لاک ڈاؤن شرعی تناظر میں

مارچ کے مہینے سے تاحال پاکستان میں یہ بحث بہت معرکتہ الآراء انداز میں جاری ہے کہ لاک ڈاؤن اپنی جگہ صحیح، لیکن اس کا اطلاق کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس انداز میں ہو، اس پر اختلاف رائے کی بڑی گنجائش ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک ملک وقوم ہونے کے باوجود چاروں صوبوں بالخصوص وفاق اور سندھ کی حکومتوں کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے۔ اس تناظر میں یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر چکی ہے کہ عوامی مقامات، تعلیمی ادارے بالخصوص عبادت کے مراکز یعنی مدارس ومساجد مکمل طور پر بند ہونے چاہئیں یا جزوی، عارضی اور اوقات کیساتھ پابند کر کے بند ہوں۔ پاکستان میں ڈاکٹر حضرات بازاروں اور عوامی مقامات ومساجد کو مکمل طور پر بند دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان ہی مقامات پر لوگوں کے رش اور ایک دوسرے کے قریب ہونے کے سبب وباء کے پھیلنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات لاک ڈاؤن کے حق میں جو مشورے دے رہے ہیں وہ سائنسی حقائق وتحقیقات کے مطابق ہوتے ہیں اور یقیناً اس میں شریعت کیخلاف کوئی بات یا ارادہ شامل نہیں ہوتا۔ لہٰذا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کیساتھ عبادت کی پابندی قطعاً خلاف شریعت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس فعل کو اسلام کیخلاف قرار دیا جاسکتا ہے لیکن دوسری طرف علماء کرام مساجد پر اس قسم کی پابندیوں کو بالخصوص کسی وبا کے خوف سے محدود کرنے کو مساجد وعبادت گاہوں کو ویران کرنے اور اس میں بگاڑ کے مترادف قرار دیتے ہیں اور اس کو قرآن وسنت کیخلاف سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے چوٹی کے علماء ومفتیان کرام نے حکومتی اہلکاروں کیساتھ میٹنگ میں اور بات کی اور باہر کچھ اور، پھر دوبارہ میٹنگ میں حکومت نے علماء کے دباؤ کے تحت مساجد کو بیس نکاتی احتیاطی تدابیر کیساتھ کھولنے کی اجازت دیدی جبکہ سندھ میں اب بھی نماز جمعہ پر پابندی ہے اور بارہ بجے سے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں یہ بات کہی کہ پاکستان اسلامی دنیا کا عجیب ملک ہے کیونکہ یہ اسلامک سٹیٹ نہیں ہے بلکہ اسلامسٹ سٹیٹ ہے اور اسی بناء پر یہاں اسلامسٹوں کو بہت اثر ورسوخ حاصل ہے اور حکومتیں اس کے دباؤ میں ہوتی ہیں اس لئے مساجد کھول دی گئیں جبکہ دیگر اسلامی دنیا یہاں تک حرمین الشرفین میں بھی نمازیوں کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ پاکستان میں دراصل مسئلہ اور ہے یہاں توکل اور تدبیر وغیرہ کی تعبیر وتشریح میں اختلاف واقع ہوجاتا ہے اور یوں مسئلہ کہیں سے کہیں چلا جاتا ہے۔ توکل کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ دستیاب ومیسر سارے اسباب کو اختیار کرتے ہوئے نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے جبکہ ہمارے ہاں بعض اوقات مذہبی جذبات کے تحت تدابیر کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور یوں مفادعامہ کے مسائل میں اختلاف پیدا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن وحدیث سے چند تاریخی واقعات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے جن سے بیماریوں اور خطرات وغیرہ کے ایام میں لاک ڈاؤن اور توکل کیساتھ تدابیر کے اختیار کرنے کا بہت خوبصورت انداز سامنے آتا ہے۔ حضرت یوسف نے عزیز مصر کے ہاں اپنے لئے حالات ناسازگار دیکھے تو پروردگار سے دعا مانگی یوسف نے کہا ''یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس کے مقابلہ میں مجھے جیل جانا پسند ہے''۔ جیل میں یوسف اُن خواتین کے مکر وفریب سے محفوظ ہو گئے۔ آج جب کرونا سے حفاظت کیلئے گھروں میں محصور ہونا بطور تدبیر حکومتی مطالبہ ہے تو درست معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح اصحاب کہف بادشاہ وقت کے عقیدے کی بنیاد پر ایذا رسانیوں سے بچنے کیلئے ایک غار کے اندر چلے جاتے ہیں اور وہاں عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اُن پر اللہ کی طرف سے نیند طاری ہو جاتی ہے۔ جہاں اصحاب کہف دشمن سے محفوظ رہنے کیلئے غار کے اندر چلے جاتے ہیں تو آج کے کرونا سے حفاظت کیلئے گھروں کے اندر لاک ڈاؤن کا جواز ملتا ہے اور یہاں نکتہ بہت قابل غور ہے کہ وہ غار کے اندر ہی عبادت کرتے تھے۔ نبی کریمۖ کی اُمت کیلئے پوری زمین مسجد (سجدے کی جگہ قرار دی گئی ہے) لہٰذا حدیث میں جن مقامات پر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ان کے علاوہ باقی ہر جگہ بشمول گھروں میں نماز کی ادائیگی جائز ہے۔ ایک اور دلچسپ واقعہ چینوٹیوں کا قرآن میں ذکر ہوا ہے کہ کس طرح اُن کے سردار نے سلیمان کے لشکر سے اُن کو بلوں میںگھس کر محفوظ رہنے کا کہا۔ (سورة انحل18)۔ ایک چیونٹی کی ذہانت وفراست قابل توجہ ہے کہ خطرے کے وقت اپنی قوم کو گھروں میں لاک ڈاؤن کا کہہ رہی ہے۔ نبی کریمۖ نے کھانے کی چیزوں کو ڈھانپ کر رکھنے اور لانے لے جانے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ کیڑوں مکوڑوں، گرد وغبار اور بعض دیگر نادیدہ مضر چیزوں سے بچایا جائے۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسولۖاللہ نے مشکیزے باندھنے اور برتن ڈھانپنے کا حکم دیا۔ (صحیح مسلم282)۔ ایک دفعہ نبی کریمۖکی خدمت اقدس میں دودھ پیش کیا گیا جو کسی چیز سے ڈھانپ کر نہیں لایا گیا تھا۔ اس پر آپۖ نے فرمایا (اس کو ڈھانپ کر کیوں نہیں لائے اگرچہ ایک لکڑی ہی ہوتی اس سے ڈھک لینا چاہئے تھا)۔ علماء نے لکھا ہے کہ برتن کو ڈھانپ کر لانے سے اس کے اندر کی شئی شیطانی اثرات آسمان سے اُترنے والی وبائ، نجاسات اور حشرات الارض واسماء سے محفوظ رہتی ہے لہٰذا چاہئے کہ آج کے حالات میں گھروں میں رہنے کو ترجیح دی جائے اور بلا اشدضرورت باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس وباء سے محفوظ رکھے آمین۔