حادثات بے سبب نہیں

جمعة الوداع کے دن عید الفطر پر گھر جانے والے مسافروں کا طیارہ ایئر پورٹ سے چندمیٹر فاصلے اور ساٹھ سیکنڈ وقت رہ جانے پر جس قسم کے حادثے کا شکار ہوا یہ ایک دلخراش اور افسوسناک واقعہ ہے جس میں کم وبیش 97 افراد کی جان چلی گئی۔ کسی بھی طیارے کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کیساتھ ساتھ اس کی وجوہات معلوم کرنے کے عمل کا بھی آغاز ہوتا ہے، شواہد اور خاص طورپر بلیک باکس کی تلاش ہوتی ہے، یہاں تو پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کی گفتگو موجود ہے جس کے مطابق طیارے میں فنی خرابی آگئی تھی، اس کے دونوں انجن کام چھوڑ چکے تھے جبکہ ایک عینی شاہد کے مطابق طیارے میں آگ لگ چکی تھی۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق طیارہ موبائل ٹاور سے ٹکرایا، ایک اطلاع کے مطابق طیارہ ایک مکان کی چھت پر پانی کی ٹینکی سے ٹکرا کر بیس فٹ گلی میں گر گیا، بہرحال یہ تو عینی شاہدین کی کہانیاں ہیں، سرکاری ابتدائی رپورٹ میں طیارے کے انجنوں کی کم طاقت ملنے پر بلندی کم ہونے اور متعدد پرندے ٹکرانے کا تذکرہ ہے، ابتدائی رپورٹ کا درست ہونا ضروری نہیں بلکہ یہ محض ایک اندازہ اور خیال بھی ثابت ہوسکتا ہے، اصل حقائق جامع تکنیکی وسائنسی تحقیقات اور ماہرین کی جانب سے حقائق کا کھوج اور رپورٹ مرتب کرنے کے بعد ہی سامنے آئے گا جس کا انتظار کرنا چاہئے، ابتدائی طور پر رپورٹ ایک ماہ کے اندر آنے کا عندیہ دیا گیا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں فضائی حادثات اب معمول بنتے جارہے ہیں، اگست1979ء میں اسلام آباد سے گلگت جاتے ہوئے فوکر طیارہ سرے سے غائب ہی ہوگیا اور اب تک اس کے ملبے تک کا سراغ نہ مل سکا، اس وقعے میں 54افراد موت کے منہ میںچلے گئے تھے۔ 28ستمبر1992ء کو قومی ایئر لائن کا طیارہ کھٹمنڈو ایئرپورٹ کے قریب پہاڑوں سے ٹکراکر تباہ ہوگیا جس میں ایک سو سڑسٹھ افراد لقمہ اجل بنے، اسی طرح دس جولائی2006ء کو ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے میں پینتالیس افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ 27جولائی2010ء کو نجی کمپنی کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر گر کر تباہ ہوا اور ایک سو باون افراد موت کی وادی میں اُتر گئے۔ اس حادثے اور کراچی کے حالیہ حادثے میں مماثلت یہ ہے کہ جہاز حادثے کے وقت انتہائی کم بلندی پرتھا اور اس کا رابطہ بھی چند منٹ پہلے ہی کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوا۔ 20اپریل2012کو نجی ایئرلائن بھوجا ایئرلائن کا طیارہ لوئی بھیر میں ایک سو ستائیس افراد کے سفر آخرت کا سبب بنا۔ اس واقعے کے بعد یہ ایئر لائن بند ہوگئی، سات دسمبر2016ء کو پی آئی اے کا طیارہ چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے حویلیاں میں گر کر تباہ ہوا اور اڑتالیس مسافر راہی ملک عدم ہوگئے۔ اب کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ 97 افراد کو لیکر موت کے سفر پر چلا گیا۔ طیاروں کے حادثات ہوتے ہیں مگر جس شرح سے پی آئی اے کے طیارے حادثات کا شکار ہورہے ہیں یہ ناقابل یقین ہے، تکنیکی بحث سے ہٹ کر ایک عام وجہ ظاہر ہے جہاز میں خرابی انجن کا فیل ہونا ہی اسلئے ہے کہ سوائے کھٹمنڈو کے اور کسی بھی جگہ طیارے پہاڑ سے نہیں ٹکرائے، طیارے معمول کی بلندی برقرار رکھ نہ پائے اور زمین یا پہاڑ سے ٹکرائے۔ ان کے پائلٹس نے فنی خرابی ہی کا بتا یا جس سے یہ اخذ کرنا خلاف حقیقت نہیں ہوگا کہ ہماری قومی فضائی کمپنی متروک یا بہت پرانے طیارے استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر فوکر طیارے جو ملتان کے حادثے کے بعد بند کر دیئے گئے، تابوت طیاروں کی شہرت حاصل کر گئے تھے۔ تازہ حادثے میں تباہ طیارہ بھی پرانا ہی تھا بہرحال نئے اورپرانے، مدت استعمال وغیرہ کے بحث سے قطع نظر بار بار کی تکنیکی خرابی سے یہ بات بہرحال واضح ہے کہ پی آئی اے میں اب حفاظت اور معیار کا خیال شاید ہی رکھا جارہا ہے۔ وہ قومی فضائی کمپنی جو خلیج کی ایک جہازراں کمپنی کی تشکیل وتیاری اور چلانے میں اہم کردار کا حامل تھا آج وہ فضائی کمپنی ہفتہ وار چھتیس سو پروازیں چلاتی ہے اور ان کا ایک طیارہ بھی حادثے کا شکار نہ ہوا، جبکہ پی آئی اے کو ہر عشرے میں ایک دو حادثات کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ فضائی کمپنی کی دگر گوں حالت اور پروازوں سے لیکر جہازوں کی دیکھ بھال سبھی حوالے سے جو طرح طرح کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں ان کہانیوں کا مبنی بر صداقت ہونا ضروری نہیں لیکن جس طرح کے حادثات سامنے آرہے ہیں ان زمینی حقائق کو کسی پردے میں لپیٹنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان سارے حالات وواقعات اور معاملات وحادثات کی تحقیقات کبھی نہیں ہوئیں، حادثات کی تحقیقات سالوں چلتی رہتی ہیں اور ذمہ داری کے تعین اور سزا کے بغیر داخل دفتر ہو جاتی ہیں، صرف مارگلہ پہاڑوں پر نجی مسافر طیارے کی تحقیقاتی رپورٹ ہی سامنے آسکی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تحقیقات کے نتائج ہی سامنے نہیں لائے جاتے بلکہ وجوہات کا تعین کر کے آئندہ احتیاط کا بھی مظاہرہ نہیں ہوتا۔ اگر تحقیقاتی رپورٹوں سے سبق حاصل کر کے ان خامیوں اور خرابیوں سے بچنے کی تدابیر کی جائیں تو حادثات میں کمی ممکن ہو۔ ہر طیارے کا معائنہ اور فٹنس سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے، اس طریقہ کار کی تو پابندی ہوتی ہے لیکن یکے بعد دیگرے طیاروںکو حادثات پیش آتے ہیں جس پر یہ سوال اُٹھنا فطری امر ہے کہ اس چھان بین اور پرواز کے قابل وتسلی بخش ہونے کی رپورٹوں کی حقیقت کیا ہےِ؟ حادثات سے قطع نظر پی آئی اے کا خسارہ اور فضائی سروس کا معیار اب اس قابل نہیں کہ یہ مسافروں کی توجہ حاصل کر سکے۔ حادثات میں کمی لانے کیلئے طیاروں کی مرمت وبحالی اور قدرے بہتر حالت کے طیارے لیز پر لینے پر توجہ کی ضرورت ہے، تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر لانے، ذمہ داری کے تعین، وجوہات سے آگاہی اور فضائی کمپنی کے معیار تحفظ پر خاص توجہ نہ دی گئی تو فضائی کمپنی تو شاید چلتی رہے لیکن مسافروں کی ترجیح بدل جائے گی۔ یہ پاکستانیوں کی محبت ہے یا مجبوری کہ اب بھی وہ مہنگے کرایوں اور پست ترین معیار کے باوجود خطرہ مول کر اسی سے سفر کرتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک؟۔