سرہانے میر کے آہستہ بولو

یہ بیل منڈھے چڑھ سکے گی یا نہیں؟ کیونکہ پرنالہ تو وہیں رہنا ہے جہاں پہلے سے تھا یا ہے۔ گویا بقول منیر نیازی مرحوم
کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم داطوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مینوں مرن داشوق وی سی
پرنالہ اپنی جگہ سے ہلنے کا یوں نہیں کہ آج بروزہفتہ کالم تحریر کرتے ہوئے لاک ڈائون میں جس نرمی کا اعلان کیا گیا ، اس کا اطلاق آج سے کیا گیا ہے مگر ساتھ ہی یہ حکم بھی ہے کہ ہفتے میں جن تین دنوں میں دکانیں بند رہیںگی ان میں جمعہ،ہفتہ اور اتوار شامل کئے گئے ہیں گویا ایک جانب اعلان کرنے کی خوشخبری ہے تودوسری جانب دکانیں بدستور بند رکھنے کا حکم صادر کیا گیا ہے یعنی اس ہاتھ دے، اس ہاتھ لے۔ حالانکہ اس سے پہلے بعض ایسے کاروبار جن کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا وہ اتنی پابندی سے بھی مستثنیٰ تھے اور تازہ حکمنامے میں ان پر مزید قد غنیں لگادی گئی ہیں تاہم کیا کیا جائے کہ اصل معاملہ وہی اوپر دیئے گئے منیر نیازی کے اشعار میں بیان کردہ حقیقت ہی ہے۔ ہم لوگوں کو کسی کل چین ہی نہیں آتا، نچلا بیٹھنا تو ہم نے سیکھا ہی نہیں، ذراسی ہماری باگیں ڈھیل دے کر کوئی کھول دے تو ہم دُلکی چال چھوڑ کر سرپٹ دوڑنا شروع کردیتے ہیں اور ایک دوسرے سے بازی لے جانا ویسے ہی ہماری سرشت میں لکھا ہے، اس کے بعد چاہے ہم سامنے سے آنے والی کسی دوسری سواری سے ٹکرا جائیںیا درخت میں سر دے ماریں، کسی دیوار سے بغل گیر ہوں یا پھر کسی نہر، نالے یا دریا میں کود جائیںیعنی نہ ہمیںاپنی سلامتی عزیز ہے نہ مقابل سے آنے والے کی جان کی فکر، بس اس بات سے خوش ہیں کہ ہمیں آزادی مل چکی ہے اور اب ہماری مرضی ہے جہاں منہ اُٹھائے چلے جائیں کوئی ہمیں روکنے ٹوکنے والا نہ ہو، حالانکہ ہمارے ہاتھ میںآزادی والی چھڑی گھومنے گھومتے خدانخواستہ سامنے سے آنے والے کسی ''بیمار''سے ٹکرا جائے اور اس کیساتھ لگنے والا وائرس اسی چھڑی کے ذریعے ہم تک منتقل ہو جائے تو پھر یہ آزادی کس کام کی؟ ایسی نامراد آزادی کیساتھ تو وبا کی نازک خیالی نہایت غیر محسوس طریقے سے بقول جاں نثار اختر یوں ہمارے مشام جاں میںدر آتی ہے
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
مگر یہ ناک خیالی شاعری سے جب آج کی وبائی صورت اختیار کر کے چمٹ جاتی ہے تو بندہ کسی کام کا نہیں رہتا اور یہی وہ کیفیت ہے جس سے دنیا بھر کے طبی ماہرین بچنے کی تلقین کر رہے ہیں مگر حضرت انسان فطری طور پر بے پرواہ اور لا اُبالی پن کا شکار ہے، وہ ناقدری کی سوچ کا شکار ہو رہا ہے۔ لائی بے قدراں نال یاری تے ٹٹ گئی تڑخ کر کے، ہوش تب آتا ہے جب نہ صرف خود بلکہ اس کے لواحقین بھی بیماری کیلئے ''مثبت'' اشارے دے رہا ہوتا ہے۔ ایک بات البتہ اور بھی ہے، احتیاط یقینا بنیادی ضرورت ہے مگر انتہائی معذرت کیساتھ گزارش کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے جان کی امان کی بھی درخواست ہے کہ جس طرح میڈیا، سوشل میڈیا، یہاں تک کہ سرکاری اشتہارات کیساتھ ساتھ موبائل فون پر کسی کو بھی کال کریں پہلے آپ کو لمبے لمبے بھاشن ملنے شروع ہو جاتے ہیں اور ہر دو گھنٹیاں سننے کے بعد پھر طویل کورونا میسج سننے کو ملتا ہے ،اس کے علاوہ تمام بنکوں کی جانب سے تواتر کیساتھ پیغامات، ٹی وی سکرینوں پر بے پناہ اشتہارات دیکھ اور سن کر عام لوگ کورونا کے شکار اللہ نہ کرے بنیں یا نہیں، نفسیاتی مریض ضرور بن رہے ہیں حالانکہ ہر چیز کی ایک حد ہوا کرتی ہے، بقول میر تقی میر
جو یوں میر دن رات روتا رہے گا
تو ہمسایہ کا ہے کوسوتا رہے گا
مجھے تو خوف ہے کہ انشاء اللہ جب اس وباء کی کیفیت سے ہم باہر نکل آئیں گے تو اس کے بعد اس وباء کے آفٹر شاکس اس قدر ہوںگے کہ ملک بھر کے ماہرین نفسیات ان نفسیاتی مریضوں سے نمٹنے کے حوالے سے خاصے پریشان ہوں گے اس قسم کی صورت ہم نے آرمی پبلک سکول پر ہوئے حملے کے نتیجے میںدیکھی جب سانحے سے بچ جانے والے بچوں، ان کے ٹیچروں اور شہید ہو جانے والے بچوں کے والدین کی جو حالت رہی ہے اس میں پشاور کے ماہرین نفسیات نے بحالی صحت میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ ہورائزن تنظیم کے روح رواں ڈاکٹر خالد مفتی نے دن رات ایک کر کے جس طرح خود اپنی خدمات بلامعاوضہ پیش کیں اور ان کی تنظیم کی ٹیم نے اس نفسیاتی کیفیت سے بچوں کو باہر نکال کر نئے سرے سے زندگی گزارنے کا حوصلہ دیا اُمید ہے وہ بلکہ پورے ملک میں دیگر ماہرین نفسیات بھی بلامعاوضہ عوام کو معمول کی زندگی گزارنے میں مدد کریں گے۔
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی تک روتے روتے سوگیا ہے