کیا دنیا کروٹ بدل چکی ہے

یہ بات تو درست ہے ہی کہ کرونا وائرس نے ساری دنیا میں ایک ہلچل مچا رکھی ہے، برق ذرائع ابلاغ، چھاپہ خانہ کے نشریات ہوں یا پھر سوشل میڈیا ہو سبھی پر کرونا ہی کی دھن سوار ہے، ایسی رنگ داری ہو رہی ہے کہ عوام کی سمجھ میں آہی نہیں رہا ہے کہ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے اور اس کا شکار خود حکومت بھی ہو کر رہ گئی ہے۔ کبھی اطلاع کرتی ہے کہ امتحانات ہوں گے، کبھی یہ اعلان آجاتا ہے کہ نہیں ہوں گے، کبھی شنوائی پڑ جاتی ہے کہ بناء کسی امتحان طلباء کو اگلی جماعت میں پروموٹ کر دیا جائے گا یہ معاملہ صرف شعبہ تعلیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیگر شعبہ جات کا بھی حال کرونا زدہ ہی لگ رہا ہے، ایک خبر آتی ہے کاروباری فعالیت بحال کر دی گئی ہے پھر یونہی یہ سامنے آجاتا ہے کہ نہیں تین دن کاروبار کی چھٹی ہوگی باقی چار دن لین دین کیا جا سکے گا۔ کبھی کہہ رہے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کھول رہے ہیں، کبھی برعکس تجویز کر دی جاتی ہے گویاکہ کرونا بری طرح زندگیوں پر اثرانداز ہو چکا ہے چاہے وہ صحت سے متعلق ہو یا کاروبار سے یا سیاست ہو یا پھر عالمی حالات کا رخ ہو اس کی جلوہ نمائی تام جھام سے جاری ہے، عوام ہیں کہ دل بے تاب لئے بیٹھے ہیں کہ کل کو کیا ہوگا۔ وہ پوچھ تاچھ بھی نہیں کر سکتے البتہ پوچھ پاچھ کرتے ہیں اور بس۔ اب دیکھیں ان کا استفسار ہے کہ کہا جا رہا تھا کہ 12مئی کو وقت سحر ثریا ستارہ اپنے اوج پر ہوگا اور کرونا وائرس اس جلوۂ افروزی سے منہ ڈھانپ جائے گا مگر خبریں تو وہی وحشت ناک چلی آرہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے کرتادھرتا فرما رہے ہیں کہ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ کرونا وائرس سے کب جان بخشی ہو پائے گی، ایسا لگتا ہے کہ عوام کو برسوں اس وائرس کیساتھ گزر بسر کرنا ہوگا، خود عالمی ادارہ صحت کی کارکردگی کیا ہے اس کا اندازہ تو امریکی صدر ٹرمپ کی ناراضی سے ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ناراض ہو کر اس ادارے کی مالی امداد بند کر دینے کا اعلان کیا تھا اور جس سے اس کا سارا بوجھ مشہور عالم صیہونی بل گیٹس کے کاندھوں پر جا پڑا، خیر یہ عالمی ادارہ بھی اپنی بہنوں عالمی بینک وآئی ایم ایف کی طرز پر وحشت ہی پھیلانے میں لگی ہوئی ہے یہاں برسوں کا صیغہ صدیوں کا ہی لگتا ہے، پاکستانی حکمران بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کے ڈراؤنے خواب دکھاتے رہے اب کسر یہ ادارہ اُتار رہا ہے،یوں اوج ثریا پر عوام کا جو اعتماد قائم ہوا تھا اس کو پانی پانی کر دیا ہے یعنی لوگوں کا ستارہ شناسی پر سے اعتماد جاتا رہا حالانکہ ستارہ شناسی کا اعتماد کسی قوم یا گروہ جموع میں پایا جائے یا نہ پایا جائے البتہ پاکستان، ایران، افغانستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی خواتین میں ستارہ شناسی پر اعتماد بلا پایا جاتا ہے۔ پیار کی پینگیں بڑھاتی ہوئی ستاروں کا حلول بھی دلفریبانہ کرتیں ہیں اورکچھ ہو نہ ہو ستاروں کی کنڈلی ہی ملا لیتی ہیں لیکن جس طرح حکمران کرونا وائرس کی بڑھوتی کا ترانہ الاپ رہے ہیں تو اس میں ستارہ شناسی کی توقیر کیا حقارت ہی ہوگی، خیر یہ باتیں اپنی جگہ ہیں مگر ایک امید افزاء خبر یہ بھی ہے کہ جس عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر نے چین کے شہر ووہان کے بارے میں اطلاع دی تھی کہ وہاں سے جلد کرونا وائرس دفعہ ہوجا ئے گا ان کا ہی کہنا ہے کہ جلد ہی عوام کی اس سے جان چھو ٹنے والی ہے۔ بہرحال جو بھی ہے یہ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس نے دنیا میں نہ صرف صحت کے شعبہ میں اپنے اثرات مرتب کئے ہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی چاہے وہ سماجی، معاشی، اقتصادی، ثقافتی یا پھر خارجی ہیں سب پر اثرات چھاپ دئیے ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے اپنی غیرجانبداری کا لیبل پاکستان کے عوام میں مقبول کرنے کیلئے کشمیر کے مسئلے پر جس ثالثی کا دھڑلے سے اظہار کیا تھا اور عملاً کیا کھیل رہا وہ تو عیاں ہے ہی اب وہ اپنی موودت میں نریندر مودی چومتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ کرونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران وہ بھارت اور نریندر مودی کیساتھ کھڑے ہیں، ویکسین کی تیاری میں بھارت کیساتھ تعاون جاری رہے گا، بھئی ساتھ کھڑے ہونے کا شوق ہے تو کھڑے رہیں ان پر کوئی روک ٹوک تو ہے نہیں، کسی نے بھی نہیں کہا کہ بیٹھ جائیں اگر ساتھ بیٹھنا چاہے تو وہ یہ شوق بھی جم جم پورا کرسکتے ہیں، خبر یہ بتا رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کی موجودگی میں بھارت کو خصوصی طور پر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ان کو اس اعلان سے خوشی اور فخر ہو رہا ہے۔ امریکا بھارت میں اپنے دوستوں کو وینٹی لیٹرز عطیہ کرے گا، امریکی صدر ضرور فراہم کریں اس اقدا م سے پاکستان کو کوئی جلاپہ نہیں ہے، پاکستانی حکمران تو ہمیشہ امریکی خوشی میں خوش رہے ہیں، سو اب بھی ہیں ان کی یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ وہ بھارت کیساتھ متحد ہو کر اس نظر نہ آنے والے دشمن کو شکست دیدیں گے۔ یہ اچھوتی کہی ہے کہ نظر نہ آنے والے دشمن اگر ان کی مراد کرونا وائرس سے ہے تو حیرت ہے کہ ساری دنیا کی نظریں اس وائرس پر ہیں وہ ہی ان کی نظر سے محجوب ہے یہ بھی تک کی بات نہیں کہ کرونا وائرس جو ساری دنیا کا دشمن ہے اس کو وہ صرف بھارت اور امریکا کا دشمن قرار دے رہے ہیں، کیا ان کی نظر میں باقی دنیا کیلئے یہ دوست وائرس ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس جس موودت کا اظہار بھارت سے کیا گیا ہے اس پر لتے بھارت میں ہی پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ ممتاز بھارتی تجزیہ کار اشوک سوائن کا کہنا ہے کہ 1966ء میں آنجہانی بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی نے امریکی صدر لندن بی جانسن سے خوراک کا عطیہ لینے سے انکار کیا تھا تب سے اب تک بھارت نے امریکا سے کسی قسم کا عطیہ نہیں لیا، ان کا کہنا ہے کہ مودی نے بھارت کو ایک مرتبہ پھر سے خیرات لینے والی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔