کورونا عالمی بُرج اُلٹ رہا ہے؟

کورونا نام کا ایک حقیر وائرس دنیا کی معاشرت، معیشت اور سیاست کو بدل رہا ہے۔ صدیوں سے چلے آنے والے معاشرتی آداب اور روایات یکسر تبدیل ہو گئی ہیں جو چیزیں انسانی تہذیب اور قربت ووالہانہ پن کی علامت اور پہچان ہوا کرتی تھیں اب زہر قاتل ہو کر رہ گئی ہیں۔ معانقے اور مصافحے جو جذبات کی گرم جوشی کو ظاہر کرتے تھے اب متروک ہو چکے ہیں اور بیگانگی، بے حسی اور سنگ دلی کی علامت فاصلوں کو سوشل ڈسٹنسنگ کا نام دیکر مرض کا عارضی نسخہ شفا قرار دیا گیا ہے۔ یہ تو اس وائرس کے آداب معاشرت بدلنے کی ایک جھلک ہے۔ اسی طرح کورونا نے دنیا کی معیشت کی کتاب بھی نئے سر ے سے تحریر کرنا شروع کردی ہے۔ اپنی مضبوط معیشتوں پر اترانے والے اور بیروزگاروں کی جنت کہلانے والے ملکوں کی معیشت کے استخوان لرز رہے ہیں اور وہ بیروزگاروں کی فیکٹریاں بنتی جا رہی ہیں، جن ملکوں میں لوگ رزق روزگار کمانے دھوم دھام سے جاتے تھے اب وہاں سے وہی لوگ بیروزگار ہوکر واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ بہت طاقتور ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آگے قرض کیلئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایک رپورٹ کے ذریعے خبردی ہے کہ کورونا سے عالمی معیشت کو 8.8ٹریلین کا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس وبا ء کی وجہ سے بیروزگار ہونے والوں کی تعداد پندرہ کروڑ اسی لاکھ سے لیکر چوبیس کروڑ بیس لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ان میں ستر فیصد کا تعلق ایشیا اور بحرالکاہل سے ہوگا۔ یہ اعداد وشمار لکھنا اور دہرانا آسان ہے مگر اس کے اثرات کو ماپنا اور تولنا اور ان اثرات کا اندازہ کرنا حددرجہ مشکل ہے۔ بیروزگاری کے نتیجے میں سماجی مسائل کا ایک وسیع سلسلہ اور دردناک داستانوں کی ایک پوری کتاب باہم مربوط ہے۔ یہ وہ اثرات ہیں جو وقت کیساتھ ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوں گے۔ کورونا دنیا کی سیاست کو بھی تیزی سے بدلتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور روس دنیا کے اہم ملکوں میں شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ دنیا کا نمبرون ہے اور روس بھی معاشی اور فوجی اعتبار سے کم نہیں، دونوں کے سربراہوں روسی صدر ولادی میرپوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کے اثرات کے نتیجے میں سیاسی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے شہرہ آفاق اخبار ” ٹائم” نے کورونا سے نمٹنے میں ناکامی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی سیاسی مشکلات پر ایک مضمون لکھا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس سال کے آخر میں صدارتی انتخاب کا معرکہ درپیش ہے۔ ان کے مقابلے میں سابق نائب صدر جوبائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار کے طور میدان میں خم ٹھونک کر موجود ہیں۔ ٹرمپ کورونا کی دلدل میں دھنس رہے ہیں اور یہ حالات جوبائیڈن کیلئے سیاسی ٹانک کا کام دے رہے ہیں۔ ٹائم کے مطابق صدر ٹرمپ کے بہت سے پرجوش ووٹر اس بار کورونا بحران میں ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں اور اپنے ووٹ کا مخالفت میں استعمال کرنے کے ارادوں کا کھلے بندوں اظہار کررہے ہیں۔ ٹائم نے اس کیلئے ہیڈی اور ڈینس نام کے دو کردار چنے ہیں جو گزشتہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کے پرجوش حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹرمپ کے پرجوش ووٹر تھے ہمیں اس کا سخت موقف پسند تھا۔ ہمیں یہ بات پسند تھی کہ وہ سیاستدان نہیںتھا، میں ساڑھے تین برس تک اس کا حامی رہا مگر پھر مایوسی ہوتی چلی گئی اور کورونا بحران میں ان میں سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا اور یہ اونٹ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا میں کچھ ذاتی تجربات اور حکومتی نااہلی کے بعض واقعات نے انہیں ٹرمپ سے متنفر کر دیا وہ ”ٹرمپ کے سابق حامی” کے نام سے ایک فیس بک پیج چلا کر ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہیڈی کا کہنا ہے اس کے انکل کورونا کا ٹیسٹ کرانے ہسپتال گئے تو دو بار انہیں ٹیسٹ کرائے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ تیسری بار وہ ہسپتال گئے تو ان کی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ انہیں داخل کر دیا گیا اور اٹھائیس دن وینٹی لیٹر پر کوما کی حالت میں رہے۔ یہ تھا ٹرمپ کا حسن انتظام اور وہ انہی لمحوں کہہ رہا تھا کہ ٹیسٹ کرانے کیلئے کوئی مشکل نہیں لوگ بے دھڑک ہسپتالوں میں جاکر ٹیسٹ کرائیں۔ ڈینس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو رہی تھی مگر کورونا اس ماحول میں اونٹ کے اوپر آخری تنکا ثابت ہوا۔ جوبائنڈن کئی ریاستوں میں مقبولیت اور پوائنٹس کے لحاظ سے ٹرمپ سے آگے ہیں اور ان میں وہ ریاستیں بھی شامل ہیں جن میں ٹرمپ نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی۔ یہ امریکہ کے بزعم خود مرد آہن صدر ٹرمپ کی کورونا کے ہاتھوں بننے والی سیاسی دُرگت ہے جس کا احوال خود امریکہ کے ایک معتبر اخبار نے بیان کیا ہے۔ بی بی سی کی بیان کردہ روسی صدر پیوٹن کی مشکلات بھی کچھ کم نہیں۔ وباء کے آغاز پر ہی پیوٹن کریملن چھوڑ کر ماسکو سے باہر اپنی ذاتی رہائش گاہ میں منتقل ہو چکے ہیں اور وہیں سے ویڈیو لنک پر کارحکومت چلا رہے ہیں۔ پیوٹن اس وقت کورونا سے بال بال بچے تھے جب انہوں نے ایک ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہیں ہسپتال کا دورہ کرانے والے ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا جس پر انہیں اپنا ٹیسٹ کرانا پڑا تھا۔ کورونا کے باعث روس میں بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آزاد پولنگ فرم لیواڈا کے مطابق چار میں سے ایک شخص اپنی ملازمت کھو بیٹھا ہے یا کھونے کے خدشے کا شکار ہے۔ ایک تہائی لوگوںکی تنخواہوں میں کٹوتی ہوگئی ہے یا ان کے کام کے اوقات میں کمی کر دی گئی ہے۔
(باقی صفحہ 7)