بھارت! کرونا کے پھیلاؤ کے ذ مہ دار مسلمان نہیں

بھارت میں مسلمان کبھی بھی آسان زندگی نہ گزار سکے لیکن جب سے مودی برسراقتدار ہے ان کی زندگی اجیرن ہے۔ انتہا پسند ہندو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں مسلمانوں کو اذیت نہ دی جائے۔ شہریت کا حال ہی میں منظور ہونے والا بل بھی صرف مسلمانوں کی نفرت میں بنایا گیا۔ اسی طرح مسلمانوں کیخلاف ہونے والے فسادات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کی کوئی جگہ نہیں اور اگرچہ وہ اسی زمین کے باشندے ہیں، ان کے آباو اجداد اسی مٹی میں پیدا ہوئے اور اسی میں دفن ہوئے، ان کی تمام تر خدمات اسی بھارت کیلئے ہیں، یہی انہوں نے تجارت کر کے اس کی منڈیوں کو کامیاب کیا، یہاں کے ایٹمی سائنسدان تک مسلمان رہے ہیں جنہوں نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا، اس کی فلم انڈسٹری کو اس کی کمائی کا ذریعہ بنایا، غرض ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن جب بھی ہندوؤں کا دل چاہا انہوں مسلمانوں کو کبھی گائے کی موت کے بعد بے تحاشا تہہ تیغ کیا اور یوں جانور کو انسان پر فوقیت دی، کبھی ان کی مساجد کو نشانہ بنایا، کبھی ان کے گھروں کو آگ لگائی، کبھی ان کے تہواروں پر ان کیخلاف خون کی ہولی کھیلی اور کبھی اپنے تہواروں کو یادگار بنانے کیلئے ان کا خون بہا دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو بھارت میں معمول کی کارروائیاں ہیں جو سال بھر جاری رہتی ہیں لیکن اس بار تو انہونی ہوئی کہ ایک وباء جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے مغرب خاص کر اس کی زد میں ہے اور ترقی یا فتہ یورپ اور امریکہ میں ہزاروں لوگ روز مر رہے ہیں وہ اس وباء کے سامنے بے بس ہیں اور امریکہ کی تو خاص کر چیخیں ہی نکل گئیں۔ ایشیا بالخصوص پاکستان اور بھارت ابھی تک کافی بہتر حالت میں ہیں کہ بھارت نے اپنے ہاں پھیلنے والی وباء کو مسلمانوں کیساتھ نتھی کر لیا ہے اور انہیں اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، یہ سب کچھ تو اندرون بھارت ہو رہا ہے اگر کشمیر کو الگ سے لیا جائے تو اس طویل کہانی میں مظالم اور سختیوں کی الگ داستانیں ہیں جو بذات خود ایک الگ موضوع ہے۔ یہ ایک مختصر ترین جائزہ ہے بھارت میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کی زبوں حالی کا جس سے وہ روز گزرتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت کے بیس کروڑ مسلمان تو ان حالات سے گزر رہے ہیں لیکن مسلمان دنیا نہ صرف یہ کہ خاموش ہے بلکہ بھارت سے اپنے تعلقات پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، اس کے وزیراعظم کو عین اُس وقت جب وہ بھارت کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور وہاں کے مسلمان اپنے حق کیلئے سڑکوں پر گولیاں کھا رہے تھے کو اعزازات سے نوازا جا رہا تھا۔ لیکن جب بھارت نے غیر ذمہ داری اور مسلم دشمنی کی حد کرتے ہوئے کرونا کے پھیلاؤ کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ڈالی تو عرب دنیا بھی کسمسائی اور کچھ جگہوں سے بھارت کے روئیے پر تنقید کی گئی۔ ایسی ہی ایک ٹویٹ اومان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی مونا فہدالسید کی طرف سے بھی سوشل میڈیا پر نظر آئی اور بائیس اپریل کے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اسے دکھایا گیا جس میں شہزادی نے بھارت میں مسلمانوں کیساتھ شرمناک روئیے اور سلوک پر تنقیدکی اور ساتھ ہی یاد دلایا تھا کہ اومان میں ایک ملین بھارتیوں کیساتھ اچھا سلوک کیا جا رہا ہے لیکن پھر یہ کہا گیا کہ یہ ٹویٹر اکاؤنٹ جعلی ہے اور شہزادی نے ایسا کوئی ٹویٹ نہیں کیا۔ بھارتی سفیر نے بھی فوری طور پر ٹویٹ کیا کہ شہزادی کی طرف سے جعلی اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا گیا ہے اور عرب دنیا نے بھی پھر آنکھیں بند کر لیں اور سو گئی۔ اومان کی شہزادی نے بھی اگر کسی غیرت ملی میں آکر ٹویٹ کرہی دی تھی تو اُسے اس کو اپنا مان لینا چاہئے تھا کیونکہ واقعی بھارت میں مسلمانوں کیساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا، وہ واقعی گلی محلوں اور سڑکوں پر قتل کئے جا رہے ہیں۔ خاص کر کرونا کے مسلمان مریضوں اور بالحضوص تبلیغی جماعت کے کارکنان کیساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اُس نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو کچھ حقیقت سے آشنا کیا۔ شہزادی ہند القاسمی نے ایودھیا کے ایک شہری کے نفرت انگیز اور شرانگیز ٹویٹس کا جواب دیا اور کہا کہ اگر دبئی میں ہندوؤں نے کام کیا ہے تو پیسے لیکر اور یہ کہ آپ لوگ اپنا رزق ہماری زمین سے کماتے ہیں لہٰذا ہم پر احسان نہیں کرتے۔ اسی طرح سعودی عرب سے ایک عالم شیخ عابدی زہرانی نے بھی سعودی اور خلیجی حکومتوں سے کہا ہے کہ ایسے لوگوں پر پابندیاں لگائی جائیں جو اسلام کے اور نبی پاکۖ کیخلاف بات کریں اور انہیں اپنی ہندوتا واپس گھر لے جانے کو کہا جائے۔ اس بار تو او آئی سی کو بھی کچھ ہوش آیا اور کہا کہ ”اسلاموفوبیا کے تحت مسلمانوں کیخلاف میڈیا پر، سیاست میں اور معاشرتی وسماجی پلیٹ فارمز پر جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اُس پر ہم برہمی کا اظہار کرتے ہیں اور خاص کر جو یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ کے ذ مہ دار مسلمان ہیں اسے سختی سے مسترد کرتے ہیں” بات دراصل یہ ہے کہ اگر مسلمان ممالک پہلے ہی بھارت کے اس طرح کے اقدامات کا نوٹس لیتے تو بھارت کے مسلمان اُس کسمپرسی کا شکار نہ ہوتے جس کا آج وہ سامنا کر رہے ہیں۔ مسلمان اور خاص کر عرب دنیا کو اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئے اور بھارت کے مسلمانوں کیساتھ کھڑا ہو جانا چاہئے تاکہ اُن کے مسائل بھی حل ہوں اور بھارت اُن کی جانوں کو گائے کی جان سے بھی کم تر نہ سمجھے۔ یہ مسلمان پچھلے تقریباً پچھتر سال سے جس تکلیف کا شکار ہیں اس کا احساس اب مسلم دنیا کو ہو جانا چاہئے اور بھارت کے شدت پسندانہ چہرے کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جانا چاہئے تا کہ دنیا اُس کی اصلیت سمجھ سکے۔