مودی سرکار کا ایک سال

مودی سرکار نے اپنی دوسری مدت کا پہلا سال مکمل کرلیا، اس ایک سالہ حکومتی دور میں مودی کو عملاً ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، پھر بھی حیرت ہے کہ بی جے پی اور اس کے حلیف کی طرف سے حکومت کے کارنامے گنوائے جا رہے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، مودی حکومت نے دوسری مدت کے پہلے سال کے ابتدائی مہینوں میں اپنے انتہاپسندانہ نظریات کے ایجنڈے کو تیزرفتاری سے روبہ عمل ہونے کی سعی لاحاصل کی، اس ایک سال کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ متشددانہ نظریاتی ایجنڈہ کی تکمیل کی تگ ودود میں مودی حکومت نے منافرت کو فروغ دیا اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیا، عوام کو مذہبی ٹکڑیوں میں بانٹنے کے سوا کچھ بھی تو نہ ہوا، جس سے بھارت کی یکجہتی کو زبردست نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر مسلمانوں کو مودی سرکار میں ہدف بنایا گیا جس کے اثرات دوسری بھارتی اقلیتوں پر بھی نمودار ہوگئے ہیں کیونکہ دوسری اقلیتیں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ مودی سرکار جس طرح مسلمانوں کو تنگ گلی میں دھکیل رہی ہے کل ایسا سلوک ان کیساتھ بھی کیا جائے گا، بی جے پی نے جیسے ہی دوسری مدت کا اقتدار سنبھالا اس کیساتھ ہی امیت شا جیسے انتہا پسند ہندو کو مرکزی وزیرداخلہ کے عہدے پر فائز کر دیا گیا جس کے حلف اُٹھانے کیساتھ ہی بھارت میں نفرت انگیز متنازعہ ایجنڈہ پر عمل درآمد شروع ہوا، اس ایک سال میں رام مندر کا سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا، تین طلاق کا مسئلہ پر قانون سازی کر دی گئی، شہریت ترمیمی بل نافذ کر دیا گیا اور ساتھ ہی این آر سی پر عمل درآمد کے منصوبے بھی بنا ڈالے گئے جو حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا، اس پر عوام کا شدید ترین احتجاج دیکھ کر مودی سرکار مکر گئی کہ اس نے اس مسئلہ پر کبھی غور ہی نہیں کیا اور نہ این آر سی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امیت شا نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جگہ جگہ بیانات دئیے کہ این آر سی نافذ ہوگا بھارت جو دنیا بھر میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہے مودی کے اس دور میںجمہوریت کی مٹی اس طرح پلید کی گئی کہ انتہائی اہمیت کے فیصلے بھی کسی مباحث اور غور وخوض کے بغیر چند گھنٹوں میں ہی منظور کر لئے گئے، مودی سرکار کا دوسرا دور تاریخ میں ہندوتوا کے مطالبہ کی تکمیل کے دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ مودی سرکار نے لوک سبھا میں اپنی عددی برتی کو پوری طرح آمرانہ طور پر استعمال کیا۔ بھارت کے دوستوں کی دھجیاں بکھر کر رکھ دیں، آئین کے آرٹیکل370 کو حذف کر دیا اور اس طرح مقبوضہ جموں کشمیر ولداخ کی خصوصی حیثیت کو ہڑپ کرلیا، اسی طرح بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی جو بی جے پی کے انتخابی منشور کا اہم حصہ ہے، پارلیمنٹ میں محض ایک قرارداد کے ذریعے جموں وکشمیر کو دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں منقسم کر دیا، اسی طرح پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متنازعہ شہریت کا بل بھی منظور فٹافٹ کرایا گیا، تین طلاق کا قانون منظور کر کے مسلم برادری میں ہلچل مچا دی، ان حرکات پر بی جے پی کے نائب صدر رونئے سہسرا نوڈھے ادعا کر رہے ہیں کہ مودی حکومت کی دوسری میعاد کا پہلا سال وعدوں کی تکمیل کا رہا ہے، مسلمانوں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگا کر ان کو معاشی وا قتصادی طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی گئی اس کیساتھ ہی ان پر بے پناہ تشدد کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا، حتی کے تبلیغی جماعت جو ملکی یا دنیا کے کسی بھی خطے کی سیاست میں مخل نہیں ہوا کرتی اس کو بھی نشانہ پر لے رکھا ہے، بھارتی سیکورٹی تنظیم سی بی آئی نے تبلیغی جماعت کے منتظمین کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔ سی بی آئی نے چندہ، مالی معاونت اور بیرونی عطیات کے حوالے سے حکومت کو بے خبر رکھنے کے الزامات لگا کر اپنی تحقیقات شروع کیں ہیں، واضح رہے کہ تبلیغی جماعت کے دہلی مر کز میں ہونے والے اجتماع میں کچھ ارکان کے کرونازدہ ہونے پر جماعت کے معاشی امور اور معاملات کی تحقیقات کا عمل شروع کیا ہے، بھلا یہ بھی کوئی تک ہے کہ اگر کچھ افراد میںکوئی موذی مرض یا وباء درآئے تو اس کے مالی معاملات اور روزگار کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی جائے، حد تو یہ ہے کہ مودی حکومت نے بیرون ملک سے آنے والی جماعتوں کے ارکان کیخلاف بھی مقدمات درج کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اگر مودی سرکار کو جمہوریت کش حکومت کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ اقلیتوں کے حقوق کو غصب کیا گیا، اس دور میں جمہوریت کا گلہ گھونٹنے کی سعی کی گئی اقلتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور ملک کی معیشت تباہ کر دی گئی، عوام کو خاص طور پر اقلیتی عوام کی اکثریت کو خط غربت سے کہیں نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا، تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو دینے کی بجائے ایکسائز ڈیوٹی میں تبدیل کر دیا گیا، کئی سرکاری اداروں میں خانگی سرمایہ کاری کے در کھول دئیے گئے، طاقت کا اس قدر گھمنڈ ہوا کہ کشمیر کی طرح چین کے سرحدی علاقوں کو ہڑپ کرنے کیلئے فوجی قوت کو استعمال کیا مگر اسے منہ کی کھانی پڑی، کشمیر کے مسئلے پر امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جس کو مودی نے بڑی حقارت سے ٹھکرا دیا تھا اب جب چین کیساتھ جھڑپ میں عبرتناک شکست کا سامنا ہوا تو ان کے جگری ٹرمپ نے وہی چال چلی جو انہوں نے پاکستان کیساتھ کھلواڑ کیا تھا یعنی کشمیر کے مسلئے پر امریکی ثالثی کی پیشکش کی تھی اس مرتبہ ٹرمپ نے چین اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جس کو چین نے اس حقارت سے ٹھکرایا کہ یقینی طور پر بھارتی وزیراعظم کا مغز دہی بن کر رہ گیا ہوگا اور دماغ بھنبھنا کر رہ گیا ہوگا، ان تمام حالات کے باوجود چین کے روئیے میں بردباری پائی گئی چین کے وزیرخارجہ نے بھارت کو سبق سکھانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا کہ سرحد پر صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے جس پر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ وہ بھارت اور چین کے درمیان مصالحت کرانے کو تیار ہیں۔
(باقی صفحہ7بقیہ نمبر1)