بھارت کا ویت نام؟

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک آپریشن کے دوران حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو المعروف محمد بن قاسم کو ایک ساتھی سمیت شہید کر دیا۔ چالیس سالہ ریاض نائیکو ریاضی کے اُستاد تھے اور دس برس ایک ایسے واقعے سے متاثر ہو کر مسلح تحریک میں شامل ہوئے تھے جس میں ان کے ایک قریبی رشتہ دار کو بھارتی فوج نے شہید کیا تھا۔ ریاض نائیکو بھارت کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں تھے اور ان کے سر پر بارہ لاکھ کا انعام مقرر تھا۔ ریاض نائیکو مقامی عسکریت کے اس سے متحرک منصوبہ ساز سمجھے جاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ریاض نائیکو کے والد اسد اللہ نائیکو نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر کوئی افسوس نہیں کہ ان کے بیٹے نے بندوق اُٹھائی ہے۔ شرمندگی تب ہوتی کہ اگر وہ منشیات فروشی یا کسی اور اخلاقی جرم کا ارتکاب کرتا اس نے ایک درست راستے کا انتخاب کیا ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ جلد یا بدیر ان کے بیٹے کی لاش ہی گھر آئے گی اور جب بھی کسی فوجی آپریشن میں کوئی مجاہد شہید ہوتا ہے انہیں یوں لگتا ہے کہ شاید یہ ریاض نائیکو ہی ہو۔ ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد شمالی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی اور پورے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ آپریشن کے انچارج فوجی نے مقامی میڈیا کے سامنے ریاض نائیکو کی شہادت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور یہ لفظ دہرانے سے بھی احتراز کیا اس ہلاکت سے عسکریت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ عسکریت کی کمر ٹوٹنے کی بات گزشتہ تیس برس میں ہر اس موقع پر بھارتی فوج نے دہرائی ہے کہ جب کوئی نامور اور انتہائی مطلوب مجاہد شہید ہوا۔ 1990میں کشمیر کی مسلح تحریک کے پہلے نامور حریت پسند اور لبریشن فرنٹ کے چیف کمانڈر اشفاق مجید وانی کی سری نگر میں ایک پولیس مقابلے میں شہادت کے وقت کمر توڑنے کا پہلا دعویٰ سامنے آیا تھا اس کے بعد سے سروں کی ایک قطار سی بنتی چلی گئی جن میں مشہور گوریلا کمانڈر عبداللہ بنگرو، اشرف ڈار، مقبول علائی، علی محمد ڈار، غلام رسول ڈار، حمید شیخ سمیت درجنوں افراد شامل تھے جن کی مسلح تصادم میں شہادت پر بھارتی فوجیوں نے عسکریت کی کمر توڑنے کا دعویٰ کیا مگر حقیقت میں ہر موت کے بعد کشمیر میں عسکریت نہ صرف تیز ہوتی گئی بلکہ عسکری رجحان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک برہان وانی اور ذاکر موسیٰ کی شہادتوں کے بعد بھی کمر توڑی نہ جا سکی اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار بھارتی فوجی نے مقامی صحافی کے وضاحت کیساتھ پوچھنے کے باجود کمر توڑنے کا دعویٰ کرنے سے گریز کیا۔ البتہ ریاض نائیکو کی موت سے چند دن قبل تحریک حریت کشمیر کے سربراہ محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کشمیر میں ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جسے وہ کبھی نہیں جیت سکتا۔ صحرائی کا یہ بیان محض نعرہ مستانہ نہیں تھا کیونکہ اشرف صحرائی کا سکالر بیٹا جنید صحرائی ریاض نائیکو کا دست راست سمجھا جاتا ہے اور ریاض نائیکو کیساتھ جنید صحرائی کی شہادت کی خبر بھی عام ہوئی تھی مگر یہ غلط ثابت ہوئی۔ اشرف صحرائی سے بھی جب ایک کشمیر ی اخبار نویس نے پوچھا کہ وہ اپنے بیٹے کو عسکریت چھوڑ کر واپس لوٹ آنے کو نہیں کہیں گے تو انہوں نے اُلٹا صحافی سے ہی سوال پوچھا تھا میں شیخ عبداللہ یا بخشی غلام محمد ہوں کہ ایسا کروں، میری تو رگ رگ میں آزادی کی خواہش موجود ہے۔ مجاہد تو ایک جذبہ لیکر گھر سے نکلتا ہے مگر اشرف صحرائی اور اسد اللہ نائیکو کی طرح ہر مجاہد کے والد کا ایمان اور ایقان بتا رہا ہے کہ بھارت کشمیر پر تادیر اپنا تسلط برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پانچ اگست کے بعد بھارت نے کشمیریوں سے اُمید چھین لی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حالات نے انہیں ''ابھی یا کبھی نہیں'' کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ اس بار اگر ان کی نظر چوک گئی تو بھارت کشمیر کی شناخت اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے دیرینہ منصوبے پر عمل کریگا۔ اس خوف نے کشمیریوں کو ''پوائنٹ آف نو ریٹرن'' پر پہنچا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر ایک بار پھر نوے کی دہائی کی طرف لوٹ رہا ہے جب وہاں عسکری تحریک پوری قوت سے جاری تھی اور کئی علاقے آزاد علاقوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔ کورونا بحران کے دوران ہی عسکری کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اس دوران کنٹرول لائن پر ایک جھڑپ تین دن تک جاری رہی۔ کورونا بحران کے لاک ڈاؤن کے دوران چالیس مجاہدین شہید کئے گئے ہیں جبکہ مختلف جھڑپوں میں ایک کرنل اور ایک میجر سمیت سترہ بھارتی فوجی مارے گئے ہیں یہ دونوں طرف کے نقصان کا خاصا بلند گراف ہے۔ بھارت کے ایک اخبار ''دکن ہیرالڈ'' نے ایک اہم رپورٹ میں لکھا ہے کہ اب عسکریت جنوب سے دوبارہ شمال کی طرف تیز ہو رہی ہے اور شمالی کشمیر کا علاقہ کنٹرول لائن کے قریب ہے۔ شمالی کشمیر میں راجور کا علاقہ ایک آزاد علاقے کا منظر پیش کرتا تھا جہاں حریت پسندوں نے کنکریٹ کے بنکر تعمیر کئے تھے اور کمانڈو جیکٹس پہنے وہ ہاتھوں اور کندھوں پر کلاشنکوفیں، مشین گنیں اور راکٹ لانچر لئے پھرتے تھے۔ حریت پسند لوگوں کو روکتے اور شناختی کارڈ چیک کرتے تھے گویا کہ علاقے پر عملی طور پر حریت پسندوں کا کنٹرول تھا۔ اب حالات دوبارہ اسی جانب لے جانے کا پتا دے رہے ہیں تاکہ یہ علاقہ حریت پسندوں اور مسلح تحریک کے اعصابی مرکز کا کردار ادا کرے۔ دکن ہیرالڈ نے لکھا ہے کہ 1990 سے 2000 تک راجور کے علاقے کو چھوٹا پاکستان کہا جاتا رہا۔ بھارت کو اس علاقے سے عسکریت کا انفراسٹرکچر ختم کرنے میں دس سال کا عرصہ لگا۔ اب حریت پسند کپواڑہ کے انہی جنگلوں میں دوبارہ اپنے مراکز قائم کر رہے ہیں۔ دکن ہیرالڈ کی یہ رپورٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ کشمیر ایک بار پھر خوفناک مزاحمت کے دور سے آشنا ہورہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج نے ریاض نائیکو کی شہادت پر اس قدر جشن نہیں منایا جو ان کا وطیرہ ہے، انہیں اندازہ ہے کہ ریاض نائیکو کے پیچھے ابھی سروں کی ایک طویل قطار ہے ان میں ہر آنیوالا اپنے پیش رو سے زیادہ تربیت یافتہ اور زیادہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔