سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور ہے- وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت انسدادِ سمگلنگ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ،اجلاس میں وزیرصنعت محمد حماد اظہر، وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی، چئیرمین ایف بی آرموجود-

چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، ہوم سیکرٹرییز اور آئی جی صاحبان بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک،
اجلاس میں بتایا گیا کہ سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے قانون کو مزید موثر بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے آرڈیننس کا اطلاق کیا گیا ہے جس میں کرنسی اور اشیائے ضروریہ کی سمگلنگ میں ملوث عناصر سے نمٹنے کے لئے قانون کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی پانچ کلومیٹر کی حدود کے اندر اور ائیرپورٹس پر قانون نافذ کرنے والے مجاز اداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سمگلنگ کی کاروائی کے خلاف ایکشن کر سکیں۔نئے قانون کے تحت متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سمگلنگ میں ملوث عناصر کو حفاظتی تحویل میں لینے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ، کسٹم حکام، حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کوارڈینیشن کو مزید بہتر کیا گیا ہے تاکہ سمگلنگ کی موثر روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

چئیرمین ایف بی آر نے اجلاس کو انسدادِ سمگلنگ آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا،صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی جانب سے سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ.

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمگلنگ ملکی معیشت کے لئے ناسور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ ملکی معیشت کو دو طریقوں سے نقصان پہنچاتی ہے۔ اول، سمگلنگ کی وجہ سے ملکی فوڈ سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور عوام الناس کے استعمال کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات اورپریشانی کا سامناہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کی وجہ سے ملکی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے جس سے صنعتی عمل رک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ کے خلاف کاروائی میں کسی قسم کی رعایت یا کمپرومائز نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے سمگلنگ کی روک تھام اور سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی رپورٹ ہر پندرہ دن بعد پیش کی جائے تاکہ اس حوالے سے پیش رفت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔
صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے وزیر اعظم کو گندم کی پیداوار، کٹائی اورمجموعی صورتحال سے آگاہ کیا۔

اجلاس میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے وزیراعظم کو تفصیلی طور پر بریف کیا۔

مختلف صوبائی حکومتوں کی جانب ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کی گئی کاروائی کی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش.

وزیرِ برائے صنعت محمد حماد اظہر نے نے سیمنٹ، اسٹیل، کوکنگ آئل وغیرہ کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر اجلاس کو بریف کیا، ملک بھر میں موجود یوٹیلیٹی اسٹورز پر کنٹرول نرخوں پر عوام کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کی صورتحال کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ۔

بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے کے لئے اقدامات کے حوالے سےوزیراعظم نے صوبائی حکام کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرول اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام الناس تک پہنچائے جانے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکام متحرک کردار ادا کریں۔