پشاور سے بین الاقوامی پروازیں چلانے کی خوشخبری

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کی وزیراعظم سے ملاقات میں پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ باچان خان ایئر پورٹ سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کیلئے پروازوں کی بحالی صوبے کے عوام، تاجر برادری اور خاص طور پر سفروسیاحت کے کاروبار سے متعلق افراد کیلئے بڑی خوشخبری ہے، نیز اس سے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرزکے کاروبار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور بیرون ملک سفر کرنے والے محنت کشوں کو سہولت میسر آئے گی۔ امر واقع یہ ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ایام میں پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کئی ایئر لائنز نے پروازیں بند کر دی تھیں، ایئر پورٹ پر اُترتے وقت نیچی پرواز کرنے والے مسافر طیاروں پر فائرنگ بھی کی گئی جو ایئر پورٹ پر حملے کے بعد ایک اور سنگین خطرہ تھا۔ حکومت نے اس کی روک تھام کیلئے اونچی چوبرجیوں کی تعمیر مکمل کرلی ہے اور حفاظتی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے جو فضائی روٹ کو زمینی طور پر محفوظ بنانے کی ذمہ داری نبھارہے ہیں، یوں پشاور کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اب پوری طرح محفوظ ہے۔پشاور سے بیرون ملک پروازوں کی بندش سے خیبرپختونخوا میں سفری سہولتوں کے فقدان کیساتھ ساتھ صوبے کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے پروازوں کی بحالی کے بعد اس امر کا انداہ نہیں کہ کتنی بین الاقوامی ایئر لائنز کی پروازیں باچان خان ایئر پورٹ آئیں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ابتداء ملکی پروازوں میں اضافہ اور پاکستانی ایئر لائنز کی پروازوں میں اضافہ سے آغاز ہو تو مختلف ممالک کی فضائی کمپنیاں خود بخود اس طرف متوجہ ہوں گی۔
عید سادگی سے اور گھر پر ہی منایئے
کورونا وائرس کی وباء اور اس سے پیدا شدہ حالات میں احتیاط کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عیدالفطر کے نماز کی ادائیگی تو فطری امر ہے اس موقع پر پوری طرح سادگی اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔صدقہ فطر کی بروقت ادائیگی سے ضرورتمند افراد کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنا دینی واخلاقی اور انسانی فریضہ ہے، ملک میں جاری حالات کے باعث معاشرے کا اکثریتی طبقہ جس طرح متاثر ہوا ہے اس کا تقاضا ہے کہ باوسیلہ افراد زیادہ سے زیادہ لوگوں کی دستگیری کی سعی کریں، معمول کی عیدوں اور دیگر تقریبات میں ان کی جانب سے جو مصارف ہوتے تھے اس عید پر وہ رقم دوسروں پر خرچ کر کے عید کی حقیقی خوشیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایسا کرنے کا اجر وثواب ونفع کی تو ضمانت دی گئی ہے،مخلوق خدا کی مدد اور خدا کی خوشنودی کیلئے جو کچھ بھی خرچ کیا جائے وہ ضائع نہیں جائے گا۔ شہریوں کو عید الفطر کے نماز کی احتیاطی تدابیر کیساتھ ادائیگی کے بعد غیرضروری طور پر گھومنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور گھر پر اپنے ہی اہل خاندان کیساتھ عید منانا اپنے آپ سمیت دوسروں کے بھی تحفظ کا باعث اقدام ہوگا۔علمائے کرام کوعید کے اجتماعات میں اس کی تلقین کرنی چاہئے ہر خاندان اور ہر فرد کوشش کرے تو عید سادگی سے اور گھر پر رہ کر منانے میں مدد ملے گی اور عید بھی منفرد انداز میں گزرے گی۔
زائد کرایوں اور حفاظتی تدابیر کا معاملہ
عیدالفطر کی آمد کے موقع پر ٹرانسپورٹروں کی جانب سے زائد کرایوں کی وصولی اور گنجائش سے زائد سواریاں بٹھانے کا عام رواج رہا ہے، اس مرتبہ زائد کرایوں کی وصولی ثانوی مسئلہ ہے اصل مسئلہ احتیاطی تدابیر اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت مسافروں کے تحفظ کو ممکن بنانے کو یقینی بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ہر ضلع کی سطح پر چیکنگ کا بندوبست اور خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے اسی طرح عیدالفطر کے بعد واپسی پر بھی ان دونوں امور کا خیال رکھا جائے اس امر کو معمول کی کارروائی سے ہٹ کر سرگرمی اور جانفشانی سے ہی ممکن بنایا جا سکے۔