مشرقیات

مجالس حکیم الامت میں مولانا اشرف علی تھانوی ایک ان پڑھ خاتون کے آخری وقت پیش آنے والا ایک عجیب واقعہ منقول کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک ان پڑھ عورت مرنے کے وقت کچھ کلمات بول رہی تھی جو اس کے گھر والوں کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے۔ گھر والے کسی مولانا صاحب کو بلا کر لائے اور کہا کہ دیکھو! یہ کیا کہہ رہی ہے؟ مولانا صاحب نے قریب جا کر سنا تو عربی زبان کے یہ کلمات اس کی زبان سے ادا ہو رہے تھے۔ان ھذین رجلین یقولان ادخلی الجنتہ” یہ دو آدمی یوں کہہ رہے ہیں کہ جنت میں داخل ہو جا”
مولانا صاحب یہ سن کر حیرت میں رہ گئے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود اس کی زبان سے عربی کے ایسے الفاظ ادا ہو رہے ہیں۔ گھر والوں کو بتایا کہ اس کو تو جنت کی بشارت دی جا رہی ہے۔ مولانا صاحب نے پوچھا: اس کے اعمال کیا تھے جن کے بدلے میں اس کو یہ نعمت ملی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ تو بالکل بے عمل عورت تھی۔ مولانا صاحب نے کہا: غور کرو! یقینا اس کا کوئی عمل ایسا ہوگا جو خدا تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوگیا ہے وہ کیا عمل ہے؟ بہت سوچنے کے بعد لوگوں نے بتایا کہ اس کی ایک عادت یہ تھی کہ جب اذان ہوتی تو سب کام چھوڑ دیتی اور اذان کو پوری توجہ کے ساتھ سنتی تھی۔ اس دوران دوسروں کو بھی بولنے سے روکتی تھی۔ مولانا صاحب نے فرمایا: معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کے نام کی عزت کرنا ہی اس کے کام آگیا۔
(مجالس حکیم الامت ‘ص80۔81 ‘ از حکایات و واقعات)
اذان کو خاموشی سے سننے اور اس کا جواب دینے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کے فضائل بھی احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک صاحب نے حضرت حکیم الامت سے سوال کیا کہ تلاوت قرآن کے دوران اگر اذان شروع ہو جائے تو کیا تلاوت چھوڑ کر اذان سنیں یا تلاوت جاری رکھیں؟اس پر آپ نے فرمایا کہ اذان کا ادب تو یہی ہے کہ اذان سنی جائے اور اس کا جواب دیاجائے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم فرماتے ہیںکہ میں ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا جب کھانے کاوقت آیا تو دستر خوان لگایا گیا’ کیا دیکھا کہ اچانک ایک کوا آیا اور ایک روٹی اپنی چونچ میں اٹھا کر اڑا’ یہ منظر دیکھ کر میں اس کے پیچھے چلنے لگا’ آخر یہ کیا ماجرا ہے تو دیکھا کہ وہ کوا ایک جگہ اترا جہاں ایک شخص جس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں زندگی سے مجبور ہو کر بے حس پڑا ہے تو کوے نے روٹی کو اس کے چہرے پر ڈال دیا تو وہ شخص روٹی کھانے لگا۔ اس واقعہ سے خدا کی بے انتہا قدرت اور وسعت رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔بے شک رزق پہنچانے کا ذمہ اللہ نے اٹھایا ہے وہ پتھر کے اندر بھی کیڑے کو اس کا رزق پہنچا تا ہے ۔
(سبق آموز واقعات)