آخر یہ ہے کیا؟

حکومت نے بندش فعالیت (لاک ڈاؤن) میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے، بندش فعالیت کس حد تک ختم ہوئی ہے وہ صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کے حلقوں کی جانب سے جو بیانات اس بارے میں آئے ہیں اس سے صورتحال واضح نہیں ہو پارہی ہے، تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لاک ڈاؤن سے ملک کو اب تک ایک سو انیس ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے لہٰذا ملک ہمیشہ کیلئے بند نہیں کر سکتے، موصوف نے یہ مثال بھی دی کہ کرونا وائرس سے زیادہ اموات تو ٹریفک کے حادثات میں ہوتی ہیں اس کے باوجود ٹریفک کی اجازت ہوتی ہے گویا ان کا مؤقف ہے کہ تعداد اموات کی بنیاد پر بندشیں نہیں لگائی جا سکتیں، اسد عمر پی ٹی آئی کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی بات کو محض ہوا میں نہیں اُڑایا جا سکتا، تاہم یہ بات اپنی جگہ ہے کہ ٹریفک کے حادثات اس قدر زیادہ کیوں ہوتے ہیں اور ان کے تدارک کیلئے حکومت کے پاس کیا اقدامات ہیں، اگر ٹریفک قوانین پر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو یہ حادثات کلی طور پر ختم تو نہیں کئے جا سکتے تاہم قابل ذکر حد تک کم کئے جا سکتے ہیں چنانچہ مشاہدہ یہی کہتا ہے کہ انتظامیہ کی نااہلی ان حادثات میں ملفوف ہے کیونکہ وہ نا تو ڈرائیونگ لائسنس صحیح طور پر جاری کرتی ہے نہ گاڑیوں کے کاغذات کی قانونی ضروریات پوری کرانے پر اس کا دھیان مرکوز ہوتا ہے، نہ ڈرائیور کی تربیت جس میں اس کی نفسیاتی تربیت بھی ایک لازمی جز ہے اس کا اہتمام درست طور پر ہوتا ہے، جہاں تک کرونا وائرس کا تعلق ہے تو جس نقصان کا وزیر منصوبہ بندی نے ذکر کیا ہے یقینا پاکستان جیسے ملک کیلئے یہ ایک ناقابل برداشت نقصان ہے، تاہم اس مالی نقصان کیلئے کیا پاکستانیوں کو خطرے میں جھونک دینا عقل مندی کی دلیل ہے۔ کیا کوئی پاکستانی اس ملک کا اثاثہ نہیں ہیں، کرونا کی وباء کے پاکستان میں ظہور پذیر ہونے کے بعد سے بہت سے امور مشاہدے اور مطالعے میں آئے ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا وحشت ناک حد تک پھیلاؤ کس یا کسی کی غفلت یا حرکت کا نتیجہ ہے، اس وائرس کو داخل ہونے سے روکنے کے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے، اگر یہ وائرس پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا تو یہ رونا بھی نہیں ہوتا کہ پاکستان کے عوام کو اتنے ارب کا نقصان ہو گیا ہے، اس بارے میںکہا جا رہا ہے کہ ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آئی ہے، یہ کیا باؤلاپن ہے کہ سرحد پار کرنے سے کیوں نہیں روکا گیا۔ ساتھ ہی یہ مثال دیدی جاتی ہے کہ امریکا، برطانیہ، اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی تو اس کے حصار کا شکار ہوئے ہیں، مگر اس کیساتھ ان ممالک کا بھی تو بیان کر دیا جاتا کہ جنہوں نے اپنی سرحد کی لکیریں کرونا وائرس کیلئے مٹنے نہ دیں، ان میں سرفہرست تائیوان ہے جہاں ایک کیس بھی ریکارڈ نہیںہوا گوکہ پاکستان سے کہیں زیادہ تائیوان کی سرحدوں کا چین کی سرحدوں کیساتھ ملاپ ہے، چین ہی کی طرح تائیوان کا متاثر ہونا بنتا تھا، مگر وہ کرونا وائرس سے شفاف ملک رہا، کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کرونا وائرس چین کے راستے داخل نہیں ہوا بلکہ ایرانی سرحدوں سے پار ہوا ہے، بات تو درست ہے کیا ایرانی سرحد پر تائیوان اور چین کی طرح نقل وحرکت ہوتی ہے یا اس طرح آنا جانا ہے، پی ٹی آئی کی یہ بات عام ہو چلی ہے کہ اقتدار کی کنجیاں سنبھالتے ہی پاکستان کو مالی نقصانات کی پرچیاں ہر سو لگ گئیں ہیں، تاہم جہاں وزیر منصوبہ بندی یہ ذکر کر رہے ہیں کہ ایک سوانیس ارب روپے کا نقصان اُٹھایا جا چکا ہے وہاں یہ بھی بتا دیا جائے کہ اس کے بدل بیرونی امداد اور ملک کے اندر سے کتنا مالی تعاون حاصل ہوا ہے، آیا ان سب کے باوجود نقصان اُٹھانا پڑا ہے اور جو سرمایہ مختص ہوا یا جمع ہوا اس سے کرونا وائرس سے نجات کیلئے کیا اقدام کئے گئے، ان اقدامات کے بارے میں روازنہ ذرائع ابلاغ میں متاثرین کی طرف سے تحفظات کا اظہار پھر کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے، ان سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کے بارے میں یہ بات عام کی گئی ہے کہ دنیا کی کسی لیبارٹری میں یہ وائرس تخلیق کیا گیا ہے اور چین سے وباء کی صورت میں پھوٹا ہے جبکہ تاریخی حقائق برعکس ہیں۔ یہ مرض تو صدیوں پرانا ہے، آج سے اسی نوے سال قبل عالمی شہرت یافتہ معالج حکیم اجمل خان نے ایک کتاب حاذق کے نام سے تحریر کی تھی جو طب کے شعبے میں نادر کتب میں شمار ہوتی ہے، اس میں اس وائرس کا ذکر بڑی تفصیل کیساتھ مرحوم حکیم اجمل خان نے کیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر خان ایک دانشور شخصیت کے مالک ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ حکیم اجمل خان کی کتاب کا صفحہ نمبر52 کرونا وائرس کی تفصیلات سامنے رکھ کر پڑھ لیں، ان کو کرونا وائرس میں اور حکیم صاحب مرحوم کے مذکورہ صفحہ کی تحریر میں نقطہ بھر کمی محسوس نہیں ہوگی، اس حد تک مطابق پایا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ کرونا وائرس کی تفصیلات دراصل حکیم صاحب کے مضمون کا جدید الفاظ میں کاپی پیسٹ ہے، ہر ذمہ دار کا یہ فرض ہے کہ مشکل حالات میں حوصلے پست نہیں کئے جا تے بلکہ حوصلے بلند کئے جاتے ہیں۔ مغل بادشاہ نے ایک روز اپنے نورتنوں سے استفسار کیا تھا کہ جنگ میں کیا شے کامیابی کی ضمانت ہے، ہر رتن نے اپنی اپنی اہلیت کے مطابق جواب دیا جب ملا دوپیازہ کی باری آئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میدان جنگ میں نہ ہتھیار کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں، نہ دولت کام آتی ہے، وہاں بس صرف حوصلہ ہی کامیاب بنتا ہے، حکیم اجمل خان کی کتاب سے استفادہ کیا جائے کیونکہ اس میں اس مرض کا علاج بھی تفصیل کیساتھ درج ہے۔