بھارت کی امن دشمن پالیسیوں سے نالاں پڑوس

وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بجا طورپر درست ہے کہ ہندوتوا کے خمیر سے جنم لینے والی مودی سرکار کے عزائم ہمسایوں کے لئے مسلسل خطرہ ہیں انہوں نے اس ضمن میں نیپال،بنگلہ دیش اور چین کے ساتھ حالیہ سرحدی تنازعات کا بھی حوالہ دیا انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کارروائیاں چوتھے جینواکنونشن کے تحت جنگی جرائم میں آتی ہیں۔مودی حکومت سے صرف اقلیتوں کو بھی نہیں علاقائی امن کو بھی خطرہ ہے۔امرواقعہ یہ ہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے خطے میں پیدا شدہ صورتحال تشویشناک ہے۔بدھ کو آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارت کا جاسوس ڈرون پاک فوج نے مار گرایا۔پڑوس ممالک سے کشیدگی کے حالیہ واقعات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے ساتھ خود بھارت کے اندر ہندوتوا کی لہر نے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔کورونا جیسی موذی وبا سے پیدا شدہ صورتحال میں بھارت کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مسلمان مریضوں کا علاج معالجہ نہ کرنے کے ضمن میں مرکزی مودی حکومت اور مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتوں نے جس طرح طبی عملے اور ہسپتال مالکان پر دبائو ڈالا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔بھارتی حکام اور مختلف ریاستی اداروں کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ عدم استحکام کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔علاقائی امن کو لاحق خطرات کے تدارک کے لئے بین الاقوامی قوتوں نے کسی تاخیر کے بغیر مئوثر کردار ادا نہ کیا تو خطرہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں جنگ کا دروازہ کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔بھارتی ہٹ دھرمی اور علاقائی امن کے لئے خطرات پیدا کرتی پالیسیوں پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تمام تر اشتعال کے باوجودپاکستان صبر کا دامن نہیں چھوڑے گا۔سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان یا کوئی دوسرا پڑوسی ملک بھارت کے جارحانہ اقدامات کو کب تک امن کی خاطر نظر انداز کرے گا؟بالخصوص اس صورت میں جب بین الاقوامی تعلقات کے چند معروف ماہرین ان خدشات کا اظہار بھی کر ہے ہیں کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ حالیہ بھارتی کھٹ پٹ مخصوص حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس ضمن میں اسے امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے جوبعد از کورونا اپنے نیو ورلڈ آرڈرکے نفاذ میں جنوبی ایشاء میں مانع ہونے والے ملکوں کو جنگی دبائو میں رکھنا چاہتا ہے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے اس تجزیئے اور خطے میں رونما ہونے والے چند حالیہ واقعات کو ملا کر دیکھنے سے بھارتی عزائم اور اس کے سرپرست کے طویل المدتی مقاصد کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔پچھلے ایک ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت میں خوفناک حد تک تیزی کے علاوہ نیپال کی جغرافیائی حدود میں بھارتی سڑک کی تعمیر،بنگلہ دیش سے سرحدی تنازعہ اور چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر منہ پر پڑنے والی چھڑپیں ان خدشات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مودی حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں کے خلاف ریاستی پالیسیوں اور نتائج سے ہٹانے کے لئے ایسے اقدامات کیئے جائیں جن سے اسے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے مناسب وقت مل جائے۔بھارت کے آرمی چیف کے چند حالیہ تندوتیز بیانات اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی میں تیزی آنے سے پاکستان کے خدشات سو فیصد درست ہیں۔مودی حکومت ہندتوا کی بالادستی کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔مودی سرکار کے امن دشمن اقدامات کے جواب میں پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کا صبرو تحمل کا مظاہرہ کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ علاقائی امن واستحکام کی خاطر ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت اس زعم کا شکار ہے کہ اس کی جارحیت کا عالمی دبائو پر نوٹس لے سکنے والے ترقی یافتہ ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی180ارب ڈالر سے زائد کی بھارت میں سرمایہ کاری ہے اور یہ ممالک اپنے مالیاتی وتجارتی مفادات کے تحفظ کے لئے بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کے ارتکاب سے چشم پوشی کریں گے۔عین ممکن ہے بھارت کی سوچ درست ہو لیکن کیا مسلسل جارحیت کے جواب میں پاکستان یا دوسرے پڑوسی ممالک جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ طے شدہ دائمی پالیسی ہے؟اس سوال کا عام فہم جواب یہ ہے کہ یقیناً یہ طے شدہ دائمی پالیسی تو ہے لیکن تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اگر پڑوسی ممالک نے جوابی اقدامات کئے تو نتیجہ کیانکلے گا۔اس وقت خطے میں پاکستان،چین اور بھارت تینوں ایٹمی طاقتیں ہیں بھارت جارحانہ پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹتا تو نتیجتاً جنگ کا بازارگرم ہوگا اس صورت میں کیا جنگ کو روایتی ہتھیاروں تک محدود رکھا جاسکے گا؟مندرجہ بالا سوال پر بھارت سے زیادہ ان عالمی طاقتوں کو غور کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی ومالیاتی مفادات کی وجہ سے بھارت کے جرائم اور امن دشمن اقدامات سے چشم پوشی کیے ہوئے ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ انتباہ درست ہے کہ بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہوگا۔بھارتی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ اس وقت جنگی جنون کے مظاہرہ سے خطے کے اربوں انسانوں کے مسائل بڑھیں گے باقی ماندہ دنیا کی طرح جنوبی ایشیاء میں اس وقت کورونا وباء سے پیدا شدہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ خطے کے تمام ممالک اپنے دستیاب وسائل سے اپنے اپنے عوام کو نہ صرف کوروناوائرس کی وباء سے محفوظ رکھیں بلکہ اس وباء کی بدولت ہونے والے لاک ڈائون سے پیدا شدہ سماجی،معاشی مسائل سے لوگوں کو نجات دلانے کے لئے مئوثر اقدامات کریں۔یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ کورونا وباء کے ان دنوں میں بھارت جنگی جنون کے بڑھاوے کی جس راہ پر گامزن ہے اس کا مقصد درحقیقت یہ ہے کہ خود بھارتی عوام داخلی صورتحال اور مسائل سے توجہ ہٹا کر مودی سرکاری کی جارحانہ پالیسیوں کو قومی مفاد سمجھ کر اس جنگی جنون میں حصہ ڈالیں۔بھارت کے امن پسند شہریوں اور اہل دانش کا فرض ہے کہ وہ مودی سرکار کے جنگی جنون کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔