اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں

غالب نے جنت کی حقیقت بزعم خویش دل کے خوش رکھنے کے خیال سے جوڑتے ہوئے کہا تھا
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
غالب تو خیر اپنی ترنگ کے بندے تھے اور بندگی میں بھی خود کو وہ آزادہ وخودبیں قرار دے دیتے تھے جو الٹے پھر آئے درکعبہ اگر وا نہ ہوا پر یقین کرتے تھے، یہاں یہ جو ہم نے دل کے خوش رکھنے کا ''غالبانہ فلسلفہ'' بیان کرنے کی کوشش کی ہے اس کا تعلق اس خبر سے ہے کہ تنخواہوں میں 50فیصد تک بڑھانے کی سمری تیار کر لی گئی ہے، مگر یہ بھی تو غالب ہی نے کہا تھا نا کہ ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا، کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا اور یہ کم بخت اعتبار چیز ہی ایسی ہے جس کی وجود کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔ یعنی وہ آ تو جائے مگر اعتبار ہی کم ہے یہ ہر سال ہوتا ہے، بے چارے ملازمین کیلئے تنخواہوں میں خوش کن اضافے کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات گریڈ ایک سے 22تک کے ٹیبل تک سامنے آجاتے ہیں اور ہر سرکاری ملازم اسی ٹیبل کے مطابق اپنی تنخواہوں میں اضافہ الاؤنسز کا حساب کتاب کرتے ہوئے ہم سخن فہم بھی غالب کے طرفدار تک بن جاتے ہیں مگر جب حقیقت سامنے آتی ہے یعنی بجٹ کے موقع پر دل جگر تھام کے بیٹھے ہوئے تنخواہوں میں اضافے کی نوید سننے کو بے تاب ہوتے ہیں تو مشتے ازخر وارے پر ٹرخا دئیے جاتے ہیں، یعنی تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا کے مصداق بہ امر مجبوری جتنے اضافے پر ٹرخا دئیے جاتے ہیں بس اسی ''ورنہ'' پر گزارہ کرنا ہی ان کا مقدر ہوتا ہے، گویا
کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ
کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں
آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ صرف دو ماہ پہلے ہی حکومت نے ای او بی آئی پنشن میں جو دو ہزار روپے کا ماہوار اضافہ کر کے حاتم کی قبر پر لات مارنے کی جو کوشش کی تھی اب خاموشی کیساتھ وہ اضافہ واپس لے لیا گیا ہے، بوڑھے پنشنرز نے لاک ڈاؤن کے مشکل وقت میں اس حکومتی اقدام کو اپنے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔ اسی سے اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ یہ جو تنخواہوں میں مختلف گریڈ کے حوالے سے 20تا50فیصد اضافے کی سمری تیار کرنے کی خبریں آرہی ہیں اس خبر میں کہاں تک صداقت ہوسکتی ہے یا پھر یہ ہر سال بجٹ کے موقع پر ایک بار پھر فلر کے طور پر چھوڑا گیا ہے تاکہ بقول انور شعور
بڑھ گئیں ممبروں کی تنخواہیں
اور ادھر حال یہ ہمارا ہے
سستے وقتوں میں جو ہوئی تھی طے
اسی تنخواہ پر گزارہ ہے
رہ گئے بے چارے پنشنرز تو ان کو ہر سال صرف دس فیصد اضافے پر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ پر کہیں بدمست نہ ہوجائیں حالانکہ جب انہیں دس فیصد اضافے پر ٹرخایا جاتا ہے تو مہنگائی کی شرح میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ ان کے پنشن میں 10فیصد اضافہ تو رہا ایک طرف پہلے سے ملنے والی پنشن میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی اضافے کی وجہ سے ان کی کل ملا کر پنشن بھی قوت خرید کے لحاظ سے کم پڑجاتی ہے گویا تنخواہ دار طبقے کو تو پھر بھی الاؤنسوں کی بدولت کچھ نہ کچھ سہارا مل جاتا ہے مگر پنشنرز کی حالت تو جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا والی ہو جاتی ہے۔ قوت خرید کے حوالے سے یہ کٹوتی ہر سال ان کا منہ چڑاتی رہتی ہے۔ اس لئے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ سرکار والا تبار ہر سال بجٹ کے موقع پر اس قسم کے فلر چھوڑنے اور ملازمین کو خوش کرنے کی ٹرخالوجی والے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی بجائے بس خاموشی سے بجٹ میں جتنا چاہے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کا اعلان کرے تاکہ جو توقعات یہ لوگ بجٹ سے وابستہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ان سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ بقول مدھورام جوہر
اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا
جامہ نعیمیہ نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر مساجد میں اعتکاف کے حوالے سے شرعی فتویٰ جاری کر دیا ہے، فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ مردوں کا گھروں میں اعتکاف میں بیٹھنا جائز نہیں۔ وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر بجا لاتے ہوئے مساجد میں اعتکاف کیا جائے۔ اعتکاف رسول مکرمۖ کی محبوب سنت ہے، اسے ترک کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، مساجد میں مناسب فاصلہ رکھ کر ان کی وسعت کے لحاظ سے افراد کو اعتکاف بیٹھنے دیا جائے۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے سے منع کر دیا جائے، رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مرد حضرات کا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا سنت موکدہ علی الکفایہ ہے، کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ محلہ، بستی میں سے ایک یا دو بندے بھی مسجد میں بیٹھ جائیں تو سب کا کفایت کر جائے گا، یعنی اس حوالے سے علاقے کے لوگوں سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ماشاء اللہ مساجد میں نماز تراویح کا پہلے ہی خوش اسلوبی سے اہتمام کیا جاچکا ہے اس لئے اعتکاف کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کر کے اہتمام کرنے میں کوئی عذر نہیں ہے جبکہ نماز عید کیلئے بھی محدود تعداد میں لوگوں کی حاضری کا پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے اُمید ہے احتیاط کا دامن تھامے ہوئے اعتکاف کا اہتمام ممکن کیا جائے گا۔