بورڈ امتحانات اور جامعات کے طلباء کی مشکلات

صوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورت اور اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم نے ملک بھر کے بورڈ امتحانات کیلئے جو حتمی اعلان کیا ہے اس میں طلبہ کو مختلف انداز میں سہولت اور رعایت دے کر اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ طلبہ کم سے کم متاثر ہوں اور ان کی شکایات کا ازالہ ہو، بعض نوعیت کے حامل طلبہ کو خصوصی امتحان کا موقع بھی دیا گیا ہے جس کا انعقادستمبر سے نومبر کے درمیان ہوگا۔ اس ضمن میں ابہام یہ ہے کہ یہ طلبہ نئے تعلیمی سیشن میں کیسے پہنچ پائیں گے، تعلیمی سیشن کا آغاز کب ہوگا؟ اس امر کا امکان نظر آتا ہے کہ حالات کے تناظر میں نئے سیشن مقررہ وقت پر شروع نہ ہوسکے، ستمبر اور نومبر کے درمیان میں خصوصی امتحان میں شرکت کرنے والے طلبہ کی تعداد محدود ہے، ان کوکھپانے کیلئے چالیس لاکھ طالب علموں کے سیشن میں تاخیر مناسب نہ ہوگا۔ طلبہ پہلے ہی امتحانات میں عدم شرکت اور حالات کے باعث پڑھائی سے کٹ چکے ہیں اور اگر نئے سیشنز بھی تاخیر سے شروع ہوں تو اس سے چالیس لاکھ طالب علموں کے مستقبل کا سوال اُٹھے گا، بہتر ہوگا کہ اس کیلئے بھی کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے، زیادہ مناسب ہوگا کہ حفاظتی تدابیر کیساتھ خصوصی امتحانات کا انعقاد ستمبر کے اوائل میں کر دیا جائے اور خصوصی اقدامات کے ذریعے ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے اوائل میں ان کے نتائج کا اعلان کیا جائے اوراکتوبر ہی میں کالجوں کے سیشن شروع کئے جائیں۔ علاوہ ازیں جامعات کے حوالے سے بھی ایچ ای سی کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرے، آن لائن کلاسز کا طریقہ کار قابل عمل نہیں اس سے بہتر یہ ہوگا کہ طلبہ کو اس کا مواد آن لائن اور بذریعہ ڈاک دیکر ہر طالب علم کو اپنی استعدادوقابلیت کے مطابق تیاری کی ہدایت کی جائے اور امتحان لیا جائے تاکہ انٹر نیٹ سے محرومی کے باعث طلبہ کا ایک طبقہ متاثر اور دوسرا مستفید ہونے کی تفریق کا خاتمہ ہو۔
ایل آر ایچ کو بچائو!
خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کو خودمختاری ملنے کے بعد جس قسم کے انحطاط کا سامنا ہے وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں، علاج معالجے کی سہولتوں میں کمی مریضوں کی شکایات میں اضافہ اور غیر ضروری سفارش ونااہل عملے کی بھرمار بھرتیوں میں بد عنوانی کی شکایات سمیت وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے معاملات پر محکمہ صحت اور صوبائی حکومت کی خاموشی خودمختاری کے باعث یا پھر مختار کل کے باعث اس سے قطع نظر تشویش کی بات یہ ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال جو صرف خیبرپختونخوا کے علاوہ اٹک ومضافات ہی نہیں افغانستان تک کے مریضوں کے علاج کا مرکز تھا اب عالم یہ ہے کہ ناقص انتظامات کے باعث ڈاکٹروں کے بار بار احتجاج کے بعد اب استعفے دینے کی نوبت آگئی ہے۔ مستعفی خاتون ڈاکٹر کے مطابق کورونا سے نمٹنے کیلئے ہسپتال انتظامیہ نے نہ کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی مریضوں کو کوئی سہولیات دی گئیں۔پورا گائینی وارڈ کورونا زدہ ہونا بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں، سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ ہو کیا رہا ہے اور صوبائی حکومت اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی ہے۔ ہسپتال کا بورڈ آف گورنرز کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ کیوں صورتحال کا نوٹس نہیں لیتیں، ہسپتال کے بعض شعبے بند کرنے کی نوبت تک بھی آچکی ہے ہسپتال انتظامیہ آخر کسی بات کی ذمہ داری لینے کو تیار کیوں نہیں۔ آخر ان سے پوچھے گا کون اور کب پوچھا جائے گا، صورتحال سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ یا تو عدالت عالیہ ازخود نوٹس لے گی یا پھر سول سوسائٹی عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کو اس انجام سے دوچار کرنے کی ذمہ داری سابق حکومت پر عائد ہوتی ہے صوبے کے ہسپتالوں میں تجربات کرنے اور ناچ نجانے آنگن ٹیڑھاکے مصداق معاملات پر اب نظرثانی کی ضرورت ہے، کو اچلا ہنسں کی چال اور اپنی بھی بھول گیا کے مصداق ہونے والے اس ہسپتا ل کے انتظامات اور معاملات پر نظرثانی کی جائے اور ہسپتال کو دوبارہ فعال اور مرکز علاج بنایا جائے، مزید تساہل اور تاخیر کی گنجائش نہیں۔ کسی ہسپتال کی بدانتظامی سے تنگ آکر ڈاکٹروں کا ملازمت ہی سے استعفیٰ جیسا انتہائی اقدام معمولی واقعہ نہیں جب ڈاکٹرز ہی کام کرنے پر تیار نہیں ہوں گے اور ان کو کام کا مناسب ماحول نہیں ملے گا تو ہسپتال کے وجود کا جواز ہی کیا رہ جائے گا۔
قابل صد تحسین وتقلید اقدام
نادار افراد کی دستگیری کیلئے مختلف مواقع پر باعزت طریقے سے مدد کے طریقے اپنانا معاشرے کا حسن ہے، کبھی دیوارمہربانی اور کبھی دیگر طریقوں سے اس کے مظاہر سامنے آتے ہیں۔ اسلام آباد کے تندوروں پر نیکی کی ٹوکری کے نام پر تندوروں پر ٹوکریوںمیں روٹی رکھنے اورنادار افراد کو اس سے بنا ہاتھ پھیلائے فائدہ اُٹھانے کا موقع دینا رمضان المبارک کی وہ بڑی نیکی ہے جس کے حد درجہ مقبول ہونے میں شک کی گنجائش نہیں۔ اس طرح کا ایک طریقہ پشاور میں تندوروں سے روٹی دینے کی مثالیں موجود ہیں لیکن ضرورتمندوں کا رش اور انتظار تکلیف دہ بات ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے پوش علاقوں شامی روڈ، یونیورسٹی ٹائون،حیات آباد اور دیگر علاقوں میں اگر یہ سلسلہ شروع کیا جائے تو ایک دو روٹی کا ہرکھانے کے وقت عطیہ مشکل امر نہیں بلکہ اس طرح کا ایثار تو متوسطہ علاقوں میں بھی باآسانی ممکن ہے۔ تندوروں میں نیکی کی ٹوکری رکھنے کا انتظام انجمن نانبائیان کے توسط سے شروع ہو تو اس کی کامیابی اور لوگوں کی اس میں دلچسپی وتعاون یقینی ہے۔