بھارتی کرونا پھیلاؤ

اور تو اور سری لنکا بھی بھارت سے چار ہاتھ آگے نکل گیا، کرونا وائرس جو قطعی انسانی مسئلہ ہے اس کو بھارت میں تو بڑی شدت کیساتھ مذہبی تعصب کی نذر کیا جا رہا ہے ایسا ہی سری لنکا میں بھی ہو رہا ہے۔ سری لنکا جو پاکستان کا پڑوسی ہے اور اس ناتے سے ایک دوسرے پر حقوق بھی لاگو ہیں جس میں علاقائی مفادات کی پاسداری اولین ترجیح ہے، ماضی میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب بھارت نے سری لنکا اور دیگر بعض علاقائی ممالک کو اپنے حرم میں داخل کرنے کی کوشش کی تھی اس وقت مرحوم جنرل ضیاء الحق نے سری لنکا کی بھرپور مدد کی، اگر ایسا پاکستان نے نہ کیا ہوتا تو آج جہاں مالدیپ، بھوٹان اور نیپال کھڑے ہیں اسی صف میں سری لنکا بھی نظر آرہا ہوتا، بھارت میں تو جب سے مودی کے سبز قدم وارد ہوئے ہیں مسلمانوں کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر کر دی گئی ہے، ان پر جو شدائد روا رکھے جارہے ہیں وہ روز کا تماشا بن گئے ہیں۔ ہر مذہب کا فرد جانتا ہے کہ مسلمان انسانی لاش کو انتہائی تقدس دیتا ہے اور لاش کو آگ لگا دینا نہ صرف مذہبی طور گھناؤنا فعل بلکہ انسانیت کی توہین بھی قرار پاتا ہے، بھارت میں تو مسلمانوں کی تذلیل کی خاطر مودی کے پیروکار ہر وہ کام کرتے ہیں جس میں مسلمانوں کی تضحیک ہو، ان پر جبر ہوا، ان سے نفرت وائرس کی صورت میں پھیلی، چنانچہ بھارت میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ وہ مسلمان جس کسی بھی وجہ فوت ہوئے ان کو کرونا کا مریض قرار دیکر اس کی لاش کو آگے لگا دی گئی جو دین اسلام کے برعکس ہے، مگر بھارت کی جنتا نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر بھی دیکھ لیا کہ مودی کے مریدین کی جھوٹی دنیا میں جب مہا راشٹر میں کرونا کے مریضوں کیلئے خون کے پلازمہ کے عطیہ کی ضرورت پڑی تو مودی کا کوئی مرید یا خلیفہ بستر استراحت سے نیچے نہ اُترا بلکہ مسلمان اپنا پلازمہ عطیہ کرنے کیلئے ہسپتال پہنچ گئے۔ قطار درقطار بھیڑ لگ گئی، جب یہ مسلمان اپنے خون کا پلازمہ عطیہ کر کے واپس لوٹے تو ہسپتال کے گیٹ پر لائن میں کھڑے انتظامیہ کے غیرمسلم اعلیٰ افسر اور سپاہی ان پر پھول برسا رہے تھے، اب آر ایس ایس کے غنڈے ہندوؤں سے استفسار کیا جائے کہ جب یہ پلازمہ کرونا سے متاثر ہندو مریض کے خون میں شامل کیا جائے گا تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اس ہندو کی رگوں میں کس کا خون دوڑ رہا ہوگا، یقیناً مسلمان کا ہی خون ہے جو اب ان کی رگوں میں دوڑے گا۔ یہ مسلمانوں کا خون تو بہاتے رہتے ہیں اب ان کی رگوں میں بھی بہے گا۔ سری لنکا میں کیا ہوا وہاں مسلمانوں کو اسلامی عقائد کے مطابق اپنے عزیز واقارب کی لاشوں کی تدفین نہیں کرنے دی جا رہی ہے وہاں زبیرہ فاطمہ کو کرونا وائرس کا مریض قرار دیا گیا اور سری لنکن قانون کے تحت وائرس زدہ لاش کو جلا دیا گیا البتہ لاش کو نذرآتش کرنے کے دو دن بعد مرحومہ کی جب لیبارٹری رپورٹ آئی تو انکشاف ہوا کہ مرحومہ فاطمہ وائرس کا شکار ہی نہیں ہوئی تھیں ان کو بلاوجہ کرونا مریض قرار دیدیا اور لاش کو آگ میں جھونک دیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ سری لنکا میںکرونا وائرس سے کل 29افراد ہلاک ہوئے ان میں صرف تین مسلمان تھے باقی 26بدھ مت یا کسی دوسرے مذہب کے پیروکار تھے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت دنیا بھر میں مسلمان انتہائی پرشان کن حالات سے دوچار ہیں ان کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی آواز مسلمانوں کے حقوق میں بلند ہوتی ہے تو وہ یا تو طیب اردگان یا پھر مہاتیر محمد کی سر زمین سے اُٹھتی ہے جبکہ بنیادی طور پر مسلمانوں کی مظلومیت کیلئے جاندار آواز اُٹھنا ریاست مدینہ اور ریاست مکہ کی فضاؤں سے ہونا چاہئے مگر وہ اپنی اپنی اُلجھنوںکا شکار ہیں۔ ان میں سے ایک تیل کی آمدنی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں ہاتھ پیر مار رہا ہے تو دوسرے کو ہر مسئلے کا حل صرف کشکول کے بھرنے میں مضمر نظر آتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہوا یا کیا ہو رہا ہے اس پر بار بار تبصرے کی ضرورت نہیں کیونکہ مودی کی سیاہ حرکتوں نے سب ظلم وشدائد عیاںکر رکھے ہیں، یہاں یہ سوچنا ہے کہ مظلوم وبے کس کشمیریوں کی آواز سننا کیا ریاست مکّہ کی ذمہ داری نہیں ہے، ریاست مدینہ نے بھارتی وحشیوں کو نکالنے کیلئے اتنا تو کیا کہ ان کو مقبوضہ کشمیر سے نکل جانے کیلئے لوریاں سنا سنا کر ایسا سلا دیا کہ اب ان کو آزاد کشمیر اور گلگت وبلتستان کی سرحدیں بھی نظر نہیںآ رہی ہیں، مودی حکومت نے بھارتی محکمہ موسمیات کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ بھارت کے موسم کے حال کی رپورٹ میں آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد اور ساتھ ہی گلگت وبلتستان کے موسم کی تفصیلات جاری کرے، ساتھ ہی میڈیا کو خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ موسم کا حال کے نشریہ میں یہ بھی منشور کرے کہ مظفرآباد، گلگت وبلتستان کے موسم کا حال بھی اب باقاعدگی سے منشور کیا جائے گا کیونکہ یہ بھارت کا حصہ ہیں اور پاکستان اس پر ناجائز طور پر قابض ہے چنانچہ بھارتی ٹی وی چینلز نے باقاعدگی سے مودی سرکار کی ہدایت پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور موسم کا حال نشر کرتے وقت ان علاقوں کا جو پاکستان میں شامل ہیں بھی ذکر بڑے طمطراق سے کرنا شروع کر دیا ہے، گویا کہ ان کے نزدیگ کوئی اصول وضابطہ نہیں ہے،گویااب نئی مشکلات سے دوچار کرنے کی غرض سے سازشیں کی جارہی ہیں، وہ رنگ برنگ کرونا پھیلاؤ کھیل رہی ہے، ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی محض ترپ کے پتے کھیل رہے ہیں یا سمیٹ رہے ہیں، ان کی چال بس اتنی ہے، دنیا میں کیا ہو رہا ہے وہ اس سے بے غرض ہیں۔ ویسے بھی وہ روحانیت کے عارفانہ کمال پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں ایسوں کو اپنی ذات کے علاوہ کوئی غرض نہیں رہا کرتی۔