دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

کون کہتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے، جب ہم نے یہ بات اپنے آپ سے پوچھی تو اندر سے آواز آئی کہ ساری دنیا کہتی ہے۔ کہتی رہے ساری دنیا، ضروری نہیں کہ دنیا یا دنیا والے جو بات کہیں وہ سو فیصد درست ہو۔ دنیا والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان کا چہرہ اس کی دل کی کتاب ہوتا ہے، جس کے جواب میں ہم نے دنیا والوں کی اس بات کو رد کرتے ہوئے بڑے دھڑلے سے کہہ دیا تھا کہ
کون کہتا ہے کتاب دل ہوا کرتا ہے ہر چہرہ
سجے چہرے پہ چہرے ہیں فقط دھوکے پہ دھوکہ ہے
جی ہاں یہ بات ایک تلخ حقیقت ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے اپنے منہ اور ناک پر ماسک چڑھانے سے بہت پہلے لوگ چہروں پر چہرے سجا لیا کرتے تھے، جو چہرہ دل کی کتاب ہوتا ہے کے نظریہ کو باطل، نفی یا غلط ثابت کر دیتا تھا، ایسا آج کل بھی ہوتا ہے لیکن چہرہ دل کی کتاب ہوتا ہے کا محاورہ یا ضرب المثل آج بھی جوں کی توں دہرائی جاتی ہے
بجا کہے جسے عالم بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
کے مصداق دنیا والوں کی یہ بات کسی حد تک نہ سہی بہت حد تک درست ہوگی لیکن جہاں تک اپنی ذات کا تعلق ہے ہم نے چہروں پر چہرے سجانے والوں سے اتنے دھوکے کھائیں ہیں کہ گزرتے وقت نے ہم پر یہ آفاقی سچ آشکارا کر دیا کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
اور جب بدلتے رنگوں والے آسمان سے اس ظالمانہ رویہ کے متعلق استفسار کیا جاتا ہے یا ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تو نے کہا کچھ اور کیا کچھ، دی پچکار اور مار دیا ڈنڈا، دکھایا ڈنڈا اور گھونپ دیا خنجر تو ہمارے اس احتجاجی لہجے کے جواب میں جو جواز پیش کیا جاتا ہے وہ اس ہی پرانے اور گھسے پٹے جملہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔ کچھ سوچو اور اگر سوچ نہیں سکتے تو خدا کا خوف کرو، خدا کے بندو! تم کتنی آسانی اور بے دردی سے جنگ اور محبت میں ہر ناجائز کو جائز قرار دے دیتے ہو۔ جب تم ناجائز منافع خوری کر رہے ہوتے ہو۔ رشوت خوری یا کسی کی حق تلفی کر رہے ہوتے ہو انصاف عدالت اور تعلیم تک کو کوڑیوں کے مول بیچ رہے ہوتے ہو تو تم مجھے یہ بتاو کہ اس وقت تم کونسی جنگ لڑ رہے ہوتے ہو یا کس محبت کا شکار ہوکر ناجائز کرتوتوں کو جائز کاموں کے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہو۔ جنگ وجدل، شر فساد نام ہے قتل وغارت کا جو ایک انسانیت سوز عمل ہے۔ امن اور سکون کی ضد ہے، اس حوالہ سے ہم جنگ وجدل کو کسی نیک عمل کا نام دے ہی نہیں سکتے۔ کسی کا خون بہانا یا اس سے اس کی زندگی چھین لینا یا زندگی کو گزند پہنچانا کہاں کی انسانیت اور کدھر کا انصاف ہے۔ اگر یہ بات درست کہہ رہا ہوں تو پھر جنگ وجدال کہاں کا جائز عمل ہوا، بقول کسے
جنگ خود ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلہ کا حل دے گی
یہ جو امریکہ دنیا بھر پر اپنی دھاک بٹھانے کی غرض سے نت نیا اسلحہ بنا کر اس کی مارکیٹنگ یا کھپت کیلئے ہر جگہ شر اور فساد کا ماحول بناتا رہا۔ اور پرائی شلوار میں اپنی ٹانگ اڑا کر دنیا بھر کا امن وسکون تباہ کرکے اپنے آپ کو امن وسکون کا ٹھیکیدار کہتا رہا یا پاکستان کی شہ رگ کاٹنے کیلئے بغل میں چھری رکھ کر ہی نہیں لہرا لہرا کر مظلوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا بھارت کشمیریوں کے انسانی حقوق کو پامال کرتے وقت بھلا کونسا جائز کام کر رہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو قانونی شکل دینے کیلئے قانون کی جو دھجیاں اُڑائیں اسے کون جائز قرار دیگا، لداخ پر بھارت کے ناجائز قبضہ کا حساب لینے گراں خواب چینی اس کے اندر در آئے ہیں، اگر بھارت کسی کے حقوق کو غصب کر ناجائز سمجھتا ہے تو وہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے کی غلط بیانی کو درست ثابت کرنے کی حماقت کررہا ہے، کسی کے حقوق کو جنگ وجدل اور شر وفساد کے ذریعہ پامال کرنا ناجائز ہی نہیں قابل تعزیر جرم ہے، جنگ وجدل، شر وفساد، نفرتوں اور کدورتوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں جبکہ محبت فاتح عالم امن وسکون کی پیداوار ہے، عالمی سطح کے سیاسی شعبدہ بازوں کی زبان سے یہ جھوٹ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
جہاد زندگی میں یقیں محکم اور عمل پیہم محبت فاتح عالم کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں لیکن دوسری جانب محبت کو بدنام کرنے والوں کے رویہ کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ
محبت کا دم بھرنا آساں نہیں ہے
وہ بنگلہ وہ گاڑی رقم دیکھتے ہیں
محبت لالچ خودغرضی یا شہوت کا نام نہیں، چہ جائیکہ ہم جنگ اور محبت میں سب جائز ہے قسم کی باتیں کرنے کو درست تسلیم کرنے لگیں، یاد رکھیں کہ بغل میں چھری رکھ کر رام رام کرنے سے محبتیں پروان نہیں چڑھتیں، محبت نام ہے آدمیت کے احترام کا محبت کہتے جذبہ شوق کی انتہا کا، سالک اور عارف بنانے والے ان پاکیزہ جذبات کا جن پر فرشتے بھی ناز کرتے ہیں ، محبت کرنے والوں کی تر دامنی کو بے چارے شیخ اور برہمن کب سمجھ سکتے ہیں، جبھی تو محبت کرنیوالے یہ بات ببانگ دہل کرتے رہتے ہیں کہ
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں