اپوزیشن کا آئیڈیل ازم

حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایک پرجوش راہنما شہریار آفریدی قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ یہ عہدہ سینئر سیاسی شخصیت سیدفخرامام کے وزیر بننے کے بعد سے خالی چلا آرہا تھا مگر عہدہ خالی ہوتے ہی اس عہدے کیلئے شہریار آفریدی کا نام گردش کررہا تھا۔ شہریار آفریدی کو کمیٹی کا ممبر بناتے ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ حکومت انہیں کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ دینا چاہتی ہے۔ ان کے انتخاب پر کمیٹی میں اپوزیشن ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور یوں شہریار آفریدی کثرت رائے سے چیئرمین منتخب ہوگئے۔ اپوزیشن کے اعتراض کی وجہ اگر یہ ہوتی کہ شہریار آفریدی عمران خان کے سخت گیر حامیوں اور پرجوش لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کا یہ جوش وجذبہ اکثر ٹی وی ٹاک شوز اور قومی اسمبلی کے اندر اور باہر تقریروں میں جھلکتا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ اپوزیشن نے شہریار آفریدی کی بجائے کسی سینئر، تجربہ کار اور سنجیدہ شخصیت کو چیئرمین بنانے پر اصرار کیا۔ اپوزیشن نے اس منصب کیلئے ایک آئیڈیل شخصیت کا تصور پیش کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ان کی اس اہم معاملے سے گہری دلچسپی کا مظہر ہے کیونکہ ان کے خیال میں شہریار آفریدی کشمیر کے موضوع پر زیادہ گرفت نہیں رکھتے مگر اپوزیشن کے اس آئیڈیلزم اور اعلیٰ معیار نے کمیٹی اور اس کی سربراہی کی پوری تاریخ نظروں میں گھما کر رکھ دی۔ آج کی اپوزیشن جب اپنی باری کی حکمران تھی تو انہوں نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے کسی میرٹ اور کشمیرکاز سے دلچسپی اور موضوع پر گرفت کا قطعی خیال نہیں کیا۔ خدا غریق رحمت کرکے چوہدری سرور نام کے ایک مرنجان مرنج انسان چیئرمین کشمیر کے دریاؤں کیساتھ سمندروں کا ذکر کرنے پر مشہور ہو ئے تھے حالانکہ تاریخ کے کسی دور میں کشمیر میں کہیں بھی سمندر اور ساحل نہیں رہے۔ شریف النفس چیئرمین اپنا مافی الضمیر بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد چیئرمین شپ کا تعلق کشمیر سے زیادہ سیاسی رشوت، ضرورت اور مصلحت سے رہا۔ کشمیر کمیٹی کے پہلے چیئرمین نواب زادہ نصراللہ خان وہ واحد شخصیت تھے جو اس منصب کے اہل بھی نظر آتے تھے اور انہوں نے اپنے منصب سے انصاف بھی کیا۔ نواب زادہ نصر اللہ خان اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی انتخاب تھے اور انہوں نے اس کا حق بھی ادا کیا۔ خود بینظیر بھٹو چاہتی تھیں کہ کشمیر کمیٹی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر کچھ نہ کچھ فائدہ ہو کیونکہ امریکہ اور یورپ میں منتخب ایوانوں اور نمائندوں کی رائے کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے بعد میاں نواز شریف کے دور میں چوہدری سرور چیئرمین بنائے گئے تو ان کی بول چال اور کشمیر قدم قدم پر نواب زادہ کی کمی محسوس ہوتی رہی۔ یہ وہ دور تھا جب نوازشریف کی جی ایچ کیو کیساتھ رسہ کشی شروع ہو چکی تھی۔ چوہدری سرور کے انتخاب سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ میاں نوازشریف کشمیر کو کسی اور کا مسئلہ سمجھ کر خود امن اور دوستی کی راہوں پر سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جیسے فصیح البیان شخص کی فصاحت وبلاغت اور نکتہ آفرینی، دلائل پیش کرنے کی قدرت بات سے بات نکالنے کا فن کشمیر کے معاملہ میں کہیں دکھائی نہ دیا۔ وہ مدتوں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بن کر کشمیر کا ذکر کرنا ہی بھول گئے۔ جب سے وہ کمیٹی کی سربراہی سے رخصت ہوئے تو معلوم ہوا کہ کشمیر کمیٹی کا کشمیرکاز سے زبانی کلامی سہی کوئی تعلق نہیں ہے۔ سید فخرامام ایک سنجیدہ اور قدآور سیاستدان تھے اور انہوں نے کشمیر کے حوالے سے ماضی کی خاموش پالیسی میں تبدیلی کی۔ اہم دنوں اور مواقع پر نظر آتے رہے۔ اب شہریار آفریدی کمیٹی کے چیئرمین بنے ہیں تو حکومت نے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا۔ شہریار آفریدی ایک پرجوش سیاسی کارکن ہیں، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے فوجی سپہ سالار اور کمانڈر جیسی توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتی۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کے نظام کا ایک حصہ ہے جس کا تعلق حکومت کو مشورے دینے سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ کوئی پالیسی ساز ادارہ بھی نہیں اور نہ وزارت خارجہ کی طرح کوئی بااختیار ادارہ ہے۔ یہ جمہوری ایوان میں حکومت کی کشمیر پالیسی کا پرتو ہوتا ہے۔ کمیٹی کی فعالیت سے اس کاز سے حکومت کی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے اور عمومی طور پر کمیٹی کے چیئرمین سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ کشمیر کے حوالے سے کسی بھی اہم موقع پر وہ اپنے بیانات اور وجود سے کہیں دکھائی دے۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو رائے عامہ کی اتنی معصوم سی خواہش کا احترام کرنا ہوتا ہے۔ اس سے وفاقی وزیر کے برابر حاصل مراعات میں کمی ہوتی ہے نہ اضافہ بس یہ اس منصب سے عوامی توقعات کا معاملہ ہوتا ہے۔ شہریار آفریدی سے توقع ہے کہ وہ کشمیرکاز کا گہرائی میں معالعہ کریں گے اور پھر اپنے روایتی سٹائل ”تباہ کردیں گے برباد کردیں گے” کی بجائے ہر فورم پر منطق اور استدلال سے گفتگو کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں کشمیرکا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہو رہا ہے۔ بھارت نے پانچ اگست کے یکطرفہ قدم کے بعد حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے اور مستقبل قریب میں یہ ڈور سلجھتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کشمیری عوام جس ظلم وجبر کا سامنا کررہے ہیں اس میں کمی کا فوری امکان نہیں۔ دونوں متحارب ملکوں میں اس حوالے سے کوئی مفاہمت ہونے کا امکان بھی نہیں۔ بھارت کی جارحانہ پالیسی کے مقابلے میں پاکستان کو بھی اسی لب ولہجے کو اپنانا ہوگا مگر یہ صرف جواب دینے کی حد تک ہونا چاہئے جب کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا ہو تو اس کیلئے جذبات کی بجائے قانون، دلیل اور تاریخ سے کام لینا لازمی ہے۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے شہریار آفریدی یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں اور ڈپلومیسی کے مد وجزر اور کشمیر کے زمینی حقائق سے پوری طرح آشنا اور باخبر ہوں۔