کووڈ19 کا بحران اور پاکستانی تارکین وطن

کوویڈ19 نے ہمارے بیرون ملک مقیم پاکستانی بھائیوں کو غیرمعمولی پریشانی اور تشویش میں ڈال رکھا ہے۔ مستقل لاک ڈاؤن اور کرفیو کے باعث وہ نہ صرف اپنی رہائش گاہوں تک محدود ہیں بلکہ وہ نہ تو ملازمت کیلئے باہر جاسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں وطن واپس لوٹنے کیلئے درکار سہولتیں دی جارہی ہیں حتیٰ کہ اس بے سر وسامانی کی حالت میں وہ اپنی جمع پونجی بھی ختم کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چنیدہ ممالک میں ہوتا ہے جس کے شہری دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے ان تارکین وطن کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سب سے بڑی تعداد خلیجی ممالک میں آباد ہے جس کا اندازہ تقریباً4.7 ملین ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان لاکھوں تارکین وطن کی پہلی منزلیں ہیں جہاں دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ان تارکین وطن کی تعداد بالترتیب 27اور15لاکھ کے قریب ہے۔ خلیجی ممالک کے برعکس مغربی ممالک میںر ہائش پذیر پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو ان ممالک کی شہریت دی گئی ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگ ان معاشروں میں نہ صرف عملاً ضم ہوگئے ہیں بلکہ انہیں یہاں نسبتاً بہتر معیار زندگی اور بنیادی ضروریات بشمول قانونی تحفظ بھی دستیاب ہے۔ البتہ قابل افسوس اور لائق توجہ امر یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میںہمارے ہم وطنوں کو یہ مراعات نہیں مل رہی ہیں اور وہ یہاں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مقیم تارکین وطن کی حالت زار کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بار بار انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کی رپورٹس میں متعدد بار اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہاں مقیم پاکستانی تنگ وتاریک اور ناقص ماحول میں رہائش پذیر ہیں حتیٰ کہ بہت سے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتوں تک رسائی نہیں ہے۔ ان ممالک میں سرمایہ کار کی حیثیت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے اور اس میں بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔ یہاں کے ہنرمند اور غیرہنر مند مزدور کی حیثیت سے کام کرنے والے اپنے کفیلوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ یہ لوگ اپنے نام پر کوئی کاروبار نہیں کرسکتے اور اس مقصد کیلئے اپنے کفیل کے محتاج ہیں۔ نتیجتاً یہ کاروبار بغیر کسی قانونی تحفظ کے چلا رہے ہیں اور کوئی بھی بدنیت کفیل اس پر باآسانی قبضہ کرسکتا ہے حا لانکہ ان نامساعد حالات کے باوجود یہ لوگ ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہاں یہ بات بلاتردد کہی جاسکتی ہے کہ کورونا وبا بہت سے دستاویزی اور غیردستاویزی کاروباروں کو خطرناک حد تک گھٹانے کا باعث بنا ہے اور اس کے نتیجے میں بیروزگاری کا ایک ایسا سیلاب ہمارا منتظر ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔ دراصل کوویڈ19 نے انسانی وسائل کو ایک انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ریاض اور مشرق وسطیٰ کے دیگر شہروں میں اپنی عارضی رہائش گاہوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسے گئے لاکھوں پاکستانی یاس اور نااُمیدی کی تصویر بنے پاکستانی حکومت کی امداد کو تک رہے ہیں۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق ایک طرف انہیں بھوک اور پیاس کا سامنا ہے اور دوسری جانب کوویڈ19 کی صورت میں موت ان کے سامنے منہ کھولے ہوئے ہے۔ بہت سے لوگ انفیکشن میں مبتلا ہوچکے ہیں اور کچھ کے بے سر وسامانی کی حالت میں فوت اور دفن ہونے کی مصدقہ اطلاعات بھی مل چکی ہیں۔ اس صورتحال سے دیہی علاقوں میں قبائلی جھگڑوں کی بحالی اور بڑے پیمانے پر بدامنی کے خدشات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ بیروزگاری عدم برداشت کا باعث بنتی ہے اور ریاست مخالف اور پرتشدد معاشرتی سلوک کو فروغ دینے میں بھی جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔
خلیجی ریاستوں میں ان پھنسے ہوئے لاکھوں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو قانونی دستاویزات کے بغیر ہیں جبکہ ایک قابل ذکر تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کے پاسپورٹوں پر خروج کی مہریں تک لگ چکی ہیں لیکن انہیں یا تو واپس نہیں آنے دیا جارہا ہے اور یا پھر ان کیلئے واپسی کی پروازیں تک دستیاب نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایک عجیب نفسیاتی کشمکش اور ذہنی کوفت سے دوچار ہوکر زندگی کی بقاء کیلئے لڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال کو ڈیل کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس ضمن میں مختصر اور طویل مدتی اقدامات اُٹھاتے ہوئے خلیجی ریاستوں میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کے مصائب میںکمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر بعض اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ اس سلسلے میں درج ذیل تجاویز پیش خدمت ہیں۔
(باقی صفحہ 7)