کرونا کے خلاف جنگ میں نیا جوا

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کرونا (کورونا) وائرس کیخلاف لڑائی میں لاک ڈاؤن کے خلاف عمران خان کا مستقل مزاجی سے قائم بیانیہ جیت گیا ہے۔ جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے تو ملک بھر میں وسط مارچ سے قائم ڈھیلا ڈھالا، لولا لنگڑا نام نہاد لاک ڈاؤن اٹھایا جا چکا ہو گا۔ عمران خان تو بظاہر بیانیے کی جنگ جیت گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں اب کرونا جیت جائے گا؟ اگر اس کا جواب بھی اثبات میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب ہار گئے ہیں۔ پاکستان میں تفتان، رائے ونڈ کی مجرمانہ غفلت اور دنیا بھر سے بغیر سکریننگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے ہزاروں افراد کے لائے جانے کے بعد کرونا کے عمودی فروغ کے بعد اب موثر لاک ڈاؤن اور ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور ٹریٹمینٹ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے کرونا کی مقامی افزائش بھرپور طور ہو چکی ہے۔ لوگوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کرونا وائرس بڑے پیمانے پر پھیلا ہے۔ لاک ڈاؤن کے بارے میں متضاد بیان بازی نے کرونا وبا کی روک تھام کو ناممکن بنا دیا ہے اور جمعرات کو جس طرح لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے نتائج آپ کو اگلے ہفتے سے واضح طور پر نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ لاک ڈاؤن کے باوجود اب تک کے اعداد و شمار یہ بتا رہے تھے کہ دس دنوں کے اندر مریضوں کی تعداد اور بارہ دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد دوگنی ہو رہی تھی۔ اب جبکہ لاک ڈاؤن اٹھا دیا گیا ہے اور کرونا کے تیزی سے پھلنے پھولنے والی پر ہجوم جگہوں جنہیں ماہرین 'ہاٹ سپاٹ' کا نام دے رہے ہیں، تشکیل پا چکے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، جلد ہی پتہ چل جائے گا۔ کیا لاک ڈاؤن مکمل طور پر اٹھنے کے بعد متاثر افراد کے لوگوں سے ملنے جلنے کے بعد بھی کرونا متاثرین کے بڑھنے کی پرانی رفتار برقرار رہے گی؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب خاصا پریشان کن ہو سکتا ہے۔ فیصلہ تو کر لیا گیا لیکن اس کے اثرات اور نتائج کی ذمہ داری سب پر عائد ہو گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ سب سے زیادہ ذمہ داری عمران خان اور ان کی جماعت پر آئے گی لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں فیصلہ سازی صرف اسلام آباد میں نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ جو لولا لنگڑا لاک ڈاؤن دو ماہ تک اس ملک میں قائم رہا وہ بھی نہ صرف عمران خان کی مرضی اور منشا کے خلاف لگایا گیا بلکہ عمران خان اور ان کی جماعت کے کلیدی افراد مسلسل اس لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے رہے۔ اب جبکہ یہ لاک ڈاؤن اٹھا لیا گیا ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری ان تمام لوگوں پر عائد ہوگی جو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں ہر روز بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ اگلے ہفتے کے بعد جب نئے اعداد و شمار آئیں گے تو ہمیں پتہ چلے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جن کا نظام صحت کرونا جیسی ہلاکت خیز بیماری کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ جو ملک اپنی کل پیداوار کا صرف 2.8فیصد صحت پر خرچ کرتا ہو اور جہاں دس ہزار مریضوں کیلئے دس ڈاکٹر بھی موجود نہ ہوں وہ اس وبا کا مقابلہ کیسے کرے گا؟ سب سے زیادہ ستم ظریفی یہ کہ اس پالیسی کو غریب عوام کی حامی پالیسی بیان کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت نے احساس پروگرام کے تحت لوگوں میں تقسیم کی جانے والی رقم کے غلط اعداد و شمار پیش کیے اور اس میں گندم کی خریداری اور ٹیکس ریفنڈ کی رقم بھی شامل کر دی۔ اب بغیر بڑے پیمانے کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کے ملک کھولنے کا واحد مقصد اس کاروباری طبقے کے معاشی پہیے کو پھر سے چلانا ہے اور اس میں ان لاکھوں کروڑوں افراد کی زندگیوں کی ہرگز پرواہ نہیں کی گئی، جنہیں کرونا کے رحم وکرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر یقیناً اتنی دولت موجود ہے کہ ایک دو ماہ کیلئے ان غریب لوگوں کو سہارا دیا جا سکے اور انہیں اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کر کے اس وبا کو پھیلنے سے روکا جائے لیکن یہ نہیں کیا گیا۔ جرمنی نے وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کر کے پہلے ہی اپنے بیمار لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ کر لیا تھا اور اپنی روایتی تعلیم، ڈسپلن، طبی سہولیات اور آگہی کے بل پر کرونا کا نقطہ عروج کامیابی سے پار کیا اور اس کے بعد مخصوص شعبوں میں لاک ڈاؤن کو ہٹانے کا عمل شروع کیا۔ یہاں کے حالات کا جرمنی کے حالات سے کوئی موازنہ بنتا ہی نہیں۔ دوسری طرف مذہبی گروہوں کی طرف سے غیر سائنسی رویوں نے معاملے کو مذید خراب کیا ہے۔ رہی سہی کسر میڈیا کی بدحالی نے پوری کی ہے۔ ایسے میں عوام کی آگاہی کون کرے۔ یہ وہ حالات نہیں جن میں لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ وہ لوگوں کو ڈنڈے کی مدد سے ڈسپلن نہیں کر سکتے اور لوگ خود خیال کریں، قابل عمل نہیں اور اس سے موثر قیادت کی کوئی خوشبو محسوس نہیں ہوتی۔ ریاست جب کسی معاملے کو اہم سمجھتی ہے تو اس پر اپنی رٹ منواتی ہے۔ لوگوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا جاتا۔ جمعرات کو کیے گئے فیصلے پنجابی زبان کی کہاوت کہ جاگدے رہنا تے ساڈے تے نہ رہنا، یعنی جاگتے رہنا اور ہمارے آسرے پر نہ رہنا کے مترادف ہے۔ ریاست اور رہنما لوگوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑتے بلکہ وہ مستقبل کی پیش بندی کرتے اور مسقبل کا راستہ دکھاتے ہیں۔ جمعرات کو لاک ڈاؤن کھولنے کا جو جوا کھیلا گیا ہے اس کے نتائج جلد ہی سامنے آ جائیں گے۔ اکثر ماہرین اس کے منفی نتائج سے خبردار کرتے رہے ہیں۔ اب ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کی عمران خان سرکار جوئے کا یہ داؤ جیت جائے اور ماہرین کے خدشات غلط ثابت ہوں ورنہ اس کے نتائج کی ذمہ داری ان تمام افراد اور اداروں پر عائد ہو گی جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ (بشکریہ : انڈیپنڈنٹ)