طیارہ حادثہ کی تحقیقات

کسی بھی حادثے میں تکنیکی وجوہات اور انسانی غلطی دواہم عنصر ہوتے ہیں، کراچی میں پی آئی اے طیارے کے حادثے کے حوالے سے جو تازہ تفصیلات آئی ہیں اس کے مطابق پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات دو مرتبہ نظرانداز کردیں، بہرحال ابتدائی طور پر بھی ملبہ پائلٹ ہی پر ڈالنے کی کوشش ہو چکی ہے، دوسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا گیا۔ قبل ازیں کے حادثات میں بھی پائلٹ ہی کو کسی نہ کسی طور قصور وار گردانا گیا، اس ساری صورتحال کے باوجود تحقیقاتی عمل پر معترض ہونے کی اس لئے گنجائش نہیں کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی صورتحال اور حالات ہی سے اس حادثے کا فیصلہ ہوگا، سوال یہ ہے کہ پائلٹ کی جانب سے ہدایات نظر آنے، گرتے ہوئے طیارے اور مسافروں کو خطرے سے دوچار کرنے پر فرسٹ آفیسر اور معاون پائلٹ نے مداخلت کیوں نہ کی، اس کا ردعمل کیا تھا، نیز سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سینئر اور تجربہ کار پائلٹ نے اس طرح کی سنگین غلطی تنبیہ اور توجہ دلانے کے باوجود کیوں کی؟ جس کا نتیجہ تباہی اور موت کی صورت میں سامنے آنا یقینی تھا۔ ایک بات بہر حال توجہ طلب ہے کہ پائلٹ آخری پیغام دینے تک مطمئن تھا اور مے ڈے مے ڈے پکارتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں لرزش اور اعتماد کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یقینی موت اور حادثے کا پیغام دیتے ہوئے بھی وہ اتنا مطمئن کیسے تھا؟ بہرحا ل اس قسم کے حالات پیش آنے پر ان کو اعصاب پر کنٹرول رکھنے کی جو تربیت دی جاتی ہے یہ اس کا عملی مظاہرہ تھا، اس قدر مضبوط اعصاب کے مالک پائلٹ سے غلطی اور وہ بھی سہواً نہیں عملاً غلطی کی توقع ناممکن ہے۔ غیرملکی ماہرین اور ایئربس کمپنی کے نمائندوں کو تحقیقاتی عمل میں کس حد تک شامل کیا جاتا ہے اور وہ کیا نتائج اخذ کریں گے اس سے قطع نظر پالپاکے تحفظات کو دور کرنے اور تحقیقات کے عمل کو پریقین بنانے کا تقاضا یہ ہے کہ پالپا کے نمائندے کو تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جائے۔ پالپا کی جانب سے علاوہ ازیں بھی جس صورتحال کی بار بار نشاندہی ہوتی رہی ہے، ان کے تحفظات کو مزید بلیک میلنگ کا نام نہ دیا جائے بلکہ مسافروں کے تحفظ کیلئے ان کے تحفظات کو دورکرنے پر توجہ دی جائے۔ پی آئی اے اب ایک پرخطر فضائی کمپنی کہلائی جانے لگی ہے اور اس کے طیاروں کے بڑھتے حادثات کو اب مزید نظرانداز کرنے کی گنجائش نہیں۔ اس عمل کا آغاز شفاف تحقیقات اور نتائج عام کر کے ہی کرنا ہوگا تاکہ مسافروں کا شکستہ اعتماد بحال ہوسکے۔
افغان طالبان کا خوش آئند اعلان
افغان طالبان نے ایک بار پھر معاہدہ امن پر کاربند رہنے کا اعلان کیا ہے، طالبان کے امیر ملاہیت اللہ اخوند زادہ کا کہنا ہے کہ قیام امن کیلئے اپنے حصہ کا کردار ادا کیا جائے گا، پڑوسی ممالک کے تحفظات دور کرنے کیلئے اقدامات بھی۔یہ اعلان بجاطور پر خوش آئند ہے زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ افغان معاہدہ امن کے فریق کی حیثیت سے طالبان کی جانب سے اپنے وطن (افغانستان) میں عوامی مقامات پر حملوں سے مستقبل میں اجتناب کا اعلان بھی کیا جاتا۔ چارعشروں سے آگ وخون کے خوفناک کھیل نے افغانوں کو رنج والم کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حالیہ دنوں کے چند افسوسناک واقعات رنج بڑھا نے کا ہی سبب بنے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان معاہدہ امن کی روشنی میں معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے مرحلہ واراقدامات کا سلسلہ شروع ہو اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی افغان کا لہو نہ بہنے پائے۔ ہم افغان معاہدہ امن کے فریقین سے یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہ برتیں بلکہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر اور افغانستان میں تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغاز ہو تاکہ افغان عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔