وائے تمنائے خام

ہمیں بحیثیت قوم اعتراض کرنے کی بہت عادت ہے۔ بات کیسی بھی ہو ہم اس کا کوئی مثبت پہلو کبھی تلاش نہیںکرتے۔ منفی پہلو تلاش کیاکرتے ہیں’ اعتراض کرتے ہیں۔ قوموںکا یہ مزاج ہمیشہ ہی انحطاط کو جنم دیتاہے ۔ جب کسی بات کی کہیں پذیرائی نہیں ہوتی تو اچھے کام کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ لوگ یہ سوچ کر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ جو بھی کریں گے اس میں مین میخ ہی نکالی جائے گی اور تعریف نہ ہوگی۔ اعتراض میں کبھی اثبات کا کوئی پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ اعتراض بہتری پیدا کرنے کیلئے کیا ہی نہیں جاتا بلکہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ لفظوں کازہر نئے کا م کی جڑوں میں انڈیل دیاجائے۔ شاید یہ سب اس لئے ہے کہ نئی راہوں کااختیار کیا جانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اور
آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اس خیال کے بالکل برعکس بھی سوچ کی ایک اورسمت ہے جو کسی اور ہی جانب اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ان کی باتوں اور خیالات پر اپنے یقین کی مہر ثبت کرتے ہیں جن پر ان کا اعتماد ہوتا ہے۔ یہ اعتماد یا تو ان کے گزشتہ کردار کے باعث ان کے حوالے سے عوام کے دلوں میں اپنے قدم جماتا ہے یا ان کے اور کارنامے ایسے ہوتے ہیں کہ عوام ان پر یقین کرلینا چاہتے ہیں یاکم ازکم دل مضبوط کرلیتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی صورتحال ایسی ہے کہ عوام میں حکمرانوں کے حوالے سے انتہائی بے یقینی ہے، اس بے یقینی میں حکومت کی اپنی کارکردگی کابھی بہت عمل دخل ہے۔ ابھی تو حکومت کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی، دوسرا عوام کی اس حکومت سے بے شمار اُمیدیں تھیں۔ اُمیدوں کاعالم یہ تھا کہ لوگوں کاخیال تھا اس حکومت کے آتے ہی جادو کی چھڑی پھر جائے گی اور جب ایسا کوئی معجزہ نہ ہوا تو ان کا یقین حکومت کے حوالے سے متزلزل ہوگیا۔ اسی لئے اب حکومت کی بات پر یقین کرنے کو ان کادل ہی نہیں کرتا لیکن کئی سوال ایسے ہیں جن کے جواب ہی نہیں ملتے۔ ایسے اعتراض جن کے کئے جانے کا کوئی جواز ہی دکھائی نہیں د یتا جو محض اس لئے کئے جاتے ہیں کہ لوگوں کو یہ حکومت ہی پسند نہیں یا شاید اس نا پسندیدگی کابھی اس سے کوئی تعلق نہیں وہ محض عادتاً کئے جاتے ہیں۔ کتنی ہی باتیں ہیں جو میں سمجھنا چاہتی ہوں کہ آخر ان کئے جانے کی کیا وجوہات ہیں؟ مثلاً حکومت کے لاک ڈائون کی نرمی کے حوالے سے مختلف اعتراضات سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہے ہیں۔ یہ بھی اعتراض کیاجاتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں بازار اور کنسٹرکشن کی صنعت کھولنا تو ہے’ سکول کھولنا شامل نہیں۔ بچوں کو بغیر محنت اگلی کلاسوں میں داخلہ دیا جا رہا ہے جس سے ان کا نقصان مقصود ہے۔ اب کوئی ان معترضین سے یہ پوچھے کہ بھلا حکومت سے کیا اُمید کی جانی چاہئے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے’ لوگوں میں لاک ڈائون کے باعث بھوک بڑھتی تو نقص امن کا بھی خدشہ تھا۔
ملک کے کئی شہروں میں ایسے ہی کئی واقعات بھی اسی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے تھے۔ حکومت بار بار اپنا موقف بیان کرتی رہی ہے اور یہ لاک ڈائون صرف پاکستان میں ہی نرم نہیں ہوا پوری دنیا میں معیشت بیٹھ گئی ہے۔ امیر ترین ملکوں کو بھی لاک ڈائون کی بندش میں نرمی کرنا پڑی ہے۔ چین کے علاوہ ابھی تک دنیا میں تعلیمی ادارے نہیں کھلے، پھر اعتراض کی کیا وجہ ہے؟ اپنی طبی سہولیات کے فقدان سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی اگر حکومت تعلیمی ادارے کھول دے اور بچوں کو سکول جانے پر مجبور کیا جائے تو اس میں کتنی عقلمندی ہوگی اور کیا والدین جانتے بوجھتے اپنے بچوں کو اس خطرے کاشکار کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ ویسے تو ہم سے کوئی بعید نہیں کیونکہ اسی سوشل میڈیا پر کھچا کھچ بھرے بازاروں کی ویڈیوز بھی آرہی ہیں، اور کتنی ہی دکانوں کے باہر مائوں کا ہاتھ تھامے ‘ ماسک اور دستانوں سے بے نیاز بچے بھی موجود ہیں۔ جب لا پرواہی اس نوعیت کی ہو تو سکول کھولنے کی بھی گنجائش پیدا کی ہی جاسکتی تھی لیکن کیا جس سماجی فاصلے کی مسلسل بات ہوتی رہتی ہے اس کا بندوست سکولوں اور تعلیمی اداروں میں کیاجانا ممکن تھا۔ کیا بچے اپنے ساتھیوں سے فاصلہ رکھ پاتے، کیا کوئی بچہ کسی دوسرے بچے سے ایک پنسل بھی مستعار نہ لیتا’ کیا وہ دستانے پہنتے یا مسلسل ماسک چڑھائے رکھنے میں کامیاب ہوتے۔ جون میں اس وائرس کا حملہ اور بھی بڑھ جانے کا امکان ہے ایسے میں کئی والدین ایسے بھی ہیں جو یہ خطرہ مول لینے کیلئے تیار نہیں۔ اعتراض کرنا تو بہت آسان ہے اور اعتراض برائے اعتراض میں تو اور بھی زیادہ مزہ ہے لیکن یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ اب ہمیں بحیثیت قوم اپنے رویوں میں کچھ تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ احساس کرنا بھی ضروری ہے اور محض اسلئے کہ ہم نے موجودہ حکومت کو ووٹ نہیں ڈالا ان کی سب باتوں میں نقائص تلاش کرنا بھی درست نہیں۔ ایک روز ایک بزرگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ہی موجود تھی، فرما رہے تھے کہ کرونا پاکستان میں آیا ہی عمران خان کی وجہ سے ہے، تو انٹرویو لینے والے نے کہا کہ بابا جی کرونا تو پوری دنیا میں ہے’ پوری دنیا میں لوگ اس سے مر رہے ہیں تو وہ چڑ کر بولے پوری دنیا میں بھی اسی کی وجہ سے ہے۔ جہاں عوام کی فہم وفراست کیساتھ ساتھ تعصب کایہ عالم ہو وہاں کسی بھی بات’ کسی بھی اقدام کو اس کے درست زاوئیے سے دیکھنا نا ممکن ہے، سو وہی ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا آخر کب تک چلے گا۔ ہمیں کبھی تو عقل کی کوئی بات کرنا ہی ہوگی، کبھی تو تعصب اور بے وجہ اعتراض کے اس گنبدبے در سے نکلنا ہوگا اور پھر خیال آتا ہے کہ وائے تمنائے خام’ وائے تمنائے خام۔