جاپان سے سیکھئے

کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے بعد دنیا بہ امرمجبوری معمول پہ آنا شروع ہو گئی ہے، شاید دنیا کے شہ دماغوں نے کورونا کیساتھ ہی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے، ترقی اور ٹیکنالوجی پہ نازاں ممالک کورونا کے سامنے بے بس دکھائی دیئے ہیں اور ہر بات کو سائنس سے جوڑنے والے افلاطونوں کے پاس کورونا کا کوئی توڑ نہیں ہے لیکن زندگی تو چلنے کا نام ہے، بڑے سے بڑا حادثہ بھی زندگی کو جامد نہیں کر سکتا، انسان کی زندگی میں بسا اوقات ایسے حادثات پیش آتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کا خاتمہ سمجھتا ہے لیکن جونہی کچھ عرصہ گزرتا ہے تو انسان کا غم ہلکا ہو جاتا ہے اور زندگی بھی اپنے ڈگر پہ چلنا شروع ہو جاتی ہے، جب انسان کا کوئی قریبی عزیز، گھر کا سربراہ یا واحد کفیل اچانک رخت سفر باندھ لے تو بھی زندگی کے رک جانے کا شدت سے احساس ہوتا ہے لیکن آخرکار انسان اپنے پیاروں کی یادوں کیساتھ ہی زندگی کے امور نمٹانے لگتا ہے، بالکل ایسے ہی آج دنیا بھی اس نتیجے پہ پہنچی ہے کہ کورونا کیساتھ ہی زندگی گزارنی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کا عالمی پھیلاؤ اور اس کے اثرات ونتائج بتاتے ہیں کہ دنیا اب ویسی نہیں رہے گی جیسی ہے۔ اس غیرمرئی جرثومے نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو جتلا دیا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے زعم میں نہ رہیں۔ عالمی بساط پر انہوں نے شطرنج کا جو کھیل شروع کر رکھا ہے اس کے خاتمے کا وقت آپہنچا ہے۔ پیٹرول کی دولت کے نشے میں مست اور غافل عرب ملکوں کو بھی سبق سکھا دیا گیا ہے کہ جن ذخائر پر انہیں ناز تھا، ان کی حیثیت بھی پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کا رخ یورپ اور امریکہ کی طرف خصوصیت سے ہے، لہٰذا اس کے اثرات بد بھی ان ہی ملکوں پر گہرے طریقے سے مرتب ہوں گے۔ امکان یہی ہے کہ امریکہ کی اجارہ داری اور بے جا پابندیوں کے باعث جو شامت مسلم ملکوں پر ٹوٹی تھی، غیرمرئی جرثومہ اس سے زیادہ قیامت امریکہ ویورپ میں بپا کرے گا۔
کورونا وائرس دنیا کے معاملات میں قدرت کی طرف سے تنبیہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ حقیقت پسندانہ طریقے سے عالمی معاملات میں تبدیلی وتغیر کے امکانات مسدود نظر آتے تھے۔ ظلم وجور کا بڑھ جانا، عدل وانصاف کا معدوم ہو جانا، طاقت ہی کا حق بن جانا، طاقتور کے ہاتھوں میں دنیا کی لگام آجانا، کمزوروں اور زیردستوں پر ظلم کے پہاڑ کا ٹوٹنا اور ان کے حق میں کسی کا بھی اُٹھ کھڑا نہ ہونا، یہ اور ایسے بہت سے اساب ومحرکات اشارہ کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کیوں آئی اور وہ تبدیلی لائے گی تو اس کی نوعیت کیا ہوگی۔ دنیا میں کروڑوں لوگوں کا بیروزگار ہوجانا، نظام ہائے زندگی کا تلپٹ ہوجانا، خوف، دہشت اور سراسیمگی سے سڑکوں اور بازاروں اور اجتماع گاہوں کا ویران ہو جانا، ساری دنیا میں ایک فاصلاتی نظام قائم کرکے ساری معاشی واقتصادی سرگرمیوں کو ٹھپ کر دینا، کیا یہ ساری صورتحال اس حقیقت کی غماز نہیں کہ معاملہ محض ایک جرثومے کا وبا بن جانا نہیں بلکہ ایک ایسی تبدیلی کو عالم امکان سے عالم وجود میں لانا ہے جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔ قدرت کو سب کچھ گوارا ہے لیکن انسان کا انسان پر ظلم گوارا نہیں اور چند انسانوں کا سارے انسانوں پر جبر وتشدد تو اس کیلئے قابلِ نفرت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سائنس وٹیکنالوجی نے دنیا کو محیرالعقول طریقے سے بدل دیا ہے اور میڈیکل سائنس نے بے شمار بیماریوں کا علاج دریافت کرلیا ہے لیکن اس معمولی سے غیرمرئی جرثومے نے ساری ایجادات اور ترقی وکامیابیوں کی حیران کن فتوحات کے باوجود انسان کی بے بسی اور بے اختیاری کو اس پہ کھول دیا ہے اور دکھا دیا ہے کہ خلا پہ کمندیں ڈالنے والا اور فطرت پہ قابو پانے والا انسان کتنا ناتواں، کمزور، بے اختیار وبے بس ہے۔
کورونا کی افتاد میں عوام حکومت کے انتظمات کو لیکر حکمرانوں پر تنقید کر رہے ہیں، شعبہ صحت، غریب دیہاڑی اور لوگوں کے بڑی تعداد میں بیروزگار ہوجانے کا ذمہ دار حکومت کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے اس کیساتھ ساتھ عوام حکومت سے یہ توقع بھی کر رہے ہیں کہ حکومت عوام کو گھروں میں راشن پہنچانے کا انتظام کیوں نہیں کر رہی ہے لیکن اس سارے پس منظر میں عوام اپنی ذمہ داری کو قطعی طور پر نظرانداز کر رہے ہیں اور اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے محض حکومت کو ہی موردالزام ٹھہرا رہے ہیں، عوام کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کورونا سے نمٹنے میں قاصر ہیں ایسے حالات میں پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کی حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بھی اپنے شہریوں کو ویسی ہی سہولیات فراہم کرے جیسی سہولیات دیگر ممالک فراہم کر رہے ہیں یقیناً ایسا مطالبہ قرین انصاف نہیں ہے، اسی طرح عوام کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب قوموں پر مشکل وقت آتا ہے تو پوری قوم مل کر اس مشکل سے نکلنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہے جیسے جب امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پہ ایٹم بم گرایا اور اس کے نتیجے میں دونوں شہروں کیساتھ لاکھوں شہری بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے تو جاپان کے عوام نے رونے دھونے اور اپنی حکومت کو موردالزام ٹھہرانے کی بجائے زندگی کو رواں رکھا اور یکجا ہوکر من حیث القوم ایسا کردار ادا کیا جس نے جاپان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر دیا، آج ہمیں بھی حالات کا رونا رونے، کسی سے اُمید باندھنے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔