بھارت طالبان کی چوکھٹ پر؟

افغانستان کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد ایک بار پھر خطے کا دورہ کرگئے، وہ پاکستان، بھارت اور قطر سے ہو کر واپس لوٹ گئے۔ اس بار ان کے دورے کے مقاصد عسکری کھٹ پٹ تھی اسی لئے وہ راولپنڈی جی ایچ کیو میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے اور دہلی میں ان کی ملاقات اجیت دووال سے ہوئی۔ اجیت دووال کو پاکستان کیخلاف بھارت کی تمام مہمات کے حکمت کار سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کیخلاف بھارت کے تمام انٹیلی جنس آپریشنز میں اجیت دووال کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ زلمے خلیل زاد ایک ایسے وقت میں یہاں آئے جب افغانستان میں طالبان اور اشرف غنی حکومت کی فورسز کے مابین جنگ بندی عملی طور پر ناکام ہو چکی ہے اور طالبان کی سرگرمیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ زلمے خلیل زاد کے دورے کی اصل خبر بھارت میں بریک ہوئی۔ دی ہندو اخبار کی نامہ نگار سہاسنی حیدر نے ان کا خصوصی انٹرویو کیا۔ ایک ماہر صحافی کے طور سہاسنی حیدر نے زلمے خلیل زاد کے دورے کے اصل مقاصد کو کریدنے کی کوشش کی اور آخرکار وہ خبر حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ سہاسنی حیدر کے ایک سوال کے جواب میں زلمے خلیل زاد نے کہا کہ بھارت کو طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہونا چاہئے اور افغانستان میں امن کا قیام جنگ زدہ ملک کیساتھ ساتھ خطے کے تمام ممالک کیلئے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال ہوگی نہ یہاں القاعدہ جیسے گروپوں کو دوبارہ پنپنے اور مجتمع ہونے کا موقع ملے گا۔ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان میں تعمیرنو کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے مگر وہ امن عمل سے الگ تھلگ ہے اس کا حل یہی ہے کہ وہ طالبان سے براہ راست بات چیت کرے۔ زلمے خلیل زاد کے اس موقف نے طالبان کی بڑھتی ہوئی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے گویا کہ طالبان ایک عسکری ملیشیا نہیں بلکہ ملکوں سے معاملات طے کرنے والی قوت ہے جو پاکستانی طالبان کو ابھی تک سترہ برس پہلے کی طرح ایک پروجیکٹ سمجھتے ہیں اس میں ان کیلئے بہت سبق پوشیدہ ہیں۔ امریکہ نہ صرف یہ کہ سترہ برس کی جنگ کے بعد طالبان کیساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور پر ہوچکا ہے بلکہ وہ بھارت سے بھی اسی روئیے اور کردارکا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ بھارت کو طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات کا مشورہ اس بات کا غماض ہے کہ امریکہ کو اس حقیقت کا ادراک ہوگیا ہے کہ جب تک بھارت افغان حکمرانوں کے پیچھے چھپ کر اس زمین کو معاملات بگاڑنے کیلئے استعمال کرے گا امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ عملی نتائج نہیں دے سکتا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان اگر جنگ بندی کامیاب بھی ہوتی ہے افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جنگ جاری رہے گی اور اس سے حقیقی اور پائیدار امن کا مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا۔ بھارت کیلئے طالبان کیساتھ مذاکرات ایک کڑوا گھونٹ ہے۔ بھارت طالبان کو دہشتگردکہتا رہا ہے اور طالبان کیساتھ اس کی بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ بھارتی طیارے کو اغوا کرکے قندھار اُتارا جانا اور پھر اغواکاروں کے مطالبات کے جواب میں تین اسیر حریت پسندوں کو بھارتی جیلوں سے رہا کرنا جسونت سنگھ کا خصوصی جہاز میں قندھار پہچانا بھارتیوں کی روح کو لگنے والا گھاؤ ہے جو اب تک بھرنے نہیں پایا۔ امریکہ اور طالبان بھی دوبدو لڑائی کرتے کرتے آخرکار براہ راست مذاکرت اور ایک تحریری معاہدے تک پہنچ گئے اس لئے بھارت کا کسی وقت طالبان کیساتھ میز پر بیٹھنا ناممکن نہیں کیونکہ طالبان بھی اب اپنی حیثیت کو ملیشیا کی بجائے امارت اسلامی کے طور پر وسعت دینا اور منوانا چاہتے ہیں۔ بھارت کا مخمصہ یہ ہے کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کی صورت میں اس سوال کا زیادہ شد ومد کیساتھ سامنا کرنا پڑے گا کہ افغانستان میں ایک عسکری طاقت کیساتھ بات چیت کرنے والا بھارت کشمیر میں عسکری قوتوں کیساتھ بات چیت سے گریزاں کیوں ہے؟ ایسے میں جبکہ اس بات چیت کا خود اسے براہ راست فائدہ بھی حاصل ہوگا کیونکہ بات چیت شروع ہونے سے پاکستان کیساتھ بھارت کے منجمد تعلقات بحال ہونے میں مدد ملے گی اور اسے افغانستان اور آگے تک آسان تجارتی حاصل ہوگی۔ گزشتہ برس جب طالبان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی باتیں چلی تھیں تو کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی یہی سوال اُٹھایا تھا کہ طالبان کو دہشتگرد کہنے والا بھارت اگر ان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو کشمیریوں کیساتھ مذاکرات سے انکار کیوں کیا جا رہا ہے؟ طالبان سے مذاکرات کا یہ معاملہ بھارت کی انا نیت اور تکبر کیساتھ جڑ گیا ہے۔ بھارت کو یہ خوف ہے کہ اس طرح کشمیر پر اس کا موقف کمزور ہوگا۔ افغانستان کی سترہ سالہ جنگ میں بھارت امریکہ کا شہ بالا بنا ہوا تھا اور اب یہ ممکن نہیں کہ امریکہ خود تو طالبان سے مذاکرات کرے مگر شہ بالے کو ان سے محاذ آرائی کی کیفیت میں چھوڑ جائے۔ ساتھ ہی بھارت میں ہمیشہ سے خوف موجود رہا ہے کہ طالبان افغانستان سے فارغ ہوئے تو اس مزاحمت کا کچھ حصہ کشمیر کا رخ کرسکتا ہے۔ یہ نوے کی دہائی کے اوائل میں بھی ہو چکا ہے اس لئے وہ طالبان کو افغان جنگ میں ہی اُلجھائے رکھنا چاہتا ہے اور اس کیلئے افغان حکومت کی پیٹھ تھپتھپانے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔ امریکہ نے بھی یہ جان لیا ہے کہ بھارت طالبان کیخلاف چھپ کر وار کرنے کی راہ پر گامزن رہ کر جنگ زدہ افغانستان کو امن کی منزل سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ طالبان امریکہ مذاکرات سے بڑا واقعہ طالبان بھارت بات چیت ہو سکتا ہے۔ بھارت نے سترہ برس تک پوری قوت کیساتھ طالبان کو ناکام بنانے کی کوششیں کیں مگر امریکہ کی طرح بھارت کو ناکامی ہوئی اور اب حالات اسے طالبان کے در پر لے جاتے ہیں تو یہ انا اور تکبر کی شکست ہوگی۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ بھارت کو کشمیری عوام کی مزاحمت کے آگے اسی طرح سپر ڈالنا پڑے گی اور وہ جنہیں آج دہشت گرد قرار دے رہا ہے ان کیساتھ معاہدات اور مذاکرات کر رہا ہوگا۔