روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا

کورونا کے مریضوں کے حوالے سے اعداد وشمار اکٹھی کرنے کا معاملہ اتنا پیچیدہ اور سنگین نہیں کہ اس کیلئے غیرملکی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں۔ محکمہ صحت اور صوبائی حکومت کے پاس ماہرین کی اتنی تعداد اور استعداد ضرور ہوگی کہ وہ اعداد وشمار مرتب کر سکیں۔ قائم مقام وزیرصحت اور کابینہ میں خزانے کی وزارت رکھنے والے عہدیدار کا محکمہ صحت کے حکام پر اپنے اصل محکمے کے عہدیداروں بلکہ نجی غیرملکی فرم کو مسلط کرنا اور محکمہ صحت کے حکام کو فیصلہ کرنے میں مشکلات کا شکار بنا دینا کسی طرح بھی میرٹ اور اچھی حکمرانی کے زمرے میں نہیں آتا۔ دوہری ذمہ داریوں اور فیصلوں کا بوجھ شاید درست فیصلہ کرنے میں رکاوٹ کا باعث ہے یا پھر مصلحت اور روایتی معاملات اس قسم کے فیصلے کا باعث ہیں، اگر دیکھا جائے تو ان دوہری ذمہ داریوں کیساتھ بطور رکن اسمبلی ایک بڑا حلقہ بھی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، بہرحال عہدے رکھنا اورعہدے تفویض کرنا کارسلطنت سہی لیکن ذمہ داریوں سے احتراز اور معاندانہ فیصلے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ کابینہ میں صحت کے معاملات کو دیکھنے کیلئے مستقل وزیرصحت نہ ہونے سے دراصل یہ ذمہ داری بھی وزیراعلیٰ ہی کی بنتی ہے، اگر ایسا نہیں بھی ہے تو بھی ملک اور صوبے میں اس وقت جو حالات ہیں وہ ایک مستقل وفعال اور کل وقتی وزیرصحت کی ذمہ داریوں کے متقاضی ہیں۔ صحت کے بنیادی انسانی مسئلہ قرار دیئے جانے کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے ترجیحات اور فیصلے بھی اس طرح کی سنجیدگی اور بردباری سے کئے جائیں جو حالات کا تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو محولہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور صحت معاملات کی نگرانی کو جزوقتی ذمہ داریوں کی بجائے کلی وقتی ذمہ داری سمجھنے اور عملاً ایسا کرنے کی ضرورت ہے بہتر ہوگا کہ محکمہ صحت کے حکام کو اپنا کام کرنے دیا جائے اورجہاں ان کو جس قسم کی سہولت اور تکنیکی مہارت وفرم یا عملے کی ضرورت ہو وہاں ان کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔ جاری صورتحال روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا کے مصداق ہے جس کی گنجائش نہیں۔
پرانے ٹائروں کا کاروبار غیرقانونی قرار دیا جائے
پرانے گاڑیوں میں اور خاص طورپر مسافر گاڑیوں میں پرانے ٹائروں کے استعمال سے حادثات اور پرانے ٹائروں کا کاروبار عروج پر ہونے کے حوالے سے ہمارے نمائندے کی جامع رپورٹ حکومت، ٹرانسپورٹروں اور متعلقین کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ پرانے ٹائرز سے حادثات میں صرف سواریاں ہی متاثر نہیں ہوتیں بلکہ ڈرائیور وکنڈیکٹر اور دیگر عملہ کی بھی جان خطرے میں ہے۔ 2019میں 36ہزار افرادکا سڑک حادثات میں جاں بحق ہونے کے اعداد وشمار ناقابل یقین ہے، مشکل امر یہ ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس بھی اس مشکل کاکوئی حل نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہ کار موجود ہے جسے بروئے کار لاکر پرانے ٹائروں کے استعمال کو روکا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کاروبار ہی سراسر غیرقانونی ہے کیونکہ متروک ٹائروں کے کاروبار کا مطلب ایک ایسی چیز کی فروخت ہے جو استعمال کے قابل نہ رہنے پر متروک کردیا گیا، پرانے ٹائروں کے کاروبار کو دوسری سیکنڈ ہینڈ چیزوں کی طرح کا کاروبار قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی ٹائروں کی مرمت ممکن ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا حامل معاملہ ہے جو غیرقانونی اورغیراخلاقی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ جعلی موبل آئل اور استعمال شدہ موبل آئل کو دیسی طریقے سے چھان کر فروخت کرنے کا کاروبار بھی جعلسازی اور انسانی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ جعلی تیل کے استعمال سے لوگوں کی قیمتی گاڑیاں تباہ ہورہی ہیں مگر پشاور کے مرکزی علاقے میں پرانے ٹائروں اور استعمال شدہ موبل آئل فروخت کرنے کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے، اس کی روک تھام سے احتراز ملی بھگت اور اعلیٰ شخصیات وحکام کا ازخود اس کاروبار سے بلاواسطہ وبالواسطہ طور پر ملوث ہونا ہے یا پھر ملی بھگت اور بدعنوانی اس کاروبارسے آنکھیں بند کرنے کی وجہ ہے۔ اس ضمن میں جلد سے جلد قانون سازی کرنے اور جو قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کر کے دونوں کاروبار بندکرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو مزید کھلی چھٹی نہیں دینی چاہئے۔
گیس کی لوڈشیڈنگ
گرمی کے اس موسم میں جب گیس کا گھریلو استعمال کم سے کم کی شرح سے بھی کہیں کم ہو جاتا ہے شہریوں کو گیس کی لوڈشیڈنگ اور بندش کی شکایات اس امر پر دال ہیں کہ صوبے میں متعلقہ گیس کمپنی عوام سے رقم بٹورنے کے باوجود بھی گیس کی فراہمی ضرورت کے مطابق یقینی بنانے کے قابل نہیں۔ یہ ایک سنگین شہری معاملہ ہے جس کی سنگینی رمضان المبارک کے تناظر میں اور بھی سنگین ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے حکام کو خوف خدا کرنا چاہئے اور عوام کو اس تپتی گرمی میں مزید تپانے سے گریز اور سحری وافطاری کے قبولیت کے اوقات میں بد دعائوں سے بچنے کی سنجیدہ سعی کرنی چاہئے۔