سوشل میڈیا ماہرین

پوری دنیا اور سارے پاکستان کی طرح میں بھی کرونا کی وجہ سے متاثر ہوا ہوں، ظاہر سی بات ہے کہ ہر کسی کو کرونا نے بلواسطہ نہیں مارا بلکہ کئی لوگ بلاواسطہ بھی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ضروری نہیں جو متاثرین کی تعداد ہمیں حکومت یا میڈیا بتا رہا ہے وہی تعداد اس کا شکار ہیں بلکہ قوت مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں نے اس وائرس کا حملہ پسپا کر دیا ہے چونکہ ٹیسٹ کروانے کی استعداد کسی ملک کے پاس بھی نہیں، لہٰذہ انہی اعداد وشمار پر ہی گزارا کرنا پڑے گا۔ اب یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ حکومت اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا تو پوری ذمہ داری سے اعداد وشمار ہم تک بہم پہنچا رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے مدر پدر آزاد ہونے کی وجہ سے عوام میں خوف وحراس زیادہ پھیلایا جارہا ہے۔ یوں لوگ کرونا سے اتنا متاثر نہیں ہوئے جتنا کہ ان افواہوں نے انہیں متاثر کر دیا ہے۔ اول تو مریضوں میں متاثر کا لفظ استعمال کرنے پر بھی خوف پھیل جاتا ہے وہ مریض خود اور اس کے لواحقین کو ہر طرح کی افواہیں سننے کو ملتی ہیں۔ میں چونکہ ہسپتال میں کام کرتا ہوں تو مریضوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں، ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ جیسے ہی میں مریض کے پاس پہنچا تو مریض نے بڑی حسرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ مجھے زہر کا ٹیکہ تو نہیں لگائیں گے۔ اسی طرح ابھی کل کی بات ہے کہ کراچی میں ایک خاتون کے لواحقین نے نجی ہسپتال میں ہنگامہ آرائی کی کہ ان کی مریضہ کو کرونا نہیں تھا۔ ہسپتال لانے سے پہلے ہی دو مرتبہ مریضہ کا ٹیسٹ کروایا گیا تھا اور ٹیسٹ منفی آیا تھا مگر ہسپتال انتظامیہ نے اسے کرونا کی متاثرہ قرار دیکر پوری طرح علاج کی سہولیات میسر نہ کی یا دیر سے میسر کی جس سے خاتون کی موت واقع ہوگئی۔
اب یہاں بات ہے سمجھنے کی ناکہ لڑنے لڑانے کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان کے ہسپتالوں نے دیگر مریضوں کو ہسپتال میں طبی سہولیات دینا بند کیا ہوا ہے اور صرف اور صرف خطرناک مریض یا فوری طبی امداد کے مستحق افراد کو ہی طبی سہولیات دی جارہی ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے تمام ڈاکٹروں کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ جو مریض بھی ہسپتال میں لایا جائے حفظ ماتقدم کے طور پر اسے کرونا کے ٹیسٹ کروانے ضروری ہیں تاہم طبی امداد فوری دینا بھی ضروری ہے لہٰذہ انہیں متوقع یا سسپیکٹڈ قرار دیا جائے اور پوری احتیاطی تدابیر کیساتھ علاج معالجہ کیا جائے تاکہ ڈاکٹروں یا طبی عملہ کے شکار ہونے سے بچا جا سکے۔ اس سلسلہ میں دنیا بھر میں یہی احتیاط کی جارہی ہے تاہم پوری احتیاط کے باوجود بھی طبی عملہ کے کئی ارکان بلکہ سپیشلسٹ ڈاکٹر بھی کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں ان میں سے اکثریت اس مرض کو شکست دے چکے ہیں تاہم چند افراد جن میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں جان کی بازی ہارچکے ہیں۔ یہ بات بھی اب سبھی جانتے ہیں کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی کٹ کم مقدار میں ہو نے کے باعث حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے کہ صرف انہی لوگوں کا ٹسٹ ہو جن پر شک ہے۔ ابھی تک کے حالات میں ہم نے دیکھا کہ بظاہر کوئی بھی علامت نہ ہونے کے باوجود لوگ کرونا کے شکار ہو چکے ہیں ان میں سب سے نمایاں مثال سندھ کے وزیر سعید غنی اور عبدالستار ایدھی کے بیٹے کی ہے کہ جو بظاہر بالکل ٹھیک ٹھاک لگ رہے تھے لیکن ٹیسٹ آنے پر پازیٹیو نکلے۔ اب یہ لوگ لاعلمی کی وجہ سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں لوگوں سے مل چکے ہوں گے اور یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ کرونا وائرس کئی لوگوں پر اٹیک کرتا ہے لیکن اس کا شکار صرف کمزور لوگ ہوتے ہیں ان میں بوڑھے اور بچے یا مریض شامل ہیں۔ اب تک مرنے والوں میں زیادہ تعداد پہلے سے کسی مرض کے دیرینہ مریض لوگ ہی اس کا شکار بنے ہیں اور پھر تمام تر طبعی امداد کے باوجود واپس زندگی میں نہ آسکے۔ حکومت پاکستان نے لاک ڈاؤن کو نرم کردیا ہے، ہفتہ میں چند دن کاروبار زندگی کھول دیا ہے اور چند دن بدستور بند رکھا گیا ہے تاکہ ہمارے وطن کے غریب دیہاڑی دار چھوٹا موٹا روزگار جاری رکھ کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں لیکن سوشل میڈیا کے ماہرین طرح طرح کی بے سر وپیر کی چھوڑ رہے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ یہ وائرس سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ حکومت کی چال ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ فنڈز اکٹھے کرسکے اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اغیار کی سازش ہے۔سوشل میڈیا کے ماہرین کا حال کچھ اس طرح ہے کہ جیسے یہ لوگ دین کے عالم سے اوٹ پٹانگ سوال کرتے ہیں ان میں سے ایک صاحب نے ملک کے نامور عالم دین سے سوال کیا کہ میرا کاروبار بازار میں ہے اور بازار میں طرح طرح کے لوگ آتے ہیں جیب میں پیسے رکھنے پڑتے ہیں اور انہیں چوروں سے بچانا بھی ضروری ہے لہٰذہ میں نے شلوار میں جیب رکھ لی ہے لیکن مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ شلوار کی جیب میں رکھے میرے پیسے اب حلال ہیں یا حلال نہیں رہے۔