ایک خطرناک جوا

کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں آئے دن اضافے کے باوجود بازاروں میں عوام کا جم غفیر اور سڑکوں پر ٹریفک جام کر دینے والی گاڑیوں کی رش دیکھ کر دل دہل گیا ہے۔ یہ سب خلاف توقع نہیں، سماجی فاصلے کی پابندیوں کو بالکل ہی تیاگ دیا گیا ہے اور حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔
پاکستان تیزی سے ان ممالک میں شمار ہونے جا رہا ہے جو سب سے زیادہ اس وبا سے متاثر ہیں۔ یہ اس وقت متاثرہ ترین ممالک کی فہرست میں چند ہی دنوں میں پانچ درجے ترقی کے بعد انیسویں نمبر پر آچکا ہے۔ وائرس سے اموات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے مگر ایک وفاقی وزیر نے اس مسئلے کی سنگینی کو ہوا میں اُڑاتے بیان دیا کہ اس سے زیادہ لوگ تو ملک میں ہر روز ٹریفک حادثوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حیلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن اُٹھانے کے جواز میں پیش کیا گیا تھا۔ ان کا کرونا کے سبب ہلاکتوں پر مثال دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹریفک حادثوں کے سبب اب ٹریفک پر تو پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ وہ واحد رہنما نہیں جو امریکی صدر کی مانند وائرس کے نقصان کو ہوا کرنے میں بے تکے جواز گڑھ رہے ہیں۔ پاکستان دنیا میں ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کرونا وائرس کے جوبن پر ہونے کے باوجود تجارتی سرگرمیاں اور کاروبار کھول دئیے گئے ہیں۔ جہاں ہمارے وزیراعظم اس کے جواز میں دوسرے ممالک کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے وہاں شاید وہ اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام ٹھہرے ہیں کہ ان ممالک نے صرف اسی وقت کاروبار کھولنے کی جانب قدم بڑھایا تھا جبکہ ان کی ہاں وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی تھی۔ مزید یہ کہ ان ممالک نے کاروبار جاری رکھنے کیلئے نہایت سخت پابندیوں کا بھی اطلاق کیا ہے جبکہ دوسری جانب ہمیں کیسوں میں اضافے کے باوجود صرف پابندیاں ہٹانے کی ہی جلدی ہے۔
ہم نے اب تک کم ازکم کسی کو بھوک کے ہاتھوں تو مرتے نہیں دیکھا البتہ اس وبا سے کئی سو اموات ہو چکی ہیں۔ اب بازاروں میں سماجی فاصلے کے تمام تکلفات کو پس پشت ڈال کر جس طرح ہجوم لگایا جا رہا ہے وہ کسی افتاد سے کم نہیں۔ امن وامان کی صورتحال بھی ملک بھر میں دگرگوں ہوتی جا رہی ہے جبکہ قیادت صورتحال کی سنگینی کو سنجیدہ لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔
کئی ماہرین طب اس بات سے ہوشیار کر چکے ہیں کہ ہمارے سامنے صحت عامہ کے حوالے سے ایک تباہ کن صورتحال منتظر کھڑی ہے۔ سو اگر ایسا ہوگیا تو ملکی معیشت کا کیا بنے گا؟ کیا ہماری قیادت نے یوں اچانک لاک ڈاؤن کھولنے کے وقت ان نتائج کے حوالے سے کوئی غور وخوض کیا تھا؟ یہ بات تو اب واضح ہو چکی ہے کہ وفاقی حکومت تو شروع دن سے ہی وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے تالہ بندی کی حامی نہیں تھی۔
لاک ڈاؤن کیخلاف اس پوری تحریک میں وزیراعظم عمران خان صف اول میں مخالفت کرتے نظر آئے۔ اس بے دلی سے کئے گئے اقدام سے ناصرف متوقع نتائج کے حصول میں ناکامی ہوئی بلکہ اس نے معیشت کی جلد بحالی کے تمام آثار بھی معدوم کر دئیے ہیں۔ وفاقی کابینہ شاید اس بات کو بالکل نہیں سمجھ سکی کہ کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانا بھی معیشت کی جلد بحالی میں کارگر ثابت ہو سکتا تھا۔
اگر پچھلے دو ماہ کے دوران لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرامد کرایا جاتا تو اس وقت صورتحال خاصی بہترہوتی۔ اگرچہ اس سے کیسوں کی تعداد معتدل نہ بھی ہوتی تب بھی کم ازکم ہم متاثرین کی اتنی بہتات ہونے سے روک لیتے جو ہمارے ملک کے کمزور نظام صحت کی کمر توڑ سکتی ہے۔ مزید برآں آئے دن ڈاکٹروں اور طبی عملے کی بڑھتی تعداد کا بھی اس وائرس سے متاثر ہونا خاصی فکر مندی کی بات ہے۔ اگر ہم شروع میں ہی صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے مؤثر اقدامات کر لیتے تو متاثرہ کیسوں کی تعداد کو محدود رکھا جا سکتا تھا۔ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ کیسوں کی زیادتی کے باوجود بروقت اقدامات ان کی تعداد میں کمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اب بھی لاک ڈاؤن کو نرم کرنے سے پہلے حکومت کو سماجی فاصلوں پر بھرپور عملدرآمد یقینی بنانا چاہئے تھا چاہے یہ جتنے بھی لمبے عرصے کیلئے کرنا پڑتا اور اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ اور نئے کیسوں کی بروقت شناخت کیلئے بھی اقدامات لینا ناگزیر ہے، اگرچہ ہماری ٹیسٹوں کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے البتہ یہ ابھی بھی کافی نہیں۔ کئی صوبوں سے یہ خبریں آئی ہیں کہ وہاں جانتے بوجھتے کم ٹیسٹ لئے گئے ہیں تاکہ متاثرین کی اصل تعداد کو چھپایا جا سکے۔ اس تمام عمل میں شفافیت نہایت اہم ہے کہ تبھی ہم اس وبا سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں گے۔
ایسی بے یقینی کی صورتحال میں حکومت کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا اور کسی بھی سنی سنائی رائے پر فیصلے لینے سے باز رہنا ہوگا۔ سب سے زیادہ فکر کی بات تو یہ ہے کہ ہماری حکومتی پالیسیاں اس قیاس پر جاری ہیں کہ ہماری قوم ایسی وباؤں سے قدرتی مدافعت رکھتی ہے ۔ یہ نہایت خطرناک بات ہے کہ اس سے پہلے بھی جن ممالک نے آغاز میں اپنی پالیسیاں اس غلط فہمی کی بنیاد پر ترتیب دیں انہیں اس وبا کے اثرات دیکھنے کے بعد اپنی نظریات بدلنا پڑ گئے۔ مگر ہماری حکومت اب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسی تھیوری پر کاربند نظر آتی ہے۔ بھلا ایسا کیوں ہے کہ اس رد شدہ اور بوگس نظرئیے کو غریب ممالک میں وباسے نمٹنے کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے بڑے جانی نقصان کا خطرہ موجود ہے۔ پاکستان جیسے نوجوان آبادی کے حامل ملک کیلئے تو یہ اور بھی خطرناک ہے۔ ہم اس وقت سیاسی انارکی اور پالیسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھلا عوام سے قانون کا پالن کرنے کی امید کس طرح کی جا سکتی ہے جب قیادت خود ہی لا قانونیت کو فروغ دے رہی ہو؟
(بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)