ بارہ دنوں کے دوران کورونا کے مریضوں میں 13ہزار کا اضافہ نہ ہوا ہوتا۔ بہت افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ عوام الناس کو اب بھی کورونا کے سنگین خطرات کا احساس نہیں وہ مصنوعی زعم اور ڈھکوسلوں سے زندہ رہنے کو کمال سمجھ رہے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ فیصلہ بہرطور قومی رابطہ کمیٹی کو ہی کرنا ہے لیکن یہ عرض کردینا بہت ضروری ہے کہ ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے کورونا کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں۔ترقی کا عمل، کاروبار،معمولات زندگی یہ سب انسانی زندگیوں سے اہم نہیں، قومی رابطہ کمیٹی کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے طبی ماہرین اور حالات کو بہرطور سامنے رکھے۔
منافع خوروں کی چاندی کا مہینہ
لاک ڈائون کے دوران روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی خریدوفروخت کی اجازت دیئے جانے کے بعد یہ شکایات سامنے آئی تھیں کہ دکانداروں نے مختلف اشیاء سبزیوں اور گوشت وغیرہ کے نرخ مرضی سے مقرر کر لئے ہیں۔ سفید پوش اور غریب طبقات مہنگائی کے اس عذاب سے ہی سنبھل نہیں پائے تھے کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی آمد کیساتھ ہی مہنگائی کا نیا ریلہ آگیا۔ مثال کے طور پر رمضان سے دو دن قبل لیمو120 روپے کلوتھے لیکن یکم رمضان کو520روپے کلو تک فروخت ہوئے۔ یہی صورتحال دوسری اشیا کے حوالے سے ہے، مہنگائی کے اس''ڈبل''پروگرام سے عوام کی کھال اُتارنے والوں کیخلاف حکومتی اداروں کی اب تک کی کارکردگی صفر ہے مگر یہاں یہ عرض کردینا بھی مناسب ہوگا کہ تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کو بھی اپنی ادائوں پر غور کرنا چاہئے۔ مہذب معاشروں کے مختلف طبقات آڑے وقتوں میں ایک دوسرے سے تعاون کر کے زندگی کو آسان بناتے ہیں، بد قسمتی سے ہمارے یہاں آڑے وقت میں صارفین کی کھال اُتار لینے کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے، یہ صورتحال شرمناک حد تک قابل مذمت ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کسان دشمن رویہ
بدھ کو وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گرما گرم بحث کے بعد خام کپاس کی فی من امدادی قیمت4224 روپے مقرر کرنے کی سمری مسترد کردی گئی اس نامناسب فیصلے پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ارکان کیا اس امر سے لاعلم ہیںکہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران بجلی،ڈیزل،زرعی ادویات،کھاد وغیرہ کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا اور اضافی اخراجات کی وجہ سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار پرکتنا مالی بوجھ بڑھ گیا؟صاف سیدھے الفاظ میں یہ عرض کردینا ضروری ہوگیا ہے کہ گنا،گندم اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوارپر پچھلے سالوں کے مقابلہ میں40سے75فیصد تک اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔سرمایہ داروں، بڑے تاجروں اور دیگر کو مراعات دیتی حکومت(وہ ماضی کی ہو یا موجودہ)کاشتکاروں کو ریلیف تو کیا دیتی، ان کے فی ایکڑ اخراجات کو مدنظر رکھ کر تینوں فصلوں کی امدادی قیمت بھی مقرر نہیں کر پائی۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ ہماری رائے میں کاشتکاروں کا یہ مطالبہ درست ہے کہ کپاس کی فی من امدادی قیمت55سو روپے ،گنے کی250روپے اور گندم کی 1500روپے مقرر کی جانی چاہئے۔