ایل آر ایچ کی بدانتظامی کے خاتمے کی ضرورت

بدانتظامی جہاں بھی ہوتباہی کا باعث ہے اور قابلِ مذمت ہے لیکن اگر بدانتظامی ہسپتالوں کا رخ کر لے تو بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے کیونکہ انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے تعینات عملہ اگر بدانتظامی کا شکار ہو گا تو انسانی جانوں کے ضیاع کے امکانات بڑھ جائیںگے۔ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ کے مزید چار ڈاکٹروں کا بدانتظامی کی وجہ سے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دینا معمولی واقعہ نہیں ہے’ کہا جا رہا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کو آئی پی پیز کی عدم دستیابی کے نتیجے میں ڈاکٹرز نے استعفے دئیے ہیں’ جن چار ڈاکٹروں نے اپنے عہدوں سے استعفے دئیے ہیں ان میں ایک آئی سی یو کی انچارج خاتون ڈاکٹر بھی شامل ہیں’ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ چند روز سے ایل آر ایچ میں سنگین بدانتظامی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں ‘ حکام کی طرف سے اس کا نوٹس نہیں لیا گیا ہے ۔ کورونا کیخلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے کے باعث ایک طرف تو پوری قوم ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا طبی عملہ بدانتظامی کا شکار ہے’ اگر انتظامیہ نے ڈاکٹرز کے تحفظات دور کرنے کی کوشش نہ کی اور مزید چند روز تک ہسپتال کی یہی صورتحال رہی تو خدشہ ہے کہ ایل آر ایچ میںکوئی بھی سینئر ڈاکٹر موجود نہ رہے’ اس لئے ضروری ہے کہ محکمہ صحت اور وزیر صحت ایل آر ایچ کی بدانتظامی کو ختم کر کے ڈاکٹرز کے تحفظات کو دور کریں کیونکہ یہ لوگوں کی صحت اور جانوں کی حفاظت کا معاملہ ہے ‘ اس سلسلے میں جس قدر تاخیر کی گئی نقصان کا موجب ہو گی۔
ضم شدہ اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کیلئے احسن اقدام
ضم شدہ قبائلی اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کیلئے قبائلی نمائندوں کیساتھ معاملات میں مشاورت اور ان کی شمولیت نہایت ضروری ہے’ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے قبائلی اضلاع کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگروم اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مقامی نمائندوں کی مشاورت کا فیصلہ خوش آئند ہے’ کیونکہ ضم شدہ اضلاع کو دوسرے اضلاع کے برابر لانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ مقامی نمائندوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اس سے قبل جب قبائلی اضلاع وفاق کے ماتحت تھے تو قبائلی اضلاع کی قسمت کا فیصلہ عام طور پر وہ لوگ کرتے تھے جو بالعموم قبائلی اضلاع کے مسائل اور جغرافیائی حیثیت سے واقف نہیں تھے۔ قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کی بنیادی وجہ بھی یہ تھی کہ مقامی نمائندوں کے پاس اختیارات نہ ہونے کی بنا پر دیرینہ مسائل حل نہیں ہو رہے تھے۔ اب جبکہ وزیر اعلیٰ کے پی اور وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی دلچسپی پر قبائلی اضلاع کے نمائندوں کو ترقیاتی پروگرام کے مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ مسائل کے ادراک کیساتھ ہی قبائلی اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کیلئے فنڈز کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائیگا کیونکہ اصل مسئلہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے’ ضم شدہ اضلاع کے انضمام کے موقع پر جس ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا ‘ آج تک اس کا اجراء نہیں ہو سکا’اس تناظر میں وزیر اعلیٰ محمود خان کا ضم شدہ قبائلی اضلاع کو مشاورتی عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حاصل ہے ‘ اس کے دوررس اورمثبت نتائج مرتب ہوں گے۔
جمعة الوداع اور عید کے محدود اجتماعات
پاکستان سمیت دنیا بھر میں جمعة الوداع اور عید کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں لیکن امسال جمعة الوداع اور عید الفطر ایک ایسے موقع پر آ رہے ہیں کہ پوری دنیا سمیت پاکستان کورونا کی لپیٹ میں ہے’ طبی ماہرین کے مطابق لوگوں کے میل ملاپ اور بڑے اجتماعات سے کورونا تیزی کیساتھ پھیلتا ہے اس لئے لاک ڈائون کو لازمی قرار دیا گیا لیکن اب چونکہ دنیا نے کورونا کیساتھ ہی زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو احتیاطی تدابیر کو کسی صورت ترک نہیں کیا جانا چاہیے۔ دریں حالات اگر جمعة الوداع اور عید الفطر کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں تو کورونا کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو جائیگا ‘ اسلئے حکومت نے مسئلے کی شدت کا بروقت ادراک کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ جمعة الوداع اور عید الفطر کے اجتماعات کو محدود کیا جائے ‘ اس ضمن میں اگرچہ تجویز پیش کی گئی ہے اور تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں تاہم ضروری ہے کہ جلد از جلد جمعة الوداع اور عید الفطر کے اجتماعات کے حوالے سے مکمل لائحہ عمل عوام اور مذہبی رہنمائوں کے سامنے رکھا جائے اور مذہبی طبقے کو قائل کیا جائے کہ عید کے اجتماعات مساجد کے بجائے کھلے میدان میں کیے جائیں تاکہ کورونا کی ہلاکت خیزی سے بچا جا سکے۔