کورونا بارے عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہو رہی ہے، اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہو جائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس اس سال کے آخر میں ان جگہوں پر واپس آسکتا ہے جہاں پہلی لہر ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا لیکن ہمیں اس حقیقت سے بھی واقف رہنا چاہئے کہ یہ بیماری کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور آج بھی مزید کیسز اور اموات کے بعد ملک میں مصدقہ کیسز 57ہزار سے زائد ہوگئے جبکہ اموات 1180تک پہنچ گئیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے جو اندازہمارے ہاں اختیار کیا جارہاہے وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں، ہمارے ہاں تو ابھی پہلی لہر کی ہی شدت نہیں آئی جبکہ دنیا میں دوسری لہر کے آنے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ صحت کے ضمن میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس صورتحال پر اس امر کا عندیہ دیا ہے کہ ممکن ہے ملک میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈائون کی نوبت آجائے۔ لاک ڈائون کی افادیت سے تو انکار ممکن نہیں اس کے معاشی پہلوئوں کو بھی ایک طرف رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو مشکل یہ ہے کہ لاک ڈائون ہونے کے باوجود نیم لاک ڈائون یا کہیں کہیں بلکہ مضافات اور اکثر علاقوں میں توکسی قسم کی پابندی نہ ہونے کی صورتحال بن جاتی ہے، عوام خود اپنے مفاد اور تحفظ کیلئے بھی لاک ڈائون کی پابندیاں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے، ایسے میں لاک ڈائون ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہونے کے باوجود عوامی تحفظ کا باعث نہیں بنتی اور لاحاصل رہ جاتی ہے، ایسے میں لاک ڈائون دوبارہ کرنا ایک تو اس کے غیرمؤثر ہونے کے باعث اور دوم اس کی افادیت شاید اب اس لئے بھی نہ ہو کہ بازاروں کے کھل جانے اور احتیاطی تدابیر کے روندے جانے کے بعد اب کورونا وائرس خدانخواستہ اتنا پھیل چکا ہے کہ اسے لاک ڈائون کے ذریعے قابو میں کرنا اب ممکن نہ رہا، جس طرح کے عدم احتیاط کے مظاہرے کئے جاتے رہے اس میں تو گھر گھر اور ملک کے کونے کونے میں اب کورونا وائرس کی موجودگی کا خطرہ ہے، بہرحال حکومت نے ماہرین صحت کی سفارشات کو نظرانداز کر کے اور عوام نے احتیاط کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھنے کا جو کردار ادا کیا ہے اس کے نتائج اب سامنے آنے کو ہیں۔ اس ساری صورتحال میں قدرے اطمینان کا باعث امر یہ ہے کہ پاکستان میں اس کی رفتار سست رہی، اموات کی شرح زیادہ بلند نہ ہوئی لیکن ساتھ ساتھ یہ امر بھی ناقابل تردید ہے کہ جنازے اور کفن دفن کے طریقہ کار کے باعث اور کسی حد تک علاج نہ ہونے اور عوام کے صحت کے اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کے باعث بیماری اوروفات تک کو راز میں رکھا گیا۔ علاوہ رزیں لوگوں کے وائرس کے شکارہونے اور صحت پانے کی شرح بھی ریکارڈ کا حصہ نہ بن سکی، سرکاری اعداد وشمار اس لئے بھی مستند نہیں کہ یہ خالصتاً سرکاری ہسپتالوں ہی سے حاصل شدہ ہیں، بہرحال اس صورتحال سے قطع نظر اب بھی بعد ازخرابی بسیار عوام کو اس امر کا یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ کورونا وائرس ایک مہلک اور ناقابل علاج بیماری کا باعث وائرس ہے جس سے بچائو اور تحفظ کا واحد راستہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ہے۔ حکومت اور انتظامیہ ماسک نہ پہننے کی ہدایت پر کارروائی کیوں نہیں کرتی؟ کیا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا اور اس سے بڑھ کر دوسروں کی جانوں کیلئے خطرہ بننا قابل تعزیز امر نہیں۔ حکومت مفادعامہ میں کارروائی سے گریزاں کیوں ہے، ان حالات میں حکومت اگر دوبارہ لاک ڈائون کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی مزاحمت ومخالفت بھی ہوگی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ وزیراعظم عمران خان کے ان بیانات کی بھی واضح نفی ہوگی جس میں وہ بار بار لاک ڈائون مسئلے کا حل نہیں گردانتے رہے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر لاک ڈائون کا خاتمہ کیا ہے اس لئے اب عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بھی اس سارے عمل کا حصہ ہے، البتہ عدالت عظمیٰ اور اب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت دونوں ہی دوبارہ لاک ڈائون کا عندیہ دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ اگلے ہی روز کہہ چکی ہے کہ صورتحال دیکھ کر لاک ڈائون کے خاتمے کے فیصلے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے، عالمی ادارہ صحت کے خدشات کی روشنی میں اگر صورتحال کا جائزہ لیا جائے توپاکستان میں خدانخواستہ پہلی لہر کے اختتام کیساتھ ہی دوسری لہر کا بھی خطرہ نظر آتا ہے۔ وبا کے بارے میںصحت کے ماہرین بھی وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتے، اندازے ہی کا اظہار ممکن ہے ۔وبا کا ظہور اور اچانک خاتمہ کا امکان بھی موجود ہوتا ہے اس لئے اس امر کی دعا کی جانی چاہئے کہ مالک کائنات اس وبا سے جلد سے جلد ہمیں اور پوری دنیا کو نجات دے۔ احتیاطی تدابیر کی پابندی بارے علماء سے لیکر ماہرین صحت تک بھی متفق ہیں، دنیا کے ممالک میں سخت لاک ڈائون او رشہریوں کی جانب سے مکمل پابندی واحتیاط کے بعد ہی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی، پاکستان میں بھی جب تک احتیاطی تدابیر کا مکمل خیال نہ رکھا جائے تب تک بہتری کی توقع عبث ہے۔ احتیاطی تدابیر بارے جلد سے جلد سخت فیصلے کرنے اور ان کی سختی سے پابندی کرائی جائے اور بغیر ماسک باہر نکلنے کو قانونی طور پر جرم قرار دیا جائے اور خلاف ورزی پر کارروائی ہو تبھی لوگ اس کی پابندی کریں گے، رضاکارانہ اور خوداحتیاطی کے طور پر اس کی پابندی تو درکنار لوگ ماسک پہننے کو غیرضروری ہی نہیں اس کا تمسخر اُڑانے سے بھی دریغ نہیں کر رہے ہیں۔ اب تو لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کا طریقہ کار اپنا نا ہی مجبوری اور مناسب حکمت عملی بن گئی ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔