صوبے میں آٹا بحران کا خطرہ

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی تمام فلور ملیں غیرمعینہ مدت تک بند کرنے کے انتہائی اقدام پر مجبور ہوگئی ہے، صوبہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر غیرآئینی پابندی لگانے سے صوبے کے ایک سو اسی فلورملوں کو گندم کی سپلائی منقطع ہے۔ دوسری جانب صوبہ پنجاب میں بھی صورتحال دگرگوںہے جہاں گندم سمگل ہونے کی اطلاعات پر کارروائی ہونے پر فلور ملز مالکان اور محکمہ خوراک کے درمیان کشیدگی ہے۔ خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کا سلسلہ منقطع کرنے سے قطع نظر گندم کی سمگلنگ پنجاب اور خیبرپختونخوا ہی میں نہیں سندھ بلوچستان میں بھی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔جب بھی صوبے پنجاب پر گندم کی بین الصوبائی نقل وحمل پر پابندی لگانے کا الزام آتا ہے پنجاب کا موقف یہی ہوتا ہے کہ کوٹہ کے مطابق گندم کی ترسیل پر کوئی پابندی نہیں البتہ گندم کی سمگلنگ کی کوئی گنجائش نہیں، بہرحال یہ ایک ایسا مسئلہ اور کشمکش بن چکا ہے جس کی پوری تحقیقات کے بعد کوئی ٹھوس فیصلہ کیا جائے اور ہر صوبہ آئینی طور پر اپنی حدود میں رہے اور اختیارات سے تجاوز نہ کیا جائے تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گندم کی سمگلنگ کی اگر مکمل روک تھام یقینی بنائی جائے اور پنجاب صوبے کی ضرورت کے مطابق گندم کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈالے تو بحران پیدا ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ پنجاب میں محکمہ خوراک کے حکام کے اقدامات کے باعث فلورملوں کی بندش کی نوبت آگئی ہے جبکہ پنجاب میں محکمہ خوراک کے حکام پر کھلی مارکیٹ سے بھی گندم اُٹھانے کا الزام ہے، اس طرح سے کھلی مارکیٹ سے بھی گندم کی خریداری ممکن نہیں ہے، اس ماحول کے اثرات سے خیبر پختونخوا بھی متاثر ہوتا ہے۔ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری سے قبل ہی آٹا بحران شروع ہو جائے تو بہت مشکل ہوگا۔ اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو منظم طریقے سے گندم باہر بھجوانے کے سکینڈل کی صورت میں پہلے ہی موجود ہے جس کی تحقیقات اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی حکومت پر قرض ہے۔ ان سارے عوامل کے تناظر میں گندم کی خریداری کی پالیسی کی خلاف ورزی، گندم کی سمگلنگ اور کھلی مارکیٹ سے گندم کی خریداری میں مشکلات پیدا کر کے سمگلنگ کی روک تھام کی سعی جیسے بظاہر کے اقدامات ہیں اس کے پس پردہ کیا کھیل جاری ہے اس کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو ملک میں آٹا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور ممکن ہے ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آئے۔ خیبرپختونخوا میں آٹا بحران کو ایک اور صورت بھی دی جاتی ہے اور نفرت انگیز بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس سے بچنے کیلئے گندم کی سمگلنگ کے تمام مواقع کو سختی سے مسدود کر کے پنجاب سے صوبے کا کوٹہ پوری طرح حاصل کیا جائے، اس ضمن میں محکمہ خوراک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے اور فلورملوں کو مناسب مقدار میں گندم کی فراہمی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے تاکہ صوبے میں آٹا بحران پیدا ہونے کی نوبت نہ آئے۔
آدھا تیتر آدھا بٹیر
گزشتہ صدارتی انتخابات متنازعہ بنانے کے بعد بالآخر افغان صدر اور چیف ایگزیگٹو کے دو عہدوں میں اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کی طرح ایک مرتبہ پھر کابل میں علیحدہ علیحدہ حلف اُٹھانے والے دو حریف سیاستدانوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پاگیا ہے۔ افغانستان میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری سیاسی بحران کا اب خاتمہ ہوگیا ہے، عبداللہ عبداللہ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان کی سیاسی ٹیم اشرف غنی کا بینہ میں شامل ہوگی، عشروں سے خانہ جنگی کا شکار ملک بڑا دلچسپ ہے جہاں گزشتہ صدارتی انتخابات کے جھگڑے کا امریکی خصوصی ایلچی کی جانب سے اختیارات کی تقسیم کی طرح اس مرتبہ بھی انہی عناصر کی وساطت سے فارمولہ وضع ہو نا ممکن ہوا۔ افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کئی برسوں سے ایک دوسرے کے طاقتور سیاسی حریف ہیں اور افغانستان میں انتخابات کی حقیقت ووقعت یہ ہے کہ ہر فریق اپنی کامیابی کادعویٰ کر کے حلف اُٹھاتا ہے، ایسے میں وجود میں آنے والی حکومت کتنی بااختیار ہوگی اور افغان عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کی مساعی اور طاقتور حریفوں کیساتھ معاملت کیسے ہوگی اس کا اندازہ ناممکن نہیں۔ افغانستان میں قیام امن کا راستہ مستحکم حکومت کے نتیجے ہی میں ہموار ہوگا جس ملک میں بیک وقت دو حکمران ہوں اور طاقتور مسلح حریف مسلسل دبائو بڑھانے میں سرگرم ہوں، وہاں امن عمل کا آگے بڑھانا اور خاص طور پر بین الافغان مذاکرات اور کسی پائیدار فارمولے پر اتفاق کی اُمید نہیں۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے متفقہ حکومت کا قیام اور تمام اہم فریقوں کو اس میں نمائندگی اور اتفاق ضروری ہے جس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، بہتر ہوگا کہ افغانستا ن میں آدھا تیتر آدھا بٹیر کا فارمولہ بار بار نہ دہرایا جائے اور افغانستان کے الیکشن کمیشن کو خودمختار، بااختیار اور مستحکم کر کے انتخابات کرائے جائیں اور اس کے اعلان کا احترام کیا جائے تاکہ ملک میں نمائندہ حکومت قائم ہو جو داخلی وخارجی مسائل سے نمٹنے کی حامل ہو اور اسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔
چڑیا گھر جانوروں کا قبرستان؟
پشاور چڑیا گھر کے قیام کے بعد سے اب تک جانوروں کی ہلاکت کا تسلسل اس امر کا ثبوت ہے کہ صوبے میں چڑیا گھر چلانے کی اہلیت کا فقدان ہے۔ حیوانات کے حقوق کی عالمی تنظیم اور سول سو سائٹی کو پشاور چڑیا گھر کے بے ر حمانہ اورغیرفطری ماحول کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ تازہ ترین واقعے میں زرافہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے ہلاک ہوا ہے۔ پینتیس لاکھ روپے سے خریدے جانے والے زرافہ کوبیمار بتایا گیا ہے، ممکن ہے چند ماہ قبل جنوبی افریقہ سے لائے گئے جانور کو ماحول راس نہ آیا ہو اور صحت کے مسائل سنگین ہوگئے ہوں، اگر یہ واحد واقعہ ہوتا تو اس کی گنجائش تھی یہاں تو ہر ماہ دوماہ بعد کسی نہ کسی جانور کی ہلاکت کی خبر آجاتی ہے، اس کا نوٹس بھی لیا جاتا ہے لیکن پھر سارے معاملے پر اس وقت تک مٹی ڈال دی جاتی ہے جب تک کوئی دوسرا واقعہ نہیں ہوتا۔ چڑیا گھر کے معاملات کی تحقیقات اور جانوروں کو مناسب ماحول، خوراک اوران کی صحت کا خیال رکھنے کے عمل کی بعد ازخرابی بسیار اصلاح میں اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔