پڑوسی کے پڑوسی کا دوست؟

مہابھارت کا جو غبار بھارت کے ہندو دانشوروں کے دماغوں میں صدیوں سے سمایا تھا اب ایک سخت گیر ہندو حکومت قائم ہونے کے بعد عملی شکل اختیار کرکے اپنا رنگ جما اور وجود منوا رہا ہے۔ مہابھارت ایک بے لگام تصور ہے اور اس ذہنی عیاشی کی کوئی حد نہیں۔ اس خاکے میں عرب سمیت پورا جنوبی ایشیا اور چینی علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ نظریاتی اُبال بھارت کو اپنے جامے میں نہیں رہنے دے رہا اور وہ اپنے ہمسایوں کیساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ کرتا چلا آرہا ہے۔ پاکستان کیساتھ بھارت کا اختلاف کبھی ہوتا ہی نہیں اگر بھارت نے کشمیر کے سیدھے سادے معاملے کو حیلوں بہانوں سے اُلجھانے کی کوشش نہ کی ہوتی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے امریکہ اور کینیڈا کی مثال دی تھی مگر ہندو انتہا پسندوں نے تقسیم کے اصولوں کو نظرانداز کرکے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی اور فسادات کے نام پر لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے کا جو منصوبہ بنایا اس نے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل خلیج اور آویزش پیدا کی۔ کشمیر اب پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں پاؤں میں چبھنے والے کانٹے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یوں قائداعظم نے بھارت کیساتھ کینیڈا اور امریکہ جیسے تعلقات کی خواہش کی تھی مگر دونوں ملکوں کے تعلقات میں مستقل دشمنی کا عنصر پیدا ہو کر رہ گیا۔ دونوں ملکوں میں تین کھلی جنگیں ہو چکی ہیں اور ایک ادھوری جنگ کارگل کی صورت میں ہوئی۔ ستر بہتر سال کا عرصہ زیادہ تر دونوں ملکوں کے درمیان مخاصمت میں گزر گیا ہے اور آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پورے عروج پر ہے۔ کنٹرول لائن پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، اس کشیدگی کی وجہ یہ ہے بھارتی ذہنوں میں سمایا ہوا ”مہابھارت” کا زہر ہے جس کے زیراثر بھارت کشمیر کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے بعد اگلا نشانہ براہ راست پاکستان ہے۔ چین کیساتھ بھی آزادی کے ابتدائی دس سال تک گاڑھی چھنتی رہی، چو این لائی نے بھارت کا دورہ کیا تو دس میل لمبا جلوس نکال کر بھارتی ناچ ناچ کر اور ہندی چینی بھائی بھائی کے نعروں کیساتھ ان کا استقبال کرتے رہے۔ پنڈت نہرو نے بھی چین کا دورہ کیا جہاں ان کا پرجوش استقبال کیا مگر بھارت اپنی خو سے باز آنے والا نہیں تھا۔ بھارت نے چین کیساتھ سرحدی چھیڑ چھاڑ شروع کی جس کا نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں ہونے والی شدید جنگ ہے۔ اس جنگ میں چین نے بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ اس کے بعد سے چین اور بھارت کے تعلقات میں کبھی سدھار نہ آسکا۔ گزشتہ چند روز سے چین اور بھارت کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں، ان جھڑپوں میں کئی بھارتی فوج زخمی ہو چکے ہیں ۔تبت کے علاقے میں بھارت اور چین کے درمیان مستقل آویزش جاری ہے۔ اب بھارت کے ایک اور ہمسائے نیپال کیساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ یہ ہمسایہ نیپال ہے، نیپال ایک عرصے تک دنیا کی واحد اعلانیہ ہندو ریاست رہا ہے گو اب نیپال ایک سیکولر جمہوریہ کی شکل میں سامنے آچکا ہے مگر یہ بھاری ہندو اکثریت کا ملک ہے جس میں ہندو مذہب کی بے شمار مقدس علامتیں اور مقامات ہیں۔ بھارت کے مقابلے میں نیپال کی مثال ہاتھی اور چیونٹی کی ہے، چین اور بھارت جیسے دیوہیکل ملکوں کے درمیان پھنسے ہوئے نیپال کے جارحانہ عزائم ہو سکتے ہیں نہ لمبے چوڑے خواب۔ ایسے ملک کا سب سے بڑا خواب یہی ہو سکتا ہے کہ ہاتھیوں کے درمیان اس کا وجود قائم رہے اور ہر لمحہ عافیت اور خیریت لکھتا رہے۔ نیپال کے تزویراتی عزائم ہیں نہ توسیع پسندانہ منصوبے مگر اس ملک کیساتھ بھی بھارت کے تعلقات اُتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2015 میں نیپال میں کمیونسٹ پارٹی برسراقتدار آئی تو بھارت کو یہ تبدیلی ہضم نہ ہو سکی۔ بھارت نے نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی جس کے بعد نیپال نے بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے چین کیساتھ تعلقات کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس وقت سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکے۔ بھارت نے نیپال کے علاقے لپولکھ میں ایک سڑک کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ پانچ اگست کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیریٹری قرار دینے کے بعد جو نقشہ جاری کیا تھا اس میں نیپال کے اس علاقے کو بھی بھارت کا حصہ بتایا گیا تھا۔ اس وقت بھی نیپال نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ اب سڑک کے افتتاح کے بعد کشیدگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ نیپال نے سڑک کی تعمیر اور افتتاح کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور کھٹمنڈو میں بھارتی سفیر کو وزارت خارجہ میں بلا کر اس اقدام پر شدید احتجاج کیا گیا۔ سر ی لنکا کیساتھ بھارت کے اختلافات کی داستان بھی دہائیوں پر محیط ہے۔ بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کا تجربہ بھارت نے نیپال میں تامل تنظیم لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام ایل ٹی ٹی ای بنا کر دہرانے کی کوشش کی تھی مگر بھارت کو اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی اور سری لنکا کی حکومت اور فوج نے تامل ٹائیگرز کو 35سال کی محنت کے بعد کچل کر نیست نابود کر دیا۔ اس وقت چین پاکستان اور نیپال کیساتھ بھارت کے تعلقات میں کشیدگی قابل غور ہے۔ بھارت ہمسایوں کو برداشت نہیں کرتا مگر ہمسایوں کے ہمسایوں کیساتھ گہری دوستی رکھتا ہے اور اس کا مقصد ہمسایوں کو گھیرنا اور مسلسل مشکلات کا شکار کئے رکھنا ہے، یہ چانکیہ کا فلسفہ ہے اسی فلاسفی کے تحت ہمسائے کے ہمسایوں افغانستان اور ایران کیساتھ بھارت کی گہری دوستی ہے۔ بھارت کا مہابھارت کا توسیع پسندانہ تصور ہمسایوں کیساتھ اس کی کھٹ پٹ اور آویزش کی مستقل وجہ ہے۔