متفقہ ہونے کے باوجود متنازعہ عید

خیبرپختونخوا کی مقامی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تیس روزے پورے ہونے اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق چاند نظر آنے کے اعلان کے باوجود ملک میں ایک ساتھ عید منانے کی تمنا پوری نہ ہوسکی۔ جانی خیل کی مقامی کمیٹی کے اعلان کے مطابق بعض اضلاع میں ایک دن قبل ہی عید منائی گئی جو سعودی عرب سے بھی ایک دن قبل تھی جبکہ سنی اتحاد کونسل پاکستان نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کو پہلی مرتبہ شرعی تقاضوں سے عدم ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے اگلے دن جس دن بھارت میں بھی شاہی مسجد دہلی کے امام کے اعلان کے مطابق عید کا دن تھا اس دن نہ صرف عید منائی گئی بلکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئر مین نے اتوار کو عید منانے والوں کو ایک روزہ قضا رکھنے کا بھی فتویٰ جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر چاند دیکھے عید کا اعلان کرنے والے پوری قوم کے گناہوں کا بوجھ اُٹھائیں گے۔دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کا لب ولہجہ بھی رویت ہلال کے اعلان کے وقت پراعتماد نہ تھا بلکہ انہوں نے دبائو کا اشارہ دیا اور بعد میں علالت کا عذر تراش کر عیدالفطر کی نماز تک ادا نہ کی۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے ایک روز قبل ہی اتوار کو شوال کا چاند نظر آنے کی سائنسی بنیادوں پر پیشگوئی کر دی تھی جس پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور ان کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کو دبائو کا سامنارہا لیکن اس کے باوجود نہ صرف ملک بھر میں ایک دن عید ہوسکی بلکہ خیبرپختونخوا کے بعض حصوں کے علاوہ پورے ملک کیلئے قابل قبول اور قابل اعتماد مرکزی رویت ہلال کمیٹی بھی متنازعہ ہوگئی اور سنی اتحاد نے اس سے عملی اختلاف کر کے اس کے فیصلے کو چیلنج کیا جو خیبرپختونخوا کے علاوہ کسی اور جگہ سے کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کرنے کی شاید پہلی مثال ہے۔ جہاں تک جانی خیل کی کمیٹی کے فیصلے اور شرعی شہادتوں کا تعلق ہے اس حوالے سے وہاں کے مقامی علمائے کرام اور نہایت محدود تعداد میں اس فیصلے کو تسلیم کرنے والے ہی ذمہ دار ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان کو سعودی عرب سے بھی ایک دن قبل چاند نظر کیسے آگیا اور اس پر فتویٰ وعملدرآمد کا جواز کیا تھا، اس سے قطع نظر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا متنازعہ بن جانا نیک شگون نہیں، ان کے فیصلے کو بھی مشکوک گرداننے اور دبائو میں آنے کے الزامات کے بعد کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت کمزور ومتنازعہ اور اس منصب کیلئے ان کی اہلیت پر بھی سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ قبل ازیں اس امر پر بار بار زور دیا جاتا رہا کہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں ایک ساتھ عید منائی جائے مگر اب ملک میں تین تین چار چار عیدیں ہونے لگی ہیں، تضادات بڑھنے لگی ہیں جس کے بعد اب اس امر کی توقع کم ہی کی جاسکتی ہے کہ پورے ملک میںایک ہی دن عید اورروزہ ہو۔ اس مسئلے کا اب واحد حل یہی رہ گیا ہے کہ یا تو مرکزی حکومت پورے ملک میں رمضان اور شوال کا چاند نظر آنے کے اعلان اور اس سے جڑے فرائض وعبادات شروع کرنے کے معاملات کو کلی طور پر اپنے ہاتھ میں لے اور سختی سے ہر مقامی علاقائی اور صوبائی اعلانات اور ان پر عملدرآمد کو روکے، اس مقصد کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو غیرمتنازعہ اور پوری قوم کیلئے قابل قبول بنایا جائے اور اس کے فیصلوں کو وقعت دی جائے یا پھر اسے لوگوں کی مذہبی آزادی قرار دے کر کلی طور پر انہی پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنے طور پر فیصلہ کریں۔
پیٹرول کی قلت کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ضرورت
ملک بھر کے بیشتر شہروں میں ڈیزل کے بعد پیٹرول کی کمی ہونے کی وجہ سے کئی پمپ بند ہو گئے ہیں۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے غیراعلانیہ طور پر کم ذخیرے کی کوشش کی گئی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ ملک میں پیٹرولیم کی کمی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی دنوں سے اس جانب توجہ دلائی جارہی تھی مگر حکومت نے اس طرف نہ تو کوئی توجہ دی اور نہ ہی اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ مسابقتی کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ کارٹل بنانے والوں کیخلاف کارروائی کرے جس میں ان کو بری طرح ناکامی ہوئی جس کے نتیجے میں کارٹل بنا کر اور منصوبہ بندی کے تحت پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی۔ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ پر تو خوب ذخیرہ کرتے مال بنایا جاتا ہے جبکہ قیمتوں میں کمی کی صورت میں لائسنس کے مطابق صارفین کو تیل کی سپلائی کرنے کی شرط سے بھی انحراف کیا جاتا ہے جو قلت اور مشکلات کی صورت میں صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کیخلاف ایکشن لیں۔ دوسری جانب یہ قومی احتساب بیوروکی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کرے، حکومت پیٹرول پمپوں کو کم سے کم تیل رکھنے کا پابند بنائے تاکہ صارفین تیل کی مصنوعی قلت سے مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
افغان مہاجرین کا غیرقانونی کاروبار
پشاور میں افغان مہاجرین کی جانب سے جائیدادیں بنانے اور بڑے کاروبار سے وابستگی کی اکثر وبیشتر خبروں کی اشاعت ہوتی ہے بعض اوقات حکومت بھی تحقیقات کا عندیہ دیتی ہے لیکن عملی طور پر اس حوالے سے کوئی قدغن اور کارروائی سامنے نہیں آتی۔ افغان مہاجرین کی پراپرٹی، گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کے کاروبار میں بھاری سرمایہ کاری وکاروبار کیش پر ہونا ملکی خزانہ کوٹیکس سے محروم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ ان پر ٹیکس کا قانون لاگو نہیں کیا جا سکا ہے جس کا وہ فائدہ اُٹھا رہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ تمام غیرقانونی کاروبار بند کرنے اور اثاثے ضبط کرنے کا اقدام شروع کرے اور کسی کو بھی غیر قانونی کاروبار کی اجازت نہ دی جائے۔