غذائی بحران کے خدشات

گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کا ہدف پورا نہ ہو تو سیزن کے اختتام پر آٹا بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اس سال مشکل کا سامنا کرنا پڑا، آٹا کے بحران کی وجہ سے کئی دیگر مسائل بھی جنم لیتے ہیں، امسال چونکہ کورونا کی وجہ سے ہم بیسیوں قسم کے مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں اور اگر کورونا کی وبا دیرپا چلتی ہے تو خدشہ ہے کہ غذا کا بحران بھی سر اُٹھا لے گا اسلئے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں اپنی زراعت کی بہتری اور گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنا چاہئے لیکن اس سال کی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 8.25ملین میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں جسے پندہ مئی تک پورا ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ پندرہ مئی کو خریداری کا موسم بڑے پیمانے پر ختم ہوتا ہے جو تاحال حاصل نہیں کیا گیا ہے۔ گندم کی خریداری کا ہدف پورا نہ ہونے کی صورت میں مقامی قیمتوں میں اضافے کو حد میں رکھنے اور فوڈ سیکورٹی بحران کو روکنے کیلئے گندم کی درآمد کا امکان بڑھ رہا ہے۔ پندرہ مئی سے پنجاب حکومت نے اپنے 4.5 ملین ٹن کے ہدف کے مقابلے میں 3.58 ملین ٹن گندم حاصل کی ہے۔ سندھ اپنے ہدف کا آدھا 1.4ملین ٹن ہی حاصل کر پایا ہے اور خیبر پختونخوا نے وفاق کی جانب سے اس صوبے کیلئے مقرر چار لاکھ ٹن ہدف کے مقابلے میں اپنا گھٹا ہوا ہدف تین لاکھ ٹن حاصل کیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے محض ایک لاکھ ٹن کا چھوٹا سا ہدف حاصل کیا جس کا وزن بڑے قومی ہدف 8.25 ملین ٹن میں بہت کم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان بڑی حد تک اپنی خوراک کی ضروریات میں خودکفیل ہے، بلکہ اپنے بعض ہمسایہ ممالک کی خوراک کا ایک بڑا حصہ بھی پاکستان ہی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں کم وبیش 87 لاکھ ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی جاتی ہے، جس میں سے دوتہائی سے زائد رقبہ یعنی تقریباً ساٹھ لاکھ ہیکٹر رقبہ پنجاب میں گندم کے زیرکاشت آتا ہے۔ ملک میں گندم کی مجموعی پیداوار دو کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن بتائی جاتی ہے جس میں سے ایک کروڑ نوے لاکھ ٹن گندم پنجاب میں پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ملک کی غالب آبادی کی خوراک کا اسی فیصد حصہ گندم اور اس سے تیار شدہ مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے، یوں ہر پاکستانی کیلئے سالانہ اندازاً 125کلوگرام گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کے موجودہ حالات اور ماضی کے تجربات کو نظر میں رکھتے ہوئے اس سال گندم کی سرکاری خریداری کا ملک گیر مجموعی ہدف 82.5لاکھ ٹن طے کیا گیا ہے جس کا نصف سے زائد یعنی 45لاکھ ٹن پنجاب کو پورا کرنا ہے جبکہ سندھ کیلئے چودہ لاکھ ٹن اور کے پی میں یہ ہدف محض ایک لاکھ ٹن ہے۔ چند ماہ قبل رونما ہونے والے آٹے کے بحران کے پیش نظر پہلے پنجاب سے گندم کی خریداری کا ہدف 55لاکھ ٹن تجویز کیا گیا تھا، پھر محکمہ خوراک نے 50لاکھ ٹن کی سمری تیار کرکے ارسال کی، تاہم حتمی ہدف 45لاکھ ٹن مقرر کیا گیا مگر اب جبکہ مئی کا نصف ماہ گزر چکا ہے اور خریداری کا مقررہ وقت 30مئی تک کا ہے تو یہ ہدف حاصل کرنا بھی خاصا مشکل محسوس ہورہا ہے۔
حکومت نے مستقبل میں آٹے کے کسی بحران سے بچنے اور طے شدہ خریداری کا ہدف حاصل کرنے کیلئے اب تک قانون اور انتظامیہ کے ذریعے زور زبردستی، دھونس اور دھاندلی کے تمام حربے اختیار کئے ہیں۔ گندم کی ایک صوبے سے دوسرے صوبوں کو ہی نہیں، ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقلی پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ آئندہ سال گندم کی کاشت کیلئے بیج تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی اپنی ضرورت کیلئے گندم خریدنے سے روکا جا رہا ہے جس کے سبب یہ سب لوگ پریشانی اور آئندہ سال گندم کی فصل پر منفی اثرات مرتب ہونے کی پیش گوئیاں کررہے ہیں، مگر حکومت ان کی کوئی بات سننے پر آمادہ نہیں اور ہر قیمت پر ہر طرح کے حربوں کے ذریعے گندم کی خریداری کا 45لاکھ ٹن کا سرکاری ہدف حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے مگر دوسری طرف ہنوز کامیابی مشکل نظر آرہی ہے۔ جواب واضح ہے کہ چند ماہ قبل پیدا کئے گئے آٹے چینی کے بحران نے کاشتکاروں، فلورملز مالکان اور خود حکومت کو اس کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہر کوئی مستقبل میں گندم کی قلت کے خوف میں مبتلا ہے اور حکومت سمیت سب ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں گندم کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے، چنانچہ ماضی کے مقابلے میں چھ فیصد زائد پیداوار ہونے کے باوجود گندم آسانی سے دستیاب نہیں حالانکہ ماضی میں اس سے کم پیداوار کے باوجود کسان اپنی گندم بیچنے کیلئے مارے مارے پھرتے تھے، حکومت گندم کی سرکاری قیمت مقرر کرنے کے باوجود ساری گندم اپنی مقررہ قیمت پر خریدنے کو تیار نہیں ہوتی تھی اور حکومتی اہلکار کسانوں کو طرح طرح سے پریشان کرتے اور بے جا نخرے دکھاتے تھے، کسانوں کو قیمت کی ادائیگی میں بھی تاخیری حربے اختیار کئے جاتے تھے اور چکر لگوائے جاتے تھے۔ ان حالات میں کسان اپنی پیداوار اونے پونے داموں آڑھتیوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ آج جب گندم کی طلب موجود ہے اور کسان کو غلہ منڈی میں حکومت کی مقررہ قیمت سے زائد مل رہی ہے تو حکومت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے جبراً ان سے اپنی مقرر کردہ چودہ سو روپے فی من کی سرکاری قیمت پر گندم خرید رہی ہے۔ حکومت کے اس عمل سے بظاہر کسانوں کیساتھ زیادتی نظر آرہی ہے لیکن حکومت نے 22کروڑ عوام کی پورے سال کی ضروریات کو سامنے رکھ کر یہ اقدام اُٹھایا ہے جس کی تحسین کی جانی چاہئے۔