انٹرنیٹ، اے جی آفس اور یوٹیلٹی سٹورز

خیبر پختونخوا بھر سے بالعموم اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سے بالخصوص طالب علموں کی جانب سے تواتر کیساتھ انٹرنیٹ کے حوالے سے شکایات اور مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ چترال سے ایک آئی ٹی ٹیچر نے ایچ ای سی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کو پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے زمینی حقائق کا عدم ادراک بلا سوچے سمجھے فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کا سادہ سا سوال ہے کہ جہاں کم ازکم تھری جی یا ڈی ایس ایل کی سہولت ہی موجود نہ ہو وہاں آن لائن کلاسز اور امتحانات کیسے ہوںگے؟ اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی عدم بحالی پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ برقی پیغام میں کہا گیا ہے کہ جن دنوں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی عروج پر تھی تب تو قبائلی اضلاع میں نیٹ کی سہولت دستیاب تھی لیکن ضم ہونے کے بعد انٹر نیٹ سروس معطل ہے جس کے باعث قبائلی نوجوان اور طالبعلم تعلیمی وسماجی حقوق اور روزگار کے مواقع سے لاعلم اور محروم ہیں۔ نیٹ کی بحالی پر حکومت کو وسائل بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، کمپنیوں کو آمدنی وحکومت کو ٹیکس ملتا ہے، عوام کو سہولت ہوتی ہے اس طرح سے یہ ہم خرما وہم ثواب والا معاملہ ہے مگر عدالتی احکامات کو بھی ضد اور اناکی بھینٹ چڑھا یا جارہا ہے۔ علاقے کے نوجوان اور طالب علم اس ناانصافی پر محرومی کا شکار ہیں۔ حکومت کو اگر مٹھی بھر عناصر کے پراپیگنڈے کا خوف ہے تو وہ ویسے بھی ہورہا ہے، ان عناصر سے عام قبائلی لوگوں اور نوجوانوں کا ویسے بھی کوئی تعلق نہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے انٹر نیٹ سروس بحال کرے جبکہ جن علاقوں میں تھری جی اور ڈی ایس ایل کی سہولت نہ ہونے سے طالب علموں کو مشکلات کی نشاندہی چترال کے آئی ٹی ٹیچر نے کی ہے یہ صرف چترال اور قبائلی اضلاع ہی کا نہیں پورے صوبے اور ملک بھر کا مسئلہ ہے، ایچ ای سی ایک مرتبہ پھر اپنے فیصلے کا جائزہ لے۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جہاں جہاں اور جن جن یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز اور ترمیمی طریقہ کار کیساتھ امتحانات کے انعقاد کی تیاریاں کی جارہی ہیں ان جامعات کا آئی ٹی کا شعبہ اس قابل ہے اور خاص طور پر اساتذہ کو آئی ٹی کا علم اور تجربہ اتنا ہے کہ ہر مضمون کا پروفیسر اور لیکچرربآسانی نہ سہی بمشکل ہی تدریس کی ضروریات اور لوازمات پوری کرسکے؟ ان کے محولہ قسم کے علاقوں کے طلبہ کی محرومیوں کا کیا ہوگا، کیا ان کا سمسٹر محض آن لائن کلاسز میں شرکت نہ کرسکنے کے باعث معطل کردیا جائے گا۔ اس ضمن میں پورا کالم لکھا جا سکتا ہے لیکن مسئلے کو سمجھنے کیلئے چند سطریں اور چند الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں اور نہ ہی ایچ ای سی اور وزارت تعلیم ومحکمہ تعلیم کے کرتا دھرتا اسے سمجھتے نہیں، شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔
ایک ریٹائرڈ پولیس مین نے بڑی دعائوں کیساتھ مسئلہ لکھا ہے لیکن پوری طرح واضح نہیں، مختصراً یہ کہ ان کو پنشن نہ ملنے کا مسئلہ ہے۔ اے جی آفس والوں نے اے جی آفس میں کورونا کے ڈر سے داخلے پر پابندی لگادی ہے اور جن لوگوں کی تنخواہوں اور پنشن کے مسائل ہیں ان کو دفتر آنے نہیں دیاجاتا۔ گیٹ سے ہی سیکورٹی والے لوگوں کو واپس بھجوادیتے ہیں، ممکن ہے یہ برقی پیغام کچھ پرانا ہوگیا ہو، اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔ لاک ڈائون میں نرمی بلکہ خاتمہ اور سرکاری دفاتر میں حاضری ہونے لگی ہے۔ بہرحال توقع کی جانی چاہئے کہ اب تک اس ریٹائرڈ پولیس والے اور دیگر لوگوں کی تنخواہوں اور پنشن کے معاملات آگے بڑھائے گئے ہوںگے، اکائونٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کو اس مسئلے سے آگاہ ہونے اور نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں اگر لوگوں کی آمدنی اور قلیل پنشن بھی رک جائے تو باقی بچتا کیا ہے۔ بنوں سے اسماعیل خان نے یوٹیلیٹی سٹورز کا انتظام ایک ایسے ادارے کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کی انتظامی صلاحیت اور نظم وضبط مثالی ہے جو اپنی جگہ لیکن یہ اس ادارے کا کام نہیں کہ یو ٹیلٹی سٹورز کا بھی نظام سنھبال لے، البتہ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ لوگ سول انتظامیہ اور حکومت کو اب مسائل کے حل کے قابل نہیں سمجھتے۔ بہرحال موصوف کو شکایت ہے کہ بنوں کے مختلف علاقوں کے یوٹیلیٹی سٹور پر چینی نہیں ملتی، انہوں نے اس کی وجہ خوردبرد اور من پسند افراد کو دل کھول کر مختلف شناختی کارڈز کے ذریعے چینی کی خریداری کا موقع دینا ہے جو یہی چینی بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر چینی کی فراہمی ودستیابی یقینی بنائی جائے۔ ای او بی آئی کے پنشنروں نے اس امر پر احتجاج کیا ہے کہ حکومتی اعلان کے مطابق ان کو مارچ یا غالباً اس سے قبل کے دوماہ کے بقایا جات بھی مارچ میں دیئے گئے تھے جس کا اخبارات میں اعلان آیا تھا، بہرحال مسئلہ یہ ہے کہ ای او بی آئی پنشنروں کو مارچ میں آٹھ ہزار پانچ سو روپے دیئے گئے اور اپریل میں دو بارہ چھ ہزار پانچ سو روپے دیئے گئے۔ یہ عجیب حکومت ہے، پنشن میں اضافہ کا فیصلہ کرتی ہے جس کا اعلان ہوتا ہے، عملدرآمد کی بھی نوبت آجاتی ہے اور پھر یوٹرن لے لیا جاتا ہے۔ای او بی آئی کے معمر پنشنروں سے اس طرح کا مذاق تو خدارا نہ کیجئے۔ بہرحال ممکن ہے کہ کچھ دستاویزی وقانونی معاملات آڑے آگئے ہوں جن کو جلد دور کرکے پنشنروں کو بقایا جات سمیت اضافی پنشن ملے گی۔ جو حکومت احساس پروگرام کے تحت اربوں روپے کی رقم بانٹتی ہو وہ کیسے پنشنروں سے ناانصافی کر سکتی ہے۔
قارئین اس نمبر پر میسج اور واٹس ایپ کے ذریعے
اپنے مسائل وشکایات
بھیج سکتے ہیں۔ 0337-9750639