تیرا قانون مجھے پھر بھی سزا ہی دے گا

اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی جب بھولے باچھا نے رات کے سناٹے میں یہ آواز سنی کہ ”میں اس کا گلا کاٹتا ہوں اور تو اس کے بازو کاٹ” اس نے ان دہشت ناک جملوں پر غور کرکے کچھ سمجھنے کی کوشش کی لیکن لاک ڈاؤن کے سبب پیدا ہونے والے اس بھیانک ماحول نے اسے ایسا کرنے نہ دیا، اس نے وہاں سے دم دبا کر بھاگ جانے میں عافیت سمجھی، اے اللہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچائیو، رمضان المبارک کے آخری عشرے کی یہ دعا ہر لب پر رہتی تھی اور وہ اس دعا کو ورد زباں بنا کر رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹتے رہتے تھے، جگمگا رہا ہوتا تھا ماہ مقدس کا آخری عشرہ، اللہ کے نیک بندے رب کن فیکون کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مساجد کی کنج تنہائی میں اعتکاف کی نیت سے بیٹھتے اور اس شام تک عبادات الٰہی کی سعادت حاصل کرتے رہتے جب تک ان کے کانوں میں عید کا چاند نکل آنے کی خوشخبری ان کی ریاضتوں کا صلہ بن کر نہ گونجتی، رمضان المبارک کے آخری عشرہ مساجد میں شبینہ کی محفلوں کو سجانے آتا، جشن نزول قرآن منایا جاتا، تلاوت کلام مجید فرقان حمید کی آوازیں گونجتی رہتیں، نعت خوان مسجد مسجد گھوم کر حضور نبی آخرالزماں کی ثناء خوانی کرتے، شیر چائے اور باقر خوانیوں پر مشتمل تبرک اور شیرینی تقسیم کی جاتی، تراویح میں کلام مجید سنانے والے حفاظ کرام کے گلے پھولوں کے ہاروں سے بھر دئیے جاتے، کتنی رونقیں لیکر آتا تھا رمضان المبارک کا یہ عشرہ، اس عشرہ مبشرہ میں آنے والی ایک رات کو شب قدر ہونے کے اعزاز ملنے کا گمان ہوتا، رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو کلام مجید فرقان حمید کے نزول کی رات کے عنوان سے یاد کیا جاتا اور وطن سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی جاتی کہ یہی ہے وہ رات جب مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا تھا، رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں قسمت والے لوگ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے اور روزہ رسول رحمتۖ میں حاضری دینے پہنچ چکے ہوتے، جمعتہ الوداع، خطبے تقریریں، فطرانہ کے مقاصد، شرائط کے علاوہ غریب غرباء میں فطرانہ تقسیم کرنے کی مقدار کے متعلق علمائے کرام اور مشائخ عظام تعلیمات اسلام کی روشنی میں مجھ جیسے عام سی فکر وسوچ کے حامل لوگوں کو آگاہ کرتے، دوسری طرف بازاروں میں عید کی خریداری کرنے والوں کی اس قدر بھیڑ ہوتی کہ کھوا سے کھوا چھلنے لگتا، بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہتی، دکاندار منہ مانگی قیمت پر سودا بیچتے اور عید سعید کی خوشیاں ہر قیمت پر خریدنے والے ان کی ہتھیلی پر وہ قیمت رکھ دیتے، ہائے چاندی ہوتی تھی جن دکانداروں کی عید کی آمد آمد سے پہلے وہ دبک کر رہ گئے اپنے اپنے گھروں گھروں میں، ٹریفک پولیس والے عیدی مہم چلا کرعیدیاں وصول کیا کرتے تھے اور ہم جیسے دل جلے ان کے اس روئیے کو دیکھ کر کہہ اُٹھتے تھے کہ
اگر روک لیں وہ اشارے سے تم کو
سمجھنا یہی وہ شنیدی مہم ہے
ٹریفک کا قانون اپنی جگہ پر
سنا ہے کہ یہ ان کی عیدی مہم ہے
شہر پشاورکے پررونق بازاروں میںگرد ونواح کے دیہاتوں کے زن ومرد عید سے پہلے عید منانے کی غرض سے ٹوٹ پڑتے، پشاور کی گلیوں اور عید کی خوشیاں خرید کر اپنے اپنے گاؤں اور قصبوں کو لوٹ جاتے تھے، کچھ تجربہ کار دکاندار اپنی دکان پر سیل سیل سیل کی تختی لگا کر گاہکوں کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرانے کا کامیاب تجربہ کرتے، جن کی چھری تلے کٹ جانے کے بعد ہم جیدے من جلے کہہ اُٹھتے کہ
کہا بیگم کا مانا اور چلے کرنے خریداری
یوں ہم نے عید اپنی سی منالی عید سے پہلے
دکاں پر ایک تاجر نے لگا کر سیل کی تختی
ہماری جیب سے عیدی نکالی عید سے پہلے
لیکن ہائے کہ اب کے سال ہم ایسا نہ کرسکے، کرونا نے ایسا ہاتھ کیا ہم لاچاروں کیساتھ کہ ہم کسی سے ہاتھ ملانے کے قابل بھی نہیں رہے، سنسان ہوگئیں ہماری گلیاں اور بازار، جب بھولے باچھا کو ایک ایسی ہی سنسان گلی سے گزرتے وقت کسی کا گلا اور بازو کاٹنے کا دہشت ناک جملہ سننے کو ملا تو وہ دوڑتا ہوا اس گلی سے نکلا اوردوچار پولیس والوں کو لیکر اس گیراج کے سامنے پہنچ گیا جہاں کسی کا گلا اور بازو کاٹنے کی کارروائی ہورہی تھی۔ یہ ہے وہ گیراج جہاں سے وہ آواز آرہی تھی اور بھولے باچھا نے پولیس کے سپاہیوں کو لرزتی آواز سے بتایا، پولیس والوں نے دروازے پر دستک دی، دروازہ نہ کھلا تو انہوں نے دروازے کو لات ماری اور دروازہ کھل گیا، کس کا گلا کاٹ رہے ہو، حوالدار نے اپنی رعب دار آواز میں پوچھا، جی اس قمیص کا، گیراج کے اندر کام کرتے ایک ٹیلر ماسٹر نے گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا، اوئے تمہیں معلوم نہیں کہ لاک ڈاؤن ہے، جی جی ہاں، جی جی نہیں، ٹیلر ماسٹر جی نے گھبراہٹ کے عالم میں جواب دینے کی کوشش کی، اوئے کہاں گیا وہ جس نے ہمیں کسی کے گلا اور بازو کاٹنے کی روپورٹ دی، پولیس والوں نے مڑکر بھولے باچھا کی جانب دیکھنا چاہا، لیکن وہاں تو بھولا باچھا تو بھولا باچھا، اس کی پرچھائیں تک نہ تھی۔ بھولا اس خوف سے رفو چکر ہوگیا تھا کہ کہیں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر اسے گرفتار نہ کر لیا جائے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں، اگر بھولا باچھا رفو چکر نہ ہوا ہوتا تو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی سزا پاکر کہہ رہا ہوتا کہ
منصف وقت ہے تو اور میں مظلوم مگر
تیرا قانون مجھے پھر بھی سزا ہی دے گا