ہلال عید بہ اوج فلک ہویدا شد

ایسا کبھی نہیں ہوا، میرا مقصد کہنے کا یہ ہے کہ کم ازکم میری یادداشت میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی نے کبھی شہاب الدین پوپلزئی کی قیادت میں شعبان کے 29دن کے بعد رمضان کے 30دن پورے کر کے شوال کے چاند کی رویت کا فیصلہ کیا ہو، بلکہ نہ صرف شعبان کے 29 کے بعد رمضان کے بھی 29پورے ہونے کے بعد عید کا اعلان عام سی بات رہی ہے، مگر اس بار ایسا نہیںہوا اور آج جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق رمضان کی 29ویں جبکہ پوپلزئی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق رمضان کی تیس تاریخ ہے، حالانکہ گزشتہ شام صوبے میں سوشل میڈیا ”جانبازوں” نے مردان اور بعض جنوبی اضلاع میں شوال کے چاند کے حوالے سے کئی شواہد سامنے لا کر بقول شاعر نہ بہ زورے، نہ بہ زاری نہ بہ زرمی آید کے تحت صوبے کے عوام پر عید مسلط کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور جب مفتی پوپلزئی کی جانب سے عیدالفطر بروز اتوار منانے کا اعلان کیا گیا تو یہی سوشل میڈیا جانباز دوسرے طریقے سے سامنے آئے یعنی جن گواہیوں کا ڈھنڈورہ ان لوگوں نے پیٹا تھا، ان کے بارے میں استفسار شروع کر کے ماحول کو ”گردآلود” بنانے کی سعی کی حالانکہ محولہ کمیٹی نے مردان اور جنوبی وزیرستان کی مبینہ شہادتوں کو رد کر دیا تھا ادھر بعض اخبارات نے ایسی سرخیاں جمائی ہیں جن کا مقصد مفتی پوپلزئی کے اس تازہ فیصلے کو بھی طنز کا نشانہ بنانا ہے، گویا جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی، ایک اخبار نے تازہ صورتحال پر جو دوکالمی سرخی جمائی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ”مفتی پوپلزئی کو چاند نظر نہیں آیا، کل اتوار کو عیدالفطر کا اعلان کردیا” حالانکہ تقریباً ہر سال یہی کیفیت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ کیساتھ بھی رہتی ہے، جب انہیں خیبر پختونخوا کے طول وعرض میں درجنوں شہادتیں میسر آنے کے باوجود چاند نظر نہیں آتا مگر طنز کے تیر پھر بھی مفتی پوپلزئی کے حصے میں آتے ہیں۔ بہرحال دیکھتے ہیںکہ اب کی بار جبکہ بڑی مدت کے بعد پشاور کی کمیٹی نے رمضان کے تیس دن پورے کرنے کے بعد اتوار کو عید الفطر منانے کا فیصلہ کیا ہے یہ بھی ملک میں ایک ہی روز عید منانے کا باعث بنتا ہے یا پھر ماضی ہی کی طرح اس بار بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی ایک بار پھر دو دنوں کے فرق سے عید منانے کا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ اس حوالے سے سامنے آنے والے شواہد کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ متفقہ طور پر عید منانے کے امکانات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے۔
البتہ وزیرسائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے گزشتہ روزیہ دعویٰ کیا تھا کہ رویت ہلال کمیٹی پیر کو عید کرنا چاہتی ہے تو اس حوالے سے انہیں جن خدشات کا سامنا تھا ان میں سے کچھ ایک چھوٹی سی خبر کی صورت آج ہفتہ 23مئی کے اخبارات میں سامنے آچکے اور لاہور ڈیٹ لائن سے ایک خبر کے مطابق 23مئی کو شوال کا چاند نظر آنے کے امکانات صرف دس فیصد بتائے گئے ہیں، خبر میں بتایا گیا ہے کہ 20 ویں روزے تک 23مئی کو چاند نظر آنے کے امکانات 30فیصد تک تھے، امکانات میں کمی چاند کے زاویئے میں معمولی سی تبدیلی کے باعث ہوئی۔ ذرائع کے مطابق صرف دس فیصد تک امکانات ہیں کہ چاند گوادر اور جیوانی میں نظر آسکے۔ تاہم دوسری طرف مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ 23مئی کو چاند نظر آنے یا نہ آنے کی لاحاصل بحث چھڑ گئی ہے، متعلقہ ادارے جو بھی اعلان کریں سب کو اس پر لبیک کہنا چاہئے۔ تاہم یہ جو 30فیصد کے بعد بات اب دس فیصد پر لاکر تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس حوالے سے وکیل انجم رانا نے بہت پہلے کیا خوب کہا تھا کہ
عید کے چاند میں کچھ روز ابھی باقی ہیں
اپنے چہرے سے دوپٹہ نہ سرکنے دینا
بہرحال اب دیکھتے ہیں کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ان سطور کے تحریر والے دن مغرب کے قریب اپنی بیٹھک میںکیا فیصلہ کرتی ہے۔ 30فیصد کے امکانات کے حوالے سے طاقتور بصری آلات کی مدد سے چاند کو آسمان کے اُفق پر تلاش کر کے عید کا اعلان کرتی ہے یا پھر ماضی کی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے، گوادر اور جیوانی سے بھی نوید ہلال عید کی خبر نہ ملنے پر سعودی عرب کے اگلے روز عید منانے کا حکم صادر کرتی ہے کیونکہ ماضی میں یہی بات کی جاتی تھی کہ ہمارے اور سعودی عرب کے نظام الاوقات میں دوگھنٹے کا فرق ہونے کی وجہ سے ان کیساتھ عید منانے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا چونکہ سعودی عرب نے گزشتہ روز یعنی جمعة المبارک کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتے ہوئے بروز اتوار عید منانے کا اعلان کیا ہے، اس لئے اصولی طور پر اگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی پیر کے روز عید کا اعلان کرے تو یہ سابقہ روایات کے عین مطابق ہوگا، البتہ خیبر پختونخوا اور مرکز میں ایک اور بعد المشرقین کا باعث ضرور بنے گا۔ ویسے مغل دور میں رمضان کے دوران ہر قسم کی غیراسلامی حرکات پر مع ”دخت رز” کے پابندی لگا دی جاتی تھی اور جب شوال کا چاند نظر آجاتا تو ان کے چہرے کھل اُٹھتے، ایک شیش محل کی بالکنی سے ہلال عید کا نظارہ کرتے ہوئے ملکہ نورجہان نے جہانگیر بادشاہ کی طرف یہ مصرعہ پھینکا کہ
ہلال عید بہ اوج فلک ہویدا شد
تو جہانگیر نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا
کلید میکدہ گم گشتہ باز پیدا شد
ہمارے ہاں کے نورجہانوں اور جہانگیروں کو ”آسانیاں” فراہم کرنے کیلئے تین روز قبل ہی چند بڑے ہوٹلوں میں درمیخانہ کھولنے کی اجازت دیکر ان کی عید کا ساماں پہلے ہی کر دیا گیا ہے۔