عیدالفطر مبارک

کل دوستوں کی محفل میں حالات حاضرہ پر بات چیت کا سلسلہ جاری تھا، ایک مہربان کہنے لگے یار مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سب فلاسفر ہیں، ہر بات کی گہرائی میں جاکر اس کے بخئے ادھیڑ دینے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ کرونا پر مباحث کا سلسلہ چل نکلا جو آج تک ختم ہونے میں نہیں آیا، اب بھی بہت سے لوگ ہیں جو کرونا کو دشمن کی سازش سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے؟ اسی طرح عید بھی ہمارے یہاں سب سے مختلف انداز میں آتی ہے کبھی دو عیدیں منائی جاتی ہیں تو کبھی تین! اس حوالے سے بھی سب کے اپنے اپنے نظریات ہیں جیسے ہی عید کا اسلامی تہوار قریب آتا ہے ہم لوگ ان بحث مباحثوں میں اُلجھ پڑتے ہیں اس مرتبہ اللہ کی مہربانی سے یوں لگ رہا ہے کہ ہم کافی عرصے بعد ایک ہی عید منائیں گے، عید کی خوشی سے زیادہ ہمارے لئے ایک ہی دن عید منانا بہت بڑی خوشی ہے، دو بزرگ ساتھی جن کے سامنے پاکستان بنا تھا وہ شروع کے دنوں کو یاد کررہے تھے، وہ پاکستان سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں، انہیں پاکستان ایک ایسا بچہ لگتا ہے جسے انہوں نے گود کھلایا ہو یہ سر سے لیکر پاؤں تک پاکستانی ہیں یہ وطن عزیز کی بھلائی چاہتے ہیں، اسے پھلتا پھولتا ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان میں نقص نکالنے والے لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے، ان کا خیال ہے کہ لوگوں کے سوچنے کا انداز بدل گیا ہے جسے دیکھیں وطن عزیز کی برائیاں بیان کررہا ہے۔ دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ اپنی تاریخ سے واقفیت بھی نہیں رکھتے، یہ نہیں جانتے کہ ہمارا آغاز کتنا شاندار تھا اُمت مسلمہ نے دنیا کو کیا کچھ نہیں دیا؟ لیکن ہمارے لوگ تو ہمیشہ سے دشمن کے پروپیگنڈے سے مرعوب ہوتے رہے ہیں انہیں جو کچھ غیروں نے بتا دیا انہوں نے اس پر یقین کر لیا۔ آپ کی بات تو درست ہے لیکن ہمیں اپنی خامیوں پر بھی تو نظر رکھنی چاہئے اگر ہم اپنے کردار کے کمزور گوشے نہیں دیکھیں گے تو ہماری اصلاح کیسے ہوگی؟ ہمیں غیرجانبداری سے ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے اسی میں ہماری بہتری ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں اپنی غلطیاں نظرانداز کر دینی چاہئیں یا اپنی خامیوں کی اصلاح نہیں کرنی چاہئے یہ تو ایک مثبت عمل ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مغرب سے جو کچھ ہمارے بارے میں پچھلی کئی صدیوں سے کہا جارہا ہے ہم اس پر اندھا دھند ایمان لے آئیں، ان کے پروپیگنڈے کی روشنی میں اپنے معاملات کو دیکھیں ہماری نوجوان نسل کو مغرب کی تاریخ سے بھی باخبر ہونا چاہئے انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مغرب نے اپنی ترقی کا سفر کب شروع کیا؟ اس سے پہلے ان کے کیا حالات تھے؟ ان کے سوچنے کے انداز کیا تھے؟ ان کی ترقی سے ہمارے نوجوانوں کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں یہ ان کی ہر اُلٹی سیدھی بات پر یقین کرلیتے ہیں ان کا مکر وفریب انہیں نظر نہیں آتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلی کئی صدیوں سے ہمارے نقائص ہی نکال رہے ہیں اس بے پناہ جھوٹے سچے پروپیگنڈے کا اثر یہ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل احساس کمتری میں مبتلا ہوگئی ہے، اسے اب اپنی صلاحیتیں نظر ہی نہیں آتیں، یہ گوروں کی ہر بات سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں، اگر انگریز پھٹی ہوئی پتلون پہنتا ہے تو ہمارا نوجوان بھی اس کی تقلید میں پھٹی ہوئی پتلون پہن لیتا ہے۔ ہمارا میڈیا اندھادھند ان کی پیروی کررہا ہے، آپ مختلف چینلز پر آنے والی لڑکیوں کا لباس دیکھو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اگر ان کا نوجوان کان میں بالیاں ڈال رہا ہے تو ہمارا نوجوان بھی اس کی تقلید کررہا ہے، انہوں نے لمبے لمبے بال چھوڑ دئیے تو ہم نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے زلفیں بڑھا دیں، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک عظیم تاریخ کے امین ہیں ایک عظیم تہذیب کے علمبردار ہیں، ہماری نوجوان نسل کو کم ازکم اپنے اسلاف کی روشن تاریخ سے تو باخبر ہونا چاہئے۔ ہم اس بزرگ کے جذبات سمجھ رہے تھے، ہمیں ان کی سوچ کا احترام بھی تھا لیکن پھر بھی ہم نے درمیان میں دخل درمعقولات کرتے ہوئے انہیں کہا کہ آپ کا کہنا بجا ہے لیکن آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ بڑا عجیب ہے جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی، اپنے دشمن کا کام ہم نے بہت آسان کردیا ہے، وطن عزیز کا ہمیں کوئی خیال نہیں ہماری معیشت روزبروز بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جنہیں کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسروں سے گلہ شکوہ کرنے کی بجائے یہ بہتر ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں جس مقصد کیلئے ہم نے آزادی حاصل کی تھی اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہماری بات سن کر محترم بزرگ کہنے لگے ہمیں آپ کی بات سے اتفاق ہے لیکن میرا مطلب کچھ اور ہے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تاریخ میں اس سے بدتر دور سے بھی گورے گزرے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنی تعریف کی ہے، وہ ہمارے اسلاف کے کارناموں کا ذکر تک نہیں کرتے، انہوں نے ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈے کی حد کردی ہے، ہماری نوجوان نسل کو ذہنی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمیں یقینا ان کی باتوں سے اتفاق تھا لیکن ہم نے قہوے کی پیالی اُٹھاتے ہوئے کہا جناب اس ثقیل گفتگو سے پرہیز کریں اور عیدالفطر کو سادگی سے منانے کی تیاری کریں اور ہماری طرف سے عید کی ایڈوانس مبارکباد بھی قبول کیجئے۔