ایک دوسرے کی خبرگیری کرتے رہئے

رمضان المبار ک میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں، مبارک برکتوں والا مقدس مہینہ اب رخصت ہونے کو ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں سب کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے سب کے دسترخوان بھرے ہوتے ہیں، اللہ کریم سب کو طرح طرح کی نعمتیں عطا کرتے ہیں۔ اب عیدالفطر کی آمد آمد ہے، عید کی آمد کو سب اپنے اپنے حالات کی روشنی میں دیکھتے ہیں، مہنگائی کے اس دور میں غریب آدمی اپنے بچوں کی طرف دیکھتا ہے ان کیلئے نئے کپڑے نئے جوتے تو اسے ہر حال میں خریدنے ہوتے ہیں، بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو آس پاس پڑوس میں دوسرے بچوں کو نئے کپڑے پہنے دیکھتے ہیںاسی لئے غریب آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے بھی عید پر نیا لباس ضرور پہنیں لیکن اب اس کا کیا علاج کہ غریب آدمی کیلئے عید بھی اپنے ساتھ مسائل ہی لیکر آتی ہے۔ اس مرتبہ رمضان المبارک ظالم کرونا کی نظر ہوگیا بہت سے لوگ تو اب یہ دعا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسا رمضان تو پھر کبھی نہ آئے، مساجد میں جس جوش وخروش سے تراویح پڑھی جاتی تھی وہ اس مرتبہ دیکھنے میں نہیں آیا، جن مساجد میں تراویح پڑھی بھی گئی تو وہاں تعداد کم تھی مگر وقت کا کیا ہے وہ گزرتا ہے اور گزرتا چلا جاتا ہے۔ مسائل کا سامنا تو سب کو کرنا پڑتا ہے لیکن غریب کیساتھ ہمیشہ دہرا مسئلہ ہوتا ہے، غربت کی وجہ سے بہت سے مسائل کا حل اس کے پاس نہیں ہوتا وہ تنہا مشکل حالات کا سامنا نہیں کرسکتا، موجودہ حالات میں انہیں ہمارے تعاون کی بہت زیادہ ضرورت ہے، ہمیں اپنے پاس پاس رہائش پذیر لوگوں، اپنے دوستوں، رشتہ داروں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے ان کے مسائل کا احساس ہمیں خود کرنا ہوتا ہے۔ گیس، بجلی، چینی، دالوں اور دوسری روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اب ہمارے یہاں معمول کی بات ہوگئی ہے۔ عوام ان دل دکھا دینے والی خبروں کیلئے اب ذہنی طور پر تیار ہوچکے ہیں۔ گوشت تو اب عرصہ ہوا غریب گھرانوں میں کالے گلاب کی طرح نایاب ہے، دل ناتواں کو دالوں کا سہارا تھا اب انہوں نے بھی بے وفا محبوب کی طرح آنکھیں پھیر لی ہیں، اب غریب آدمی کیلئے دال کی خریداری بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، کمزور کرنسی اور غیریقینی حالات نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے بے خبر ہیں، جب تک لوگ ایک دوسرے کی خبرگیری کرتے رہتے ہیں اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد پر کمر بستہ رہتے ہیں، ایک دوسرے کیساتھ معاملات زندگی میں تعاون جاری رکھتے ہیں۔ زکواة، صدقات، خیرات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں تو معاشرے میں محبت بڑھتی رہتی ہے، انسان اپنے آپ کو اکیلا نہیں سمجھتا اور پھر چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ ایک دوسرے کیساتھ تعاون کا جذبہ بڑھتا ہے لیکن جب ایک انسان اپنے جیسے انسانوں سے بے گانہ ہو جائے، ماتھے پر بل ڈالے اپنی گلی سے گزرے، لوگوں سے بے تعلق رہے، اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے، وہ اس بات سے بے خبر ہو کہ آج پڑوس میں کسی کے گھر چولہا نہیں جلا، ایسی صورتحال میں لوگ اپنے آپ کو تنہا سمجھتے ہیں اپنے اکیلے پن اور اپنے قریبی لوگوں کی سردمہری کی وجہ سے ان کے دکھ درد اور تکالیف ان کیلئے ناقابل برداشت ہوجاتی ہیں۔ وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں، ایک انتہائی خطرناک صورتحال یہ ہے کہ لوگوں میں خودکشی کا رجحان روزبروز بڑھتا چلا جارہا ہے، روزانہ اخبار اُٹھاتے ہی دوچار خودکشی کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں، ہمارے معاشرے میں خودکشی کی سب سے بڑی وجہ معاشی ہے، افلاس اور بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہاتھوں کر ڈالتے ہیں۔ بہت سے لوگ ذرا سی مدد، حوصلہ افزائی کے چند جملوں کے محتاج ہوتے ہیں، اگر انہیں یہ احساس دلا دیا جائے کہ زندگی کی اس اعصاب شکن جنگ میں وہ اکیلے نہیں ہیں ہم ان کیساتھ ہیں ہم سب نے ملکر زندگی کی مصیبتوں کا مقابلہ کرنا ہے تو ان کی مایوسی امید میں بدل سکتی ہے لیکن جب ہمیں اپنے مشاغل سے فرصت نہ ہو، ہم غریب رشتہ دار اور اپنے حاجت مند پڑوسی سے بے خبر ہوں تو پھر معاشرے میں خودغرضی اور بے حسی بڑھتی چلی جاتی ہے۔بیروزگاری کا علاج عوام کے بس سے باہر ہے، یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرے، ہم سوائے فریاد، آہ وفغاں اور احتجاج کے کر بھی کیا سکتے ہیں؟ مگر اپنے حصے کی روٹی بانٹ کر کھانا یقینا ہمارے بس میں ہے، گھر میں سالن پکے تو اس میں ذرا سا پانی زیادہ ڈال دیا جائے تاکہ غریب ہمسائے کے گھر بھی سالن کا ایک پیالہ بھجوایا جاسکے، باجماعت نماز کی ادائیگی میں بھی یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے حال سے باخبر ہوسکیں اور ایک دوسرے کی خبرگیری کرتے رہیں، روزہ میں بھی یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ غریب بہن بھائی کی بھوک کا احساس ہوسکے اور پھر عیدالفطر سے پہلے فطرانہ! غریب بہن بھائی، حاجت مند پڑوسی کی خبرگیری کا نام ہے، ان کی مدد کرنا ان پر خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دینا ہے اور یہ ہمیں کئی گنا بڑھا کر واپس لوٹایا جاتا ہے۔ یہ اللہ کریم کا وعدہ ہے، ہمارے یہاں ویلفیئر سوسائٹی کا تصور روزبروز ناپید ہوتا چلا جارہا ہے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے، یہ بھی ہے کہ اللہ کے نیک بندے ہر دور میں موجود ہوتے ہیں یہ اللہ کے نام پر اپنے محتاج بھائیوں کی خبرگیری کرتے رہتے ہیں ان کی وجہ سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سخی اللہ پاک کا دوست ہوتا ہے۔