ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

بزرگ کہا کرتے تھے بہتر بات یہ ہے کہ کلام کرنے سے قبل آٹھ دس بار سوچ لیا کرو تاکہ سبکی ہو نا وضاحتیں کرنا پڑیں۔ ہم بزرگوں کی باتیں ہمیشہ پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ زبان کے درندے کو آزاد چھوڑ دینے کے بہت نقصانات ہیں لیکن کس کو فکر ہے۔ اچھا یہ رویہ میرا یا آپ کا ہی نہیں صرف، ہر شخص چاہے وہ عام آدمی ہو یا کسی بڑے منصب پر فائز اس عادت بد میں مبتلا ہے کہ وہ کہو جس سے فوری مشہوری ”شہرت” ملے۔ ایک بزرگ شخصیت نے سوموار کو سب کے چھکے چھڑوا دئیے ہر طرف واہ واہ ہوئی، بہاری معاملہ فہمی۔ عوام کے درد کو سمجھنے اور حقیقت پسند ہونے کی تعریف ہوئی لیکن منگل کو وہ اپنی کہی نصف درجن باتوں میں سے کچھ سے انکاری ہوئے اور کچھ کے بارے میں کہا ”اس سے میری مراد یہ نہیں تھی”۔ ہم سبھی ایسے ہیں تو پھر محض اس بزرگ سے شکوہ کیوں کریں۔ یوں بھی ہمارے مہربان اور غریب دوست وزیراعظم ایک نئی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ یوٹرن لینا کوئی بُرائی نہیں، آدمی بڑا آدمی بنتا ہی حالات کے مطابق یوٹرن لینے سے ہے مگر اُس بزرگ نے یوٹرن نہیں لیا ہزار زاویہ کی مختلف باتیں کہہ دیں۔ بزرگ ہیں احترام واجب ہے، اللہ اپنا کرم کرے اور بزرگی ومنصب کے تقاضوں کے مطابق مستقبل میں گفتگو کرنے کی انہیں توفیق دے۔ہمارے سیاپا فروش دوستوں نے دو دن سے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سندھ حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کاش وہ دوست یہ بھی بتا دیتے کہ کیا باقی تین صوبائی حکومتوں اور وفاق کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار ہوا یا عدم اطمینان کا؟ بات سندھ کی ہورہی ہے تو سُن لیجئے، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ گو وفاقی وزیر فواد چودھدری نے اپنے ہی ایک ساتھی کے اس مطالبہ کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ قرار دے دیا ہے، پھر بھی یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ دستور اور سیاسیات کی الف بے سے بے بہرہ فردوس شمیم نقوی اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں پیپلزپارٹی اور سندھ کی نفرت ورثے میں ملی ہے، اپنی زندگی میں یونین کونسل کا رکن منتخب نہ ہو سکنے والے فردوس شمیم، جناب عمران خان کی وجہ سے کراچی سے رکن سندھ اسمبلی اور پھر اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران عوامی مقامات پر ان کی جس طرح عزت افزائی ہوئی اس پر تو انہیں گھر بیٹھ جانا چاہئے تھا۔سوال یہ ہے کہ سندھ میں گورنر راج کا ہر دو ماہ بعد شوشہ چھوڑنے والے چاہتے کیا ہیں؟ سندھ کیا کوئی مقبوضہ علاقہ ہے،آخر کیوں ہم سیاست کو بند گلی میں دھکیلنے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ ابھی تو دسویں ایف ایف سی ایوارڈ کی تشکیل اور اس کے ارکان کی نامزدگی پر اُٹھا تنازعہ ختم نہیں ہوا، آئین کے آرٹیکل 160 میں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل، اس میں نمائندگی کی اہلیت اور صوبوں کے حقوق بارے جو لکھا ہے، دسویں این ایف سی ایوارڈ کیلئے کمیشن کی تشکیل میں اس طریقۂ کار کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ پچھلی شب ایک دوست فرما رہے تھے کہ جاوید جبار کی بڑی خدمات ہیں انہوں نے کراچی میں بولان ریسٹورنٹ بھی بنایا تھا۔ عرض کیا میرے گھر سے 6افراد اور خاندان سے لگ بھگ 20افراد امریکہ کے شہری ہیں تو کیا صدر ٹرمپ کا فرض نہیں بنتا کہ جس خاندان کے 20افراد امریکی شہری (20کی یہ تعداد اہلخانہ کے علاوہ ہے) بن گئے اس خاندان کے مجھ جیسے لائق فائق اور کتاب دوست شخص کو امریکہ بلوا کر کسی ریاست کا گورنر لگا دیں یا پھر کم ازکم پاکستان میں امریکی سفیر یہ بھی ممکن نہیں تو کم ازکم مجھے امریکہ کا ویزہ ہی دیدیں کہ میں اپنے خاندان کے امریکہ میں مقیم لوگوں سے مل آؤں۔عجیب سی تاویلات ہوتی ہیں بسا اوقات لوگوں کی انسان سوچتا ہی رہتا ہے کہ اس پر ہنسوں یا روؤں؟ مکرر عرض کرتا ہوں دسویں قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل آئین کے آرٹیکل160 کی روح کے صریحاً خلاف ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کا اس حوالے سے خط وزیراعظم کے دفتر پہنچ چکا، صحافت وسیاست کے اس طالب علم کو اس پر کوئی حیرانی نہیں کہ خیبر پختونخوا سے ماسوائے اسفندیار ولی خان کے کسی نے زحمت نہیں کی اس موضوع پر بات کرنے کی۔ کے پی اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی خاموشی حیران کن ہے۔ کمیشن کے ارکان بلکہ اس سے قبل تشکیل کیلئے وزرائے اعلیٰ سے مشاورت ضروری ہے جو نہیں ہوئی۔ تحریر یا ویڈیو لنک ہر دو صورتوں میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو مشاورت کی تصدیق کرے، پھر ارکان کی تقرری، اس کیلئے صوبے بااختیار ہیں۔ مرکز کسی صوبے کا نمائندہ مقرر نہیں کر سکتا۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ کو رکن بنانا خلاف آئین ہے اسی طرح مشیر خزانہ چونکہ غیرمنتخب شخص ہیں وہ بھی دستوری طور پر وزیراعظم کی غیرموجودگی میں کمیشن کے اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے۔وفاق اور سندھ کے اختلافات بارے قبل ازیں ان سطور میں تفصیل کیساتھ عرض کر چکا دہرانے کا فائدہ نہیں، البتہ یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ دستور کی خلاف ورزی کر کے تشکیل دیا جانے والا قومی مالیاتی کمیشن جو بھی فیصلے کرے گا وہ غیرقانونی ہوں گے۔ صوبوں کے درمیان اور وفاق وصوبوں کے درمیان نئے تنازعات اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ عدم اعتماد اور عدم تعاون کی فضا پہلے سے ہی ہے۔ ثانیاًً یہ کہ اس بار این ایف سی ایوارڈ کے ٹرمز آف ریفرنس میں سیکورٹی اخراجات، خسارے والے ادارے، سبسڈی کے میکانزم اور قرضوں کی ادائیگی کی شقیں شامل ہیں۔ آئین کا آرٹیکل160 وفاق کو ٹرمز آف ریفرنس میں اضافے کے ازخود اختیارات نہیں دیتا۔ ٹی آر او خود مالیاتی کمیشن طے کر سکتا ہے۔ صدر مملکت نے خلاف آئین تشکیل کی منظوری کیوں دی؟ اس کا سادہ جواب ہے کہ وہ تحریک انصاف کی طرف سے صدر بنے ہیں، انہوں نے منصب کا تقاضا نہیں سمجھایا۔ اندریں حالات مودبانہ درخواست یہی ہے کہ صوبائی خودمختاری کو پامال کرنے والا یہ فیصلہ واپس لیا جائے اور فیصلے دستور کے مطابق کئے جائیں۔