درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں

سابقہ فلمی اداکارہ اور ہیروئن دیبا خانم کیلئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دو لاکھ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، صدر مملکت نے ان سے رابطہ کر کے ان کی خیریت بھی دریافت کی ہے، جس پر ایک طرح سے اظہار اطمینان ہی کرنا چاہئے کہ ہمارے حکمرانوں کو فنکاروں کا کتنا احساس ہے مگر دوسری جانب خیبر پختونخوا کے فنکاروں کو لاک ڈائون کے دوران اس سلوک کا بھی مستحق نہیں گردانا گیا جو عام دیہاڑی دار مزدوروں کیساتھ روا رکھتے ہوئے انہیں حکومت کی جانب سے پیکج کا مستحق گردانا گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بیروزگار ہوجانے والے فنکاروں کیلئے تو امداد کا اعلان کیا گیا جبکہ ان میں سے کچھ فنکار اب بھی مختلف ٹی وی چینلز کے فکاہیہ پروگراموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر لیتے ہیں البتہ سٹیج ڈراموں کے فنکاروں نے عید سے پہلے حکومت پنجاب سے سٹیج پروگراموں پر سے بھی عام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی طرح پابندی اُٹھانے کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ جب حکومت نے دیگر شعبوں پر سے محدود اندازمیں(ایس او پیز کے تحت)پابندی ہٹا دی ہے تو سٹیج شوز کو بھی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاہم ان کی اس بات سے حکومت پنجاب نے شاید اتفاق نہیں کیا اس لئے فنکاروں کے مطالبے پر کان نہیں دھرے گئے۔ البتہ جہاں تک خیبر پختونخوا کے فنکاروں کا تعلق ہے یہ بیچارے تو گزشتہ کتنی ہی مدت سے ٹی وی پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے مکمل بیروزگاری کی کیفیت سے دوچار ہیں، رہی سٹیج پروگراموں کی بات تو پشاور کے واحد ثقافتی مرکز نشترہال میں سٹیج ڈراموں، موسیقی اور مزاحیہ پروگراموں پر قدغنوں کی وجہ سے ان فنکاروں کے گھروں کے چولہے ویسے ہی بند ہیں، ایسی صورت میں یہ بیچارے نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں، نہ ہی ان میں اتنا حوصلہ ہے کہ جس طرح حالیہ دنوں میں ایک کرکٹ کوچ نے بیروزگاری سے تنگ آکر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کیلوں کا ٹھیلہ لگا کر روزی روٹی کا بندوبست کیا، خیبر پختونخوا کے معاشرے میں تنگ نظری اور عزت نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس قسم کے معمولی کاموں کی جانب بہ مشکل ہی کوئی راغب ہو سکتا ہے کہ آخر ”لوگ کیا کہیں گے؟”۔ محولہ کرکٹ کوچ کی خبر میڈیا پر سامنے آنے کے بعد شاید لاہور قلندر والوں نے موصوف سے رابطہ کر کے اس کی خدمات حاصل کرنے کا عندیہ دیدیا ہے، تاہم ہمارے فنکار معاشرتی قدغنوں اور روایتوں کے طفیل نہ تو سبزی فروٹ کے ٹھیلے لگا سکتے ہیں، نہ انہیں کوئی دوسرا ایسا فن آتا ہے جس کی وجہ سے کوئی ان کو ملازمتوں کی آفر کر کے روزگار فراہم کرے یعنی بقول غلام محمد قاصر
کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے وقائع نگار نے جو خبر دی ہے اس کے مطابق محکمہ ثقافت کی طرف سے فنکاروں کے پیہم اصرار پر لاک ڈائون کے حوالے سے جو سمری ریلیف پیکج کی فراہمی کیلئے بھیجی تھی اسے وزیراعلیٰ نے مسترد کر دیا ہے، فنکار برادری نے حکومت کے اس فیصلے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فنکاروں کو فوری ریلیف پیکج کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دیگر لوگوں کی طرح فنکار برادری بھی شدید متاثر ہوئی ہے، محکمہ ثقافت کے ذرائع کے مطابق لاک ڈائون کے دوران محکمہ ثقافت نے صوبہ بھر کے فنکاروں کو ان مشکل حالات میں ریلیف کی فراہمی کیلئے جو سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کی تھی وہ دو ماہ تک وزیراعلیٰ کے پاس پڑی رہی اور گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے سمری سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، اخبار کے مطابق صوبائی وزیرثقافت شوکت یوسفزئی کا موقف جاننے کیلئے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موبائل اٹینڈ نہیں کیا۔ یہاں ایک بہت پرانا شعر یاد آرہا ہے،
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ایک خبر اور اس حوالے سے اس پر تبصرے سامنے آتے رہے ہیں کہ ملک کے ایک تعمیراتی کمپنی کے ٹائیکون سے پشاور کے ایک فنکار نے کسی ذریعے سے رابطہ کر کے فنکاروں کی مالی امداد کا بہت بھاری پیکج حاصل کیا مگر مبینہ طور پر جو فہرست امداد حاصل کرنے والوں کی مرتب کی گئی اس میں نہ صرف حاضر سروس گریڈ 17سے 19تک کے ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جو نہ صرف معقول تنخواہ لیتے ہیں بلکہ پی ٹی وی پر باقاعدہ پروگرام کر کے بھی اضافی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ متعلقہ پرائیویٹ پیکج کو تو چند لوگوں نے مبینہ طور پر اندھا بانٹے ریوڑیاں بنا کر رکھ دیا، حد تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی جو اچھے سرکاری ملازمتوں کیساتھ وابستہ ہونے کے علاوہ پی ٹی وی سے بھی معقول آمدن رکھتے ہیں اور نہایت ڈھٹائی کیساتھ انہوں نے بھی پیکج سے بھرپور استفادہ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس تعمیراتی ٹائیکون کو اپنے دئیے ہوئے پیکج کے حشر کا معلوم ہوگا تو اس کی نظر میں پشاور کے فنکاروں کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ تاہم وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ عام فنکاروں کی مالی امداد کے بارے میں ضرور سوچا جائے، جن کے گھروں میں بیروزگاری کے جنگل اُگ رہے ہیں اور عزت نفس کی وجہ سے ہاتھ پھیلانے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔
کچھ اب کے دھوپ کا ایسا مزاج بگڑا ہے
درخت بھی تو یہاں سائبان مانگتے ہیں