مہنگائی لوڈشیڈنگ اور لاک ڈاؤن

ہم رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سبزی کی خریداری کیلئے سبزی منڈی پہنچ گئے، ہم سوچ رہے تھے کہ گلی محلے کے دکاندار تو سودا ویسے ہی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں کیوں نہ ذرا سی تکلیف کرکے سبزی منڈی سے خریداری کی جائے۔ جب وہاں پہنچے تو وہاں بھی گرانفروشی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، جب ہم نے ایک دکاندار سے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ اس نرخ پر تو ہماری گلی میں بھی سبزی فروخت ہورہی ہے ہم جو اتنے دور آئے ہیں تو صرف اس لئے کہ کچھ بچت ہو جائے ارزاں نرخوں پر سبزی مل جائے لیکن سبزی منڈی کے دام تو وہی ہیں، اس نرخ پر تو ہمیں گھر کے دروازے پر بھی سبزی مل جاتی ہے۔ ہم نے کرونا کا رسک لیا، اب لوگوں کے ہجوم میں پھرتے ہوئے جان پر بنی ہوئی ہے، ہمارے ساتھ کچھ رعایت تو ہونی چاہئے، کچھ رمضان کے بابرکت مہینے ہی کا خیال کرو! دکاندار اپنے بڑے بڑے دانت نکال کر کہنے لگا، جناب مہنگے داموں خریداری کرتے ہیں تو پھر سبزی مہنگی ہی بیچنی پڑتی ہے ورنہ ہماری آپ کیساتھ کیا دشمنی ہے! ہم نے دکاندار سے کہا نرخ نامہ تو دکان پر آویزاں ہونا چاہئے اور جرمانہ کرنے والے سرکاری اہلکار بھی نظر نہیں آرہے، دراصل آپ کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ورنہ آپ اتنے مہنگے داموں سبزی بیچنے کی جرأت نہ کرتے! نرخ نامے اور سرکاری جرمانے کی بات سن کر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا، اس کیساتھ بحث مباحثہ کرتے ہوئے کافی دیر گزر گئی تھی، ہمیں بھی روزہ تنگ کرنے لگا تھا بس اس سے صرف یہی کہا کہ یار اس مقدس مہینے میں تو جھوٹ سے پرہیز کرو تم چند روپوں کے منافع کیلئے اتنے دھڑلے سے جھوٹ بول رہے ہو؟ وہ ہماری بات سن کر کہنے لگا جناب ہمارے معاشرے میں جھوٹ کا چلن عام ہے، حمام میں سارے ہی ننگے ہیں، آپ مجھے سچ بولنے والا ایک شخص ہی بتا دیں؟ پچھلے دنوں ایک عالم دین نے جب کچھ لوگوں کا جھوٹ طشت ازبام کیا تو اس بیچارے کے پیچھے سب ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اسے معافی مانگ کر جان چھڑانی پڑی! سبزی فروش کی باتیں سن کر ہم سوچ رہے تھے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو کتنا باخبر کر دیا ہے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بھی مسلسل سیل فون کیساتھ مصروف تھا پیغامات کے آنے جانے کا سلسلہ چل رہا تھا، وہ جھوٹ اس لئے بول رہا تھا کہ اسے اس طرح زیادہ کمائی کی اُمید تھی جو اس کے نزدیک جھوٹ بول کر ہی کی جاسکتی تھی۔ وہ بیچارہ تو ایک بے ضرر سا دکاندار تھا جو چند روپوں کے منافع کیلئے جھوٹ بول رہا تھا ہمارے یہاں جس شعبے میں بھی چلے جائیے آپ کو وہاں جھوٹ کا جادو سر چڑھ کر بولتا نظر آئے گا۔ سیاستدان ووٹ کے حصول کیلئے کیسے کیسے جھوٹ بولتے ہیں، حکمران لوگوں کو رام کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں ہچکچاتے۔ پچھلے کئی برسوں سے یہ اعلانات کئے جاتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحری، افطار اور تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں کی جائے گی لیکن ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں ان اوقات میں لوڈشیڈنگ مسلسل جاری رہتی ہے۔ہمیں انگریزوں کی معصومیت اور سادگی پر ترس بھی آتا ہے کہ وہ اس بات پر تحقیق کررہے ہیں کہ بچے جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ ارے جناب اس میں تحقیق کرنے والی کونسی بات ہے، ہمارے یہاں تو جھوٹ کا سلسلہ بچپن سے ہی بڑوں کو دیکھ کر اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب دروازے پر دستک ہوتی ہے بچہ دروازے کی طرف بڑھتا ہے تو پیچھے سے باپ کی آواز آتی ہے کہ جو بھی ہو کہہ دینا کہ ابو گھر پر نہیں ہیں! چھوٹے چھوٹے بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں، یہ خالق کائنات کی حسین ترین مخلوق ہوتے ہیں، یہ معصومیت کا پیکر انتہائی معصومیت کیساتھ دروازے پر موجود شخص کو کہتا ہے کہ میرے ابو کہتے ہیں کہ وہ گھر پر نہیں ہیں! یوں کہئے جھوٹ سے پہلا تعارف کروانے والے اس قسم کے والدین ہی ہوتے ہیں اب اس قسم کے ماحول میں پروردہ بچے جھوٹ نہیں بولیں گے تو اور کیا کریں گے؟ مغرب کے حوالے سے تو ہم زیادہ معلومات نہیں رکھتے کہ وہاں جھوٹ بولنے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں البتہ ہم اپنے معاشرے میں بولے جانے والے جھوٹ کے حوالے سے یقینا کچھ نہ کچھ کہنے کا حوصلہ ضرور رکھتے ہیں۔ ہمارے ناقص خیال میں ہمیں اپنی تحقیق کا آغاز کچھ مختلف انداز سے کرنا چاہئے، ہمیں سب سے پہلے یہ سوال سامنے رکھنا چاہئے کہ بڑے جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ مہنگائی اور جھوٹ کے یہ سلسلے تو چلتے رہیں گے، کالم کے آخر میں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیں کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی صرف اور صرف اس لئے کی کہ لوگوں کیلئے رزق حلال کے حصول میں آسانی پیدا ہو جائے ہم مکمل طور پر لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن اس وقت تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ افطار کے بعد سحری تک کڑاہی، سیخ تکہ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی دکانیں خوب دھڑلے سے کھلی رہتی ہیں، لوگ وہاں گھنٹوں بیٹھے گپ شپ لگاتے رہتے ہیں، بازاروں میں خریداروں کا ہجوم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، عید کی خریداریاں شروع ہوچکی ہیں اور اس سارے عمل میں حوا کی بیٹیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں! خواتین وحضرات کرونا کو نظرانداز کرتے ہوئے بازاروں میں گھو م پھر رہے ہیں، اگر اس حوالے سے کسی کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو لوگ ہنسی مذاق میں بات اُڑا دیتے ہیں۔