کورونا’ چین اور امریکہ آمنے سامنے

وائرس بطور حیاتیاتی ہتھیار کی بحث تو اب ختم ہوتی نظر آرہی ہے لیکن اس کے پھیلاؤ کے حوالے سے امریکہ اور چین کے درمیان بیان بازی کی ایک خوفناک جنگ چھڑ چکی ہے جسے دھمکیوں کا تڑکا لگاکر صدر ٹرمپ نے مزید بھڑکا دیا ہے۔ چین کیخلاف امریکی صدر کے آتشیں بیانئے کو مخالفین صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ قارئین کو یقیناً علم ہوگا کہ تین نومبر کو امریکہ میں انتخابات ہونے ہیں، جب صدر کیساتھ مقننہ، کئی ریاستوں میں گورنر اور مقامی قیادت کا چناؤ بھی ہوگا۔ صدر ٹرمپ کیلئے صدارتی انتخاب کیساتھ کانگریس میں واضح برتری بھی ضروری ہے تاکہ وہ قوم پرست وقدامت پسند ایجنڈے پر جارحانہ پیش قدمی جاری رکھ سکیں۔ یہاں صدارت چونکہ دو مدتوں تک محدود ہے اس لئے امریکی صدور کو ان کی دوسری مدت میں خاصا بے باک بنا دیتی ہے۔ دریں حالات صدر ٹرمپ کے مخالفین بھی غافل نہیں، انہیں معاملے کی نزاکت کا اندازہ ہے۔ اتفاق سے امریکہ کے تقریباً تمام بڑے شہر کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہیں۔ اس کے مقابلے میں قصبات اور دیہات میں یہ بلا اب تک قدم نہیں جما سکی۔ امریکہ کا سیاسی جغرافیہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر ڈیموکریٹک پارٹی کے گڑھ ہیں، جبکہ دیہی امریکہ کو صدر ٹرمپ کا ناقابلِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مخالفین الزام لگا رہے ہیں کہ چین میں مرض پھوٹ پڑنے کے بعد وہ اس مفروضے پر معاملے کو ٹالتے رہے کہ کورونا وائرس کے امریکہ تک آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل12کا انکشاف انتہائی سنسنی خیز ہے۔ اپریل کی16تاریخ کو مذکورہ ٹیلی ویژن نے بتایا کہ امریکہ کی عسکری خفیہ ایجنسیوں کو نومبر کے دوسرے ہفتے میں ووہان (چین) سے وبا کے آغاز کا اندازہ ہو چکا تھا۔ بیماری پھوٹ پڑنے کی خبر اس وقت تک عام نہیں ہوئی تھی لیکن چین کو اس کے بارے میں علم تھا۔ امریکی ایجنسیوں نے مبینہ طور پر اس کے بارے میں صدرٹرمپ کو بتا دیا لیکن امریکی صدر نے اس خبر میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس انسانی المئے پر بھی صدر ٹرمپ جماعتی سیاست سے باز نہ رہ سکے اور وائرس کے حوالے سے وہ اپنے مخالفین کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ متاثرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات میں بہت تاخیر کی اور اب غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے عذرلنگ تراش رہے ہیں۔ سیاسی دباؤ سے نکلنے کیلئے صدر ٹرمپ نے بیانات کی توپوں کا رخ چین کی طرف کر دیا ہے۔ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام چین پر لگا رہے ہیں۔ ان الزامات کی نوعیت بھی ان کے بیانات میں بدلتی رہتی ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ یہ ووہان کے انسٹی ٹیوٹ برائے سمیات (Virology) میں تولد ہوا اور چینیوں کی نالائقی سے لیک ہوگیا۔ جب زیادہ غصے میں ہوں تو وائرس جان بوجھ کر پھیلانے کا الزام بھی چین کے سر پر ٹانک دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین نے وائرس کے اثرات کو محدود رکھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور اس کے پھیلاؤ سے امریکہ کو جان بوجھ کر لاعلم رکھا گیا۔ اپنے الزام میں منطق کا پیوند لگاتے ہوئے وہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بیجنگ نے یہ سب کچھ صدارتی انتخابات میں انہیں ہرانے کیلئے کیا ہے۔ تاہم وہ بار بار اس یقین کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی ان کی کوششیں صدارتی انتخابات پر اثرانداز نہیں ہوں گی اور صدارتی چناؤ کو ریفرنڈم بنانے کی کوشش ناکام ہوجائے گی۔ تلخ وترش بیانات کے باوجود چین امریکہ تجارت اب بھی صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جنوری میں دونوں ممالک کے درمیان زراعت سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت چین نے امریکہ سے کئی ارب ڈالر کی غذائی اجناس، دودھ اور جانوروں کا گوشت خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ حالیہ تنازعے سے پہلے چین اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہوچکے تھے، پھر اچانک یہ سب کیوں ہوگیا؟ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر ''غلطی سے وبا کے پھیلنے'' اور ''جان بوجھ کر پھیلانے'' کے امکانات کو الگ الگ رکھ کر واپسی کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی کئی عدالتوں میں متاثرین نے چین کیخلاف نجی استغاثے دائر کر دئیے ہیں۔ ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس ووہان کے مچھلی بازار سے پھیلا ہے، جہاں گوشت، مچھلیاں اور سبزی کھلے عام فروخت ہوتی ہیں۔ اس بازار میں حفظانِ صحت کے ضابطوں کا نفاذ چینی حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں بیجنگ ناکام رہا۔ اس غلطی سے کورونا وائرس پھیلا جس نے سائلین کو بھاری نقصان پہنچایا۔ اگر چین نے خوراک کے حوالے سے مناسب قوانین نافذ کئے ہوتے تو وائرس نہ پھیلتا چنانچہ چینی حکومت کو اس نقصان کے ازالے کا حکم دیا جائے۔ خیال ہے کہ چین کیخلاف ان درخواستوں میں ہرجانے کے جو دعوے کئے جارہے ہیں ان کا مجموعی حجم 2000ارب ڈالر کے قریب ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ چین کیلئے قابلِ قبول نہ ہوگا اور اس کیلئے عالمی ادارہ صحت سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے ماہرین وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تعاون پر زور دے رہے ہیں۔WHO کا کہنا ہے کہ اس عالمی آفت سے نمٹنے کیلئے ساری دنیا میں مربوط کوششوں کی ضرورت ہے اور اس موقع پر انگشت نمائی اور الزام تراشی سے وبا کیخلاف کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔