میاں جی سے ایک ملاقات

عید کا دن ملنے ملانے کا دن ہوتا ہے بچے اپنی عیدیوں اور کھلونوں میں مگن ہوتے ہیں اور بڑے ایک دوسرے سے مل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو عید کی سب سے بڑی خوشی اپنے میٹھے پیاروں سے ملنا ہی ہوتا ہے۔کسی نے آپ کی طرف آنا ہوتا ہے اور کسی کی طرف آپ نے جانا ہوتا ہے ۔ ہمارے میاں جی صاحب بھی عید کے دن بڑے جوش و خروش کے ساتھ سب کے ساتھ تین مرتبہ باقاعدہ گلے ملتے ہیں ان کا تین مرتبہ معانقہ کرنا ہمیں بڑا لطف دیتا ہے کیونکہ فی زمانہ لوگ صرف ایک ہی مرتبہ دوسروں کو گلے لگاتے ہیں اور اس میں بھی اتنی احتیاط کرتے ہیں کہ ان کے کپڑوں کی استری خراب نہ ہو ہم نے بھی ڈرتے ڈرتے میاں جی سے معانقہ کیاوہ جب عید ملنے آتے ہیں تو پھر مزے مزے کی باتیں کرتے ہیںانھیں واپس جانے کی کوئی جلدی نہیں ہوتی۔وہ میٹھے مشروب بڑے شوق سے پیتے ہیں اور ہر آنے والے کو کہتے ہیں کہ ہم اسی برس کے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک سارے دانت سلامت ہیں اب بھی گنا اپنے دانتوں سے چھیل کر کھاتے ہیں۔ شوگر کی کیا مجال ہے کہ ہمارے قریب پھٹکنے کی جرات بھی کر سکے۔ بلڈ پریشر کو تو ہم جانتے ہی نہیں کہ کس چڑیا کا نام ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ میاں جی آپ کی سدا بہار صحت کا راز کیا ہے تو وہ ہنس کر کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے ہم اسے اپنے نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں۔ آج ہمارا طرز زندگی کچھ اس قسم کا ہوگیا ہے کہ جسے دیکھیے ٹینشن میں مبتلا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے لیے لوگوں کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جیسے مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، پیسے کی قدر میں کمی ، امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اسی طرح کے دوسرے مسائل ۔ لیکن ہمارے بہت سے مسائل ایسے ہیں جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ہم سادگی نہیں اپناتے، پرتکلف زندگی گزارنے پر جان دیتے ہیں، ہمیں اپنے نام و نمود کی بڑی فکر رہتی ہے۔ رسم و رواج پر تو ہم جان دیتے ہیں ۔ یہ سب کچھ پورا کرنے کے لیے ہمیں اس تیز رفتار جدید دنیا کے ساتھ بھاگنا پڑتا ہے ۔ ہم سب کے لیے اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لوازمات پورے کرنا تو ممکن نہیں ہوتا اس لیے اس کے ساتھ بھاگتے بھاگتے ہماری سانس بہت جلد پھول جاتی ہے یہ کتنا اچھا ہو کہ ہر آدمی اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلائے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کرے اپنی مرضی سے زندگی گزارے پھر میاں جی خود ہی قہقہہ لگا کر کہنے لگے یار یہ باتیں کہنے میں تو بڑی آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنا بہت مشکل ہے مرد بیچارہ اکیلا تو نہیں ہے وہ تو حوا کی بیٹی کے ساتھ بندھا ہوا ہے وہ اسے کب سر اٹھانے دیتی ہے ہمارے زمانے میںجوان مرد گھر سے بھاگنے کی دھمکی دیتا تو بوڑھا مرنے سے ڈراتا عورت بیچاری اپنی سادگی کی وجہ سے ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہوجاتی مرد اس لیے زیادہ چالاک تھا کہ وہ سارا دن گھر سے باہر رہتا مختلف لوگوں سے ملتا اور حوا کی بیٹی پہلے باپ کے گھر کی چار دیواری کے اندر زندگی گزارتی اور پھر شادی کے بعد خاوند کے گھر کی چار دیواری اس کا مقدر ہوتی اب تو بھائی وہ باتیں خواب و خیال ہو چکی ہیں اب تو ہر شعبے میں خواتین کی کارکردگی دیکھنے کے لائق ہے اب وہ مردوں کی دھمکیوں کو کب خاطر میں لاتی ہیں میرا بیٹا بڑا بھلا مانس ہے سر جھکا کر زندگی گزارنے کا عادی ہے جبکہ میری بہو زبان کی بڑی تیز ہے اس بیچارے کو ایسی جلی کٹی سناتی ہے کہ وہ تڑپ کر رہ جاتا ہے لیکن کیا مجال ہے جو بیوی کے سامنے زبان کھولے !میں کسی وقت بہو کو سمجھانے کی کوشش کرتا بھی ہوں تو وہ مجھے کہتی ہے آغہ جی آپ خاموش ہی رہیے آپ کا زمانہ گزر گیا جن لوگوں نے آپ کے ساتھ گزارا کیا وہ اچھے لوگ تھے آپ کو وقت پر کھانا مل جاتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کیجیے ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے پرہیز کیجیے میاں جی کی باتوں میں بڑا وزن تھا ہم جان گئے کہ میاں جی بھی اپنی بہو کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں رکھتے اس لیے ہم نے موضوع بدلتے ہوئے کہاچھوڑئیے ان باتوں کو وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے آپ نے بڑا اچھا وقت گزارا ہو ا ہے ہمیں اچھی اچھی باتیں بتائیے ہم نے ہمیشہ آپ کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے میاں جی پہلو بدلتے ہوئے بولے آپ نے بالکل صحیح کہا وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے ہمارا زمانہ اور تھا آپ کا زمانہ اور ہے۔
جو باتیں آج سننے میں آرہی ہیں ہمارے زمانے میں کہا ں تھیںہماری زندگی میں سادگی تھی سادہ لباس سادہ کھانا بڑی آسانی سے زندگی گزر جاتی تھی میں اب بھی پیدل چلنے کو ترجیح دیتا ہوں اب جسے دیکھیے قسطوں پر موٹر سائیکل نکلوا کر سڑکوں پر شتر بے مہار کی طرح اڑا جارہا ہے آئے دن حادثات ہو رہے ہیں اگر والدین منع بھی کرتے ہیں تو گھر کے بزرگوں کی بات پر کون دھیان دیتا ہے میاں جی کی باتوں میں یقینا بڑا وزن تھا لیکن گزرے ہوئے وقت کو کو ن واپس لاسکتا ہے؟۔