زندگی کس نے ترادست ہنر باندھ دیا

عقل بڑی کہ بھینس،اس بات کا فیصلہ ہم آج تک نہیں کر سکے،اصولاًتو بات بالکل درست ہے کہ جب آپ نہ صرف اوقات کار محدود کریں گے بلکہ ہفتے میں صرف4دن تک کاروبار کھولنے کی اجازت دیں گے تو کوئی عقل کا اندھا ہی اس بات سے اتفاق کرے گا کہ اس قسم کے اقدامات سے لوگ آرام سے گھر بیٹھ جائیں گے اور بازاروں ومارکیٹوں میں رش پیدا نہیں ہوگا۔ یہ جو کراچی کے تاجروں نے اب موجودہ صورتحال میں کم ازکم عید تک24گھنٹے کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا ہے اور جس کی تقلید میں دیگر شہروں سے بھی آوازیں اُٹھ رہی ہیں تو اس کا ایک تو فائدہ یہ ہوگا کہ رش میں معقول حد تک کمی آئے گی کیونکہ ہر کوئی صرف محدود وقت کے حساب سے بازاروں کا رخ کر کے جم غفیر بنانے سے احتراز کرنے میں خود ہی تعاون بڑھائے گا جبکہ دوسری جانب لوگوںکی عید کی خریداری مکمل ہو سکے گی اور تیسری اہم وجہ یہ ہوگی کہ لوگوں کا جو روزگار اتنے دنوں سے خراب ہے وہ ہونے والے نقصان کو بہت حد تک پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور جنہیں روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں بیروزگاری کا عفریت انہیں نگل رہا ہے فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے اور خطرہ ہے کہ اگر یہ صورتحال یونہی جاری رہے گی تو لوگ بھوک کے مارے سڑکوں پر نکل کر کہیں خدانخواستہ قانون توڑنے پر آمادہ نہ ہوجائیں،اس لئے کہ جن لوگوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے ایک تو ان میں سے کتنوں کو یہ امداد پہنچائی گئی ہے اور پھر یہ امدادی رقم ہے ہی کتنی جس سے لوگوں کا گزر بسر واقعی ممکن ہو پارہا ہے۔ اس میں بھی ملک کے بعض حصوں سے ”سفارشات”کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں جبکہ عام دیہاڑی دار غریب اسی طرح بے بسی سے جی رہے ہیں جیسے کہ وباء کے ابتدائی ایام میں ان کی حالت تھی،یعنی بقول شاعر
میں ہوں اخبار محبت مری پیشانی پر
روز اک آس کے مرنے کی خبر ہوتی ہے
اخبارات کے صفحات اس بات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ یہ جو کاروبار کو سمیٹا گیا، محدود کیا گیا، پولیس اور دکانداروں کے مابین آنکھ مچولی کا کھیل چلتا رہا، اس کا نتیجہ کس شکل میں برآمد ہوا؟ اس پر کسی تبصرے کی ضرورت تو نہیں ہے، البتہ اب جوہر طرف سے عید تک 24گھنٹے دکانیں کھولنے کی صدائیں گونج رہی ہیں تو ذرا بھینس کو کھونٹے کیساتھ باندھ کر بے چاری عقل کو ہی کھول دیا جائے اور واقعی رش آورز سے بچنے کیلئے دکانوں کو کھولنے کی اجازت دیدی جائے تو شاید عوام کے مسائل حل ہوسکیں یا کم ازکم یہ جو ہفتے میں تین دن کا وقفہ ہے اسے ہی ختم کر دیا جائے تو صورتحال بہتر ہو سکے۔ ادھر اگرچہ حکومت نے ایس اوپیز کے تحت ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت تو دیدی ہے مگر اب تک ٹرانسپورٹروں کی جانب سے عوام کو آنے جانے کی سہولتیں فراہم کرنے کے مطالبات شدت سے کئے جارہے تھے مگر جیسے ہی اجازت کا پروانہ جاری کر دیا گیا، خود ٹرانسپورٹرز دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، ایک حصہ کم کرایوں کیساتھ ٹرانسپورٹ چلانے پر اگرچہ راضی ہے مگر ایک نشست کے درمیان ایک خالی نشست پر راضی نہیں ہورہا،چونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے اسلئے حکومت کی کوشش ہے کہ جس طرح ٹرانسپورٹرز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر بار اضافہ کے بعد ازخود کرائے بڑھا دیتے ہیں اسی طرح اب جبکہ تیل مصنوعات کے نرخ عالمی سطح پر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بھی کم کئے جا چکے ہیں ٹرانسپورٹرز کرایوں میں کمی کردیں، تاہم ٹرانسپورٹرز کی منطق بھی درست ہے کہ کم کرایوں کیساتھ ایک بس میں آدھی سواریاں بٹھانے سے دیگر اخراجات کی ادائیگی کے بعد انہیں اُلٹا جو نقصان ہوگا،اس سے ٹرانسپورٹ چلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ وہ پہلے ہی ٹرانسپورٹ معطل کر نے کی وجہ سے بیروزگاری کا شکار ہیں،اس لئے حکومت کو ان کے جائز مسائل پر توجہ ضرور دینی چاہئے۔ اس ساری صورتحال میں ریلوے کی عجیب صورتحال ہے، وزیر ریلوے شیخ رشید نے اگرچہ کہا ہے کہ اگر ریلوے نہیں چلاسکے تو لوگوں کو ان کے آن لائن ٹکٹوں کی رقم واپس کر دیں گے، ساتھ ہی انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کردیا ہے کہ ریلوے کا سارا نظام دیوالیہ ہو سکتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم ان سطور کے شائع ہونے تک اس بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب سندھ کی حکومت نے ریل گاڑیاں چلانے کی اجازت دینے سے جو انکار کیا ہے شاید اسے ماہرین قانون ہی بہتر طور پر واضح کر سکتے ہیں کیونکہ ریل بہرحال مرکز کا محکمہ ہے اور صوبائی حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بہرحال یہ قانونی موشگافیاں ہیں جن پر ماہرین قانون ہی روشنی ڈال سکتے ہیں بقول عبدالقدیر مرزا
آج پھر تو نے مجھے دیدہ تر باندھ دیا
زندگی کس نے ترا دست ہنر باندھ دیا
اقتدار کا سنگھاسن بڑا عجیب ہوتا ہے جب بندہ اس پر بیٹھا ہو تو اسے دنیا ومافیہا کی کوئی خبر نہیں ہوتی مگر جیسے ہی اس کے پائوں تلے سے یہ سنگھاسن نکل جاتا ہے اسے اپنی ”اصل اوقات” یاد آنے لگتے ہیں، کچھ ایسی ہی صورتحال بے چاری آپا فردوس عاشق اعوان کیساتھ ہورہی ہے اور جن پہ تکیہ تھا (تکیہ دونوں طرف تھا) وہی پتے ہوا دینے لگے۔ بقول آپا کے ان دنوں پی ٹی آئی کے کچھ بونے ان کیخلاف سوشل میڈیا پر ”طوفان بدتمیزی” مچا رکھے ہوئے ہیں اس لئے انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ”بونوں” کے بیانات کا نوٹس لیں، مجبور کیا گیا تو جواب دیں گی۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے اپنے منصب سے نکالے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس کی کوشش کی تھی مگر انہیں روک کر ایسا کرنے سے منع کیا گیا، ساتھ ہی وعدہ کیا گیا کہ عنقریب وزیراعظم کیساتھ ملاقات کرائی جائے گی، مگر اب اتنے دن گزر جانے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کرنے کی جو کوشش کی وہ بھی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے گویا
نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے رہے